کالم/بلاگ

ادھورا لاک ڈاؤن

31 دسمبر 2019 سے چائنہ میں کرونا وائرس کی خبریں پھیلنا شروع ہوئی. یہ کیا مرض ہے کیسے پھیل رہا ہے اور اچانک اموات کیسے ہو رہی ہیں یہ سمجھنے اور لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرنے میں چائنہ کو تقریباً تین ہفتے لگے. 25 جنوری 2020 کو چائنہ کے 13 شہروں میں لاک ڈاؤن کا آغاز ہوا. تاحال چائنہ میں 82719 کرونا وائرس کے کیس رجسٹر ہوۓ جن میں سے 4632 اموات جبکہ 77029 مریض صیحتیاب ہو چکے. اب تک 210 ممالک کرونا وائرس کا شکار ہو چکے اور 2306588 مریض پوری دنیا سے رپورٹ ہو چکے جن میں سے 158705 اموات ہو چکی. پاکستان میں تاحال 7638 کرونا مریض رپورٹ ہوۓ جبکہ جبکہ 143 اموات ہو چکی ہیں. 23 مارچ 2019 کو سندھ سے پاکستان میں لاک ڈاؤن کا آغاز ہوا تھا اسکے بعد باری باری تمام صوبوں اور وفاق میں لاک ڈاؤن کر دیا گیا. اطلاعات کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان شش و پنج میں تھے کہ لاک ڈاؤن کریں یا نہ کریں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی 25 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے اس لیے وہ لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہو سکتے لوگ بھوکے مر جائیں گے. لیکن پاک آرمی اور ادارے انہیں بار بار وارننگ دے رہے تھے کہ لاک ڈاؤن نہ کیا تو بدترین خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے. بحرحال جیسے بھی ہوا لاک ڈاؤن ہو گیا اور حکمران کرونا مریض اور لاشیں گننے پر لگ گۓ پھر کہیں تیس مارچ 2020 کو جا کر خیال آیا کہ کرونا امدادی فنڈ کا اعلان کیا جاۓ ساتھ سیاست چمکانے کو ٹائیگر فورس بنانے کا بھی اعلان کر چھوڑا. 1200 ارب کے پیکیج کا اعلان ہوا اور یوٹیلٹی سٹورز کا معاملہ تو پہلے ہی چل رہا تھا. بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جس میں 45 لاکھ لوگ پہلے ہی رجسٹرڈ تھے اسے 70 لاکھ کرنے کا پلان کیا گیا. اور 8171 نمبر پہ میسج کرنے کو کہا گیا جس کے میسج پر بھی پیسے کٹتے تھے جب 6 کروڑ سے زائد لوگوں نے میسج کر لیے اور ہم نے سوشل میڈیا پہ کیمپین کی کہ کم از کم یہ میسج مفت ہونا چاہیے تب یہ میسج مفت کر دیا گیا. وزیراعلی کی جانب سے 4000 روپے امداد اور راشن پیکج کا اعلان کیا گیا. اللہ جانتا ہے تاحال حکومت کی جانب سے کسی کو راشن ملتے نہیں دیکھا. بحرحال 12000 روپے والی امداد بینظیر انکم سپورٹ نہیں سوری احساس کفالت پروگرام کہ میسج لوگوں کو ملنا شروع ہو چکے ہیں جس کے لیے لوگ مقرر کردہ سینٹر پہ جاتے ہیں کچھ کامیاب لوٹتے ہیں جبکہ اکثریت کے انگوٹھوں کی تصدیق ہی نہیں ہو پاتی اور وہ بے چارے امداد کی آس میں چکر پہ چکر کاٹ رہے ہیں.
دوسری جانب ملک میں آٹا چینی چوروں اور ذخیرہ اندوزوں کا راج ہے جس کی رپورٹ لیک ہو گئی اور جہانگیر ترین کا جہاز خان صاحب کے ہاتھ سے نکل گیا لیکن خان صاحب نے مشکل حالات میں فوری فیصلہ کیا اور علیم خان کو دوبارہ وزارت دے دی کہ جہانگیر ترین کی کچھ تو کمی پوری کریں گے صاحب. رہی بات عوام کی تو برے حالات ہیں غربت بے روزگاری بھوک اور لاک ڈاؤن سے لڑتی عوام.
جن کو نہ کوالٹی ماسک میسر ہے نہ سینٹائزر خریدنے کی سکت ہے انہیں تو بس پیٹ بھرنے کے لالے پڑے ہیں. ادھر آپ کا کہنا ہے کہ کرونا سے 190 لوگ مرنے چاہییں تھے اور حوصلہ آپ یہ دیتے ہیں کہ صرف ڈیڑھ انسان مرتا ہے. معذرت کے ساتھ حکومتی حلقوں اور بیانات میں شدید کنفیوژن نظر آتی ہے اس لیے پہلے زرا خود کو سمجھا لیں کہ نہ رونا ہے نہ گھبرانا ہے. ورنہ عوام تو پہلے ہی رونے کو ہے.
خان صاحب کیا ہی اچھا ہوتا کہ اگر آپ کا اور آپ کے مشیروں کا دماغ کام کرتا اور آپ لاک ڈاؤن کے ساتھ ہی امدادی فنڈ کا بھی اعلان کرتے. کیا ہی اچھا ہوتا کہ آپ ان دنوں میں اشیاء خوردنی سستی کرتے. اب کوئی سرکاری ریٹ نہ بتاۓ کیوں کہ بازار میں کسی ایک چیز کا ریٹ بھی سرکاری ریٹ لسٹ سے نہیں ملتا. جبکہ ہم شکایات بھی کرتے ہیں اور آپ کی تقریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو بخوبی ادراک بھی ہے تبھی ہر تقریر میں ذخیرہ اندوزوں کو پیار بھری دھمکیاں دیتے ہیں کہ سخت ایکشن ہو گا لیکن کب ہو گا یہ اللہ جانے. ڈاکٹروں کے پاس حفاظتی کٹس نہیں, پولیس بھی حفاظتی سامان سے محروم ہے اکثر جگہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ ہسپتال میں ڈاکٹرز اور عملے میں کرونا پھیل رہا ہے. اور حکمرانوں کی کنفیوژن ختم نہیں ہو رہی کہ لاک ڈاؤن میں سختی کرنی ہے یا نرمی کرنی ہے.
پاکستان میں کرونا کیسے پھیلا ذلفی بخاری کا قصور تھا یا بے قصور ہم اس چکر میں نہیں پڑتے لیکن خدا کے لیے وہ کام کریں کہ جس سے حقیقی سفید پوش بھی برابر مستفید ہو سکیں کیوں کہ ان میں سے اکثر کے پاس موٹر سائیکل ہے اور کئی غریبوں نے پاسپورٹ بنوا رکھے ہیں جو آپ کی نظر میں امدادی سکیموں کے مستحق نہیں لیکن یقین جانیں وہ مستحق ہیں. لوگوں کی اکثریت عارضی طور پر مستحقین کی لسٹ میں جا چکی ہے لیکن آپ کا احساس کفالت لوگوں کو مستقل فنڈ دے گا. اچھی بات ہے ضرور دیں لیکن انصاف کریں اور عارضی غریبوں کے لیے بھی کچھ کریں. ادارے بند ہیں تنخواہیں نہیں مل رہی لوگوں کو نوکریوں سے جواب مل رہا ہے. کاش کہ آپ نے اداروں کی بات مانتے ہوۓ پہلے 15 دن ہی کرفیو لگا دیا ہوتا تو ہم آج اس مصیبت سے نکل چکے ہوتے. آپ کی بہترین حکمت عملی نے 25 فیصد غریبوں کو 50 فیصد کر دیا ہے اور اب لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد سے امکان ہے کہ کرونا مزید نہ پھیل جاۓ اور کرفیو پہ نوبت نہ آجاۓ وہی کرفیو جو پہلے بیس دن ہونا چاہیے تھا. اللہ نہ کرے اب اگر کرونا کیس بڑھے اور کرفیو کی نوبت آئی تو لوگ کسی صورت برداشت نہ کر سکیں گے. ایک تجویز تھی کہ تمام امدادی سکیموں کے بجاۓ 15 دن کرفیو لگائیں ٹول فری نمبر دیں کہ جس کو جو چاہیے وہ ہوم ڈیلیوری ہو گی. جو افورڈ کر سکتا ہے پیسے دے اور جو پیسے نہیں دے سکتا اسکے لیے راشن امدادی فنڈ سے دیں. کرفیو بھی صرف ان شہروں میں جہاں کرونا کیس رپورٹ ہوۓ ہیں. 15 دن مکمل سختی رکھیں تاکہ یقینی طور پہ کرونا سے چھٹکارہ مل سکے اور اس ادھورے لاک ڈاؤن سے لوگوں کو جلد نجات ملے. اب تو آئی ایم ایف سے ریلیف بھی مل گیا اور امدادی فنڈ بھی اس لیے کرونا کو بچاۓ رکھنے کی ضرورت باقی نہیں رہی. لحاظہ اس غریب قوم کے حال پہ رحم کریں.
ہم دعا ہی کر سکتے ہیں اللہ ہی ہے جو ہمیں اس عذاب سے نکالے. اللہ جلد اس آفت سے چھٹکارہ دے. آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button