کالم/بلاگ

جنت کے متلاشی

مدثر سبحانی چیمہ

بے لوث اور اخلاص نیت کے ساتھ اللہ کے بندوں کی فلاح وبہبود ، معاشرے کی اجتماعی ضرورتوں کو پورا کرنے اور انہیں سہولتیںبہم پہنچانا بہت بڑی نیکی ہے۔ بھوکے کو کھانا کھلانا، پیاسے کے لیے پانی کا بندوبست کرنا، نادار اور ضرورت مندافراد کی ضروریات کو پورا کرنا،معذور افراد ،کمزور اور عمر رسیدہ افراد کی مدد، مسکینوںاور یتیموں کی کفالت سب نیکی کے ہی راستے ہیں۔خدمت خلق ایسا عظیم عمل ہے کہ جس کی فضیلت اور تحسین اسلامی تعلیمات کا نمایاں وصف ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پاکیزہ زندگی خدمت خلق کا بہترین نمونہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی تعلیمات میں اپنے پیرو کاروں کو یہی درس دیا کہ وہ ایثار ، ہمدردی، غم خواری وغم گساری اور خدمت خلق کے پیکر بنیں تاکہ معاشرہ نیکی اور بھلائی کا گہوارہ بن جائے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے:جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں مصروف ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری فرمائے گا۔(بخاری)
رفاہ عامہ اور خدمت خلق کے کئی امور عبادت کا درجہ رکھتے ہیں ، جس طرح عبادات تقرب الٰہی کا ذریعہ ہیں اسی طرح رفاہی کاموں سے بھی تقرب الٰہی نصیب ہوتا ہے۔ چھوٹی سی نیکی بھی بسااوقات جنت کا دروازہ کھول دیتی ہے۔
مشہور واقعہ ہے کہ ایک شخص جارہا تھا، راستے میںاس نے دیکھا کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی وجہ سے گیلی مٹی چاٹ رہا ہے۔وہ شخص کنویں میںاترا، اپنا موزہ پانی سے بھرا اور اسے منہ میں لے کر اوپر چڑھ کر کتے کو پانی پلایا۔ اللہ نے اس شخص کی قدردانی کرتے ہوئے اس کو معاف کردیا۔ غور کریں کہ جب چوپایوں کو پانی پلانے پر اتنا اجر ہے تو انسانوں کی خدمت پر کتنا اجر ہوگا۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:تم میں سے بہتر وہ ہے جو دوسروں کو نفع پہنچائے۔
آج موجودہ حالات میں لاک ڈاون اور کورونا کی وجہ سے بے روزگاری نے دیہاڑی داراور مزدور طبقہ کے مالی حالات ابتر کر دیے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے جہاں بہت سی تنظیمیں خدمت خلق کے کام سرانجام دے رہی ہیں ان میں سے ایک الخدمت فاونڈیشن ہے جو1990ء سے بطور رجسٹرڈ این جی او کام کررہی ہے۔ آج اس کا دائرہ کار آفات سے بچاؤ، صحت، تعلیم، کفالتِ یتامیٰ، صاف پانی، مواخات پروگرام جیسے اور دیگر سماجی خدمات تک پھیل چکا ہے۔ الخدمت کو خدمتِ خلق کی ایک نمایاں تنظیم ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور اس کا سب سے بڑا سرمایہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے ہزاروں رضاکار ہیں جو نیک نیتی سے بے سہارا اور ضرورت مند لوگوں کی خدمت میں ہمہ وقت مصروف ہیں۔ بلاتخصیصِ رنگ، نسل، مذہب، ذات، مسلک اور فرقہ عوام کی خدمت میں ہمہ تن مصروفِ عمل ہے۔ ہر کارکن ایک ادارے کی طرح کام کررہا ہے۔
کورونا وائرس کی وجہ سے آج جگہ جگہ انسانیت بھوک و افلاس سے تڑپ رہی ہے اورمدد کو پکار رہی ہے۔ خدمت کے جذبے سے سرشار ہوکر الخدمت فاونڈیشن عوام کی بھرپورانداز میں خدمت کرنے کے لیے میدان عمل میں ہے۔
مشکل کی اس گھڑی میں پورے ملک میں الخدمت فائونڈیشن کے کارکن شہر کے گلی محلوں سے لے کرگنجان آباد علاقوں تک میں بلاتفریق مساجد، گرجا گھروں، مندروں، گردواروں اور امام بارگاہوں میں کورونا وائرس سے بچاؤ سپرے کرتے نظر آرہے ہیں۔نادار اور دیہاڑی دار طبقہ اورخواجہ سراجن کو ہم اللہ کی ایک الگ مخلوق سمجھتے ہیں کو بھی گھر گھر راشن فراہم کرتے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ تیار کھانا، فیس ماسک، ہینڈ سینٹائزر اور بہت سے خدمت کے کام جاری ہیں۔بغیر نام اور بغیر فوٹو سیشن کے بہت سے رحمٰن کے یہ پُراسرار بندے ہیں کہ جنہوں نے دکھی انسانیت کا بیڑہ اٹھایا ہوا ہے۔ یہ ہمہ وقت مخلوق خدا کی خدمت میں خاموشی سے کام کرتے رہتے ہیں اور ان کی خوبی ہے کہ یہ اس وقت کام کرتے ہیں جب سب پیچھے ہوتے ہیں ۔
انفاق فی سبیل اللہ کا معاملہ بڑا عجیب ہے۔ بعض اوقات بڑی بڑی سخاوت کرنے والے اللہ کے ہاں بڑے درجات پاتے ہیں تو کبھی کبھار معمولی حصہ ڈالنے والوں کو بھی سب پر فوقیت حاصل ہو جاتی ہے۔انفاق فی سبیل اللہ کے حوالے سے ایمان کو تقویت دینے والا ایک صحابی کا واقعہ ہے کہ ابوعقیل حضور اکرم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور چند کھجوریں حضور کی خدمت میں پیش کیں۔ پوچھا گیا کھجوریں کہاں سے حاصل کیں تو عرض کیا:ایک یہودی کے ہاں رات بھر محنت مزدوری کی اور صبح جو کھجوریں ملیں،ان میں سے آدھی اپنی بیوی بچوں کو دے دیں اور آدھی آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں۔آپ قبول فرما لیجیے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اس ذات کی قسم،جس کے قبضے میں میری جان ہے،یہ کھجوریں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نظر میں سونے چاندی اور درہم و دینار کے ڈھیر سے زیادہ قیمتی ہیں۔پھررسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس صحابی کے جذبے کو سراہتے ہوئے وہ کھجوریں سامان کے ڈھیر پر بکھیر دیں۔
آپ نے انسانیت کو یہ پیغام دیا کہ سخاوت کے کم یا زیادہ ہونے سے بارگاہ الٰہی میں کچھ فرق نہیں پڑتا بلکہ نیتوں کو دیکھا اور تولا جاتا ہے۔ اس لیے اللہ کی رضا حاصل کرنے کا سب سے بہترین ذریعہ انسانیت کی خدمت ہے۔ جن لوگوں نے اللہ کی رضا کے حصول کے لیے انسانیت کی خدمت کی، اللہ نے ان کے ناموں کو دنیا میں بھی زندہ رکھا اور آخرت میں بھی اجر عظیم عطا کرے گا۔ اس لیے کہ اللہ کو اپنی مخلوق کے ساتھ ہمدردی بہت پسند ہے۔بحیثیت قوم ہم خدمت سے سرشار لوگ ہیں اوراللہ کے نیک بندے ایسے رفاہی کاموں کے بدلے آخرت میں اجر وثواب اور جنت کا حصول چاہتے ہیں۔ خدمت خلق کے لیے آپ کا دل جو چاہے کریں اور اپنا نام مالک الملک کے ہاں اس کی مخلوق کی خدمت کرنے والوں میں لکھوا سکتے ہیں۔
دنیا میں سب سے زیادہ چیریٹی کرنے والی پاکستانی قوم ہے اور پاکستان کے عوام نے ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے معاشرے کی صاحب ثروت شخصیات بھی براہ راست مستحق خاندانوں کی مدد کرکے یا الخدمت فاؤنڈیشن کے ساتھ تعاون کرکے اس کار خیر کا دائرہ کار بڑھا سکتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button