انٹرنیشنلاہم خبریںاہم خبریں

دنیا کا واحد ملک جس نے مکمل طور پر کورونا کو شکست دیدی

ایک بھی ہلاکت نہیں ہوئی اور تمام مریض صحتیاب ہو گئے ، ایکٹِو کیسز کی تعداد صفر ہو گئی

گرین لینڈ (ویوز نیوز) گرین لینڈ کرونا وائرس کو مکمل طور پر شکست دینے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا، شمالی امریکا میں واقع ملک میں وائرس کے باعث ایک بھی ہلاکت نہیں ہوئی، کل 11 مریض رپورٹ ہوئے، جو اب صحتیاب ہو چکے ۔

شوبز نیوز کیلئے کلک کریں

تفصیلات کے مطابق ڈنمارک کے قریب، شمالی امریکا میں واقع ملک گرین لینڈ نے

کرونا وائرس کو مکمل طور پر شکست دے دی ہے۔کرونا وائرس کیسز کے اعداد و شمار بتانے والی ویب سائٹ کے مطابق شمالی امریکا کے ملک میں اب تک کل 11 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، اور تمام ہی مریض اب صحتیاب ہو چکے ہیں، جس کے بعد اب ملک میں وائرس سے متاثرہ ایک بھی مریض نہیں ہے:واضح رہے کہ گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ تصور کیا جاتا ہے، جس کی کل آبادی محض 56 ہزار ہے۔دوسری جانب دنیا بھر میں مہلک کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد16 لاکھ 50 ہزار سے تجاوز کرگئی جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بھی 1 لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والی کی تعداد اب 1 لاکھ 300 ہوگئی ہے ۔ اٹلی اب بھی اموات کی تعداد میں سرفہرست ہے جہاں 18 ہزار279 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔ کرونا وائرس اب بھی دنیا کے مختلف ملکوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے جس سے بڑی تعداد میں لوگ لقمہ اجل بن رہے ہیں۔امریکہ میں کرونا وائرس سے اموات کی تعداد تقریباً 18 ہزار ہوگئی ہے، اس جان لیوا وائرس سے اسپین میں15447 ، فرانس میں12210 ، اٹلی میں18849 ، برطانیہ میں8958 ، چین میں 3336 اور ایران میں 4110 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ امریکہ میں اب تک کورونا وائرس سے 478329 افراد، سپین میں 157222، اٹلی میں 147626، فرانس میں118783، جرمنی میں 119235، چین میں 82885، ایران میں 66220 جبکہ برطانیہ میں 70 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں۔دنیا میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ امریکہ متاثر ہوا ہے۔ جبکہ امریکہ میں نیویارک ابھی تک کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ہے۔ نیو یارک میں کرونا وائرس سے کسی بھی ملک سے زیادہ تباہی مچی ہے۔ جبک عالمی سطح پر اب تک کرونا وائرس سے متاثرہ 369000 سے زائد افراد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں دنیا کے بیشتر ممالک وائرس کو قابو میں کرنے کیلئے لاک ڈاون کی حالت میں جا چکے ہیں، جس باعث عالمی معیشت بری طرح تباہی کا شکار ہوئی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button