انٹرنیشنلاہم خبریں

تیز دھوپ سے کرونا کا سے خاتمہ۔۔

امریکی ماہرین کے دعوے پر ڈبلیو ایچ او نے حقائق بیان کر دیئے

واشنگٹن (ویب ڈیسک)امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ تیز دھوپ کورونا وائرس کو تیزی سے ختم کرتی ہے،تاہم اس تحقیق پر ابھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکی ہوم لینڈ سیکورٹی کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے مشیر ولیم برائن کا کہنا تھا کہ دھوپ میں موجود بالائے بنفشی شعاعوں کا کورونا وائرس پر زبردست اثر دیکھا گیا ہے،

موسم گرما میں وائرس کے پھیلاو میں کمی ہو سکتی ہے۔

سائنسی اور طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں کہ ہوم لینڈ سیکورٹی کے ماہرین نے اس تحقیق کے لیے کونسا طریقہ کار استعمال کیاہے،

یہ بھی واضح نہیں کہ تحقیق میں گرمیوں کی دھوپ کا درست متبادل استعمال کیا گیا ہے یا نہیں۔دوسری جانب عالمی ادارہ صحت کی عہدے دار ڈاکٹر مارگریٹ ہیرس نے کہا کہ اس نظریے کو ثابت کرنے کے شواہد ناکافی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم یہ امید نہیں کرسکتے کہ موسم گرما میں کورونا وائرس پر کوئی ڈرامائی اثر پڑے گا۔خیال رہے کہ امریکی ماہرین نے کہا ہے

سورج کی تپش کورونا وائرس کو جلد تباہ کرسکتی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ا دارے کے مطابق امریکہ کی سرکاری لیبارٹری کی رپورٹ منظر عام پر آ گئی جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سورج کی تپش کے ساتھ ہی کورونا وائرس کا خاتمہ ہو سکے گا۔دوسری جانب امریکی محکمہ داخلہ نے اس حوالے سے بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی غیر مطبوعہ معلومات پر بات نہیں کر سکتے۔

جس سے لوگ غلط اور غیر حقیقی نقطہ نظر قائم کریں۔دوسری جانب ماہرین نے کہا کہ گرمیوں میں بھی کورونا وائرس کے خاتمے کا امکان نہیں ۔

واضح رہے کہ اس وقت امریکہ کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ جہاں اب تک کورونا کی وجہ سے 40 ہزار سے زائد افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں جبکہ 7 لاکھ 64 ہزار سے زائد افراد متاثر ہیں۔عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب دنیا بھر میں مریضوں کی تعداد چوبیس لاکھ سے بڑھ گئی جب کہ ایک لاکھ پینسٹھ ہزار سے زائد اموات ہوچکی ہیں اور چھ لاکھ پندرہ ہزار سے زائد مریض صحت یاب ہوئے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button