کالم/بلاگ

سوشل میڈیا ۔۔۔۔بے لگام گھوڑا

نقش صبا
صبا ممتاز

ماحول کی جدت کو ہم ایجادات کے تناظر میں تو دیکھ سکتے ہیں مگر رویوں میں ہمیں اس کے اثرات بالکل نظر نہیں آتے۔اگر آتے بھی ہیں تو صرف ایک مخصوص طبقے کی سوچ پر ہی جدت انگیز تبدیل نظر آتی ہے۔اسے بھی طبقہ کہنے کی بجائے مٹھی بھر لوگ کہاجائے تو بہتر ہے کیونکہ جوں جوں ہم دور جدید میں داخل ہو رہے ہیں۔ہمارے رویے جمہوری یا انسان دوستی کی بجائے انتہا پسندی کی طرف بڑھ رہے ہیں،وجہ کیا ہے کیونکہ ہم میں کچھ ایسے طبقات ہیں جنکی سوچ انسانیت نوازی کی بجائے مذہبی شدت پسندی کے ساتھ وابستہ ہے۔ان لوگوں نے وسیع تر اخلاقی رویوں کی بجائے محدود سوچ کو رواج دیا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے مفادات مذہب کے سا تھ جڑے ہوئے ہیں۔ا گر یہ اس دائرہ کار سے باہر نکلتے ہیں تو ان کا مفاداتی نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے۔
مذہب ہر انسان کا ذاتی مسئلہ ہے مگر یہ ضروری ہے کہ کسی کے مذہب کو لے کر اس سے نفرت نہ کی جائے،اور اس سے بھی زیادہ یہ ضروری ہے کہ ہم سوشل میڈیا یا کسی بھی فورم پر مذہب کو لے کسی قسم کی بحث کو رواج نہ دیں۔بالخصوص نزاعی معاملات کو نہ چھیڑا جائے۔مذہب سے محبت انسان کے خمیر میں شامل ہے۔۔اسی سے اس کے عقائد بھی بنتے ہیں۔اپنے مذہب اور اس کے عقائد اور
اس سے وابستہ شخصیا ت کا احتر ام نہ صرف اس انسان پر لاگو ہے جو اس مذہب کے ساتھ وابستہ ہے بلکہ دوسرے لوگوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے علاوہ دوسرے لوگوں کے مذہب اور ان کے عقائد کا احترام کریں۔۔یہ اصول ایک آفاقی اصول ہے جو ہر مذہب کے پیروکاروں پر عائد ہوتا ہے۔سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے ہم کہنے کو اکیسویں صدی کے باشندے ہیں لیکن ہمارے رویے پیچھے کو لوٹ رہے ہیں۔کتنی عجیب بات ہے کہ ہم فزیکلی تو دور جدید کے انسان ہیں جسے ہر طرح کی سہولیات میسر ہیں۔ہم اچھا کھاتے ہیں ،ہم اچھا پیتے ہیں۔ہم اس فیشن انڈسٹری کا حصہ ہیں جس کے فیشن ہر روز بدلتے رہتے ہیں۔ہمیں جدید ترین سفری سہولیات میسر ہیں جن کے بارے میں قدیم انسان سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔آئے روز گاڑیوں کے نئے نئے ماڈل ہماری آنکھوں کو چندھیا دیتے ہیں۔ابھی ہم پرانی گاڑی سے پوری طرح لطف اندوز نہیں ہوتے کہ نئے ماڈل کی گاڑی کی کشش ہمیں لبھانے لگتی ہے اور استطاعت رکھنے والے اس وقت تک چین نہیں لیتے جب تک اسے خرید نہ لیں۔۔۔۔ہمارے پاس انٹر نیٹ ہے جس پر ہم اپنی من پسند تفریحات سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔۔۔۔۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس کیا نہیں جو ہمارے ذوق و شوق کی تسکین نہ کر سکے۔۔جو ہماری تنہائی کو دور نہ کر سکے اور جو ہمیں اپنی دلفریب دنیا میں محو نہ کر سکے۔۔پھر کیوں ہم مذہب کو لے کر بحث ومباحثو ں کو رواج دیتے ہیں۔کیوں ہم ایسے نزاعی معاملات کو چھیڑتے ہیں جن سے دوسرے لوگوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔۔یا اذہان میں مذہب کو لے کر شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔۔یہ ہم مذہب کی خدمت کر رہے ہیں یا آسانی پیدا کر رہے ہیں۔مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا۔
ان میں ایک تو وہ لوگ ہیں جوکہ خود کو بہت لبرل سمجھتے ہیں،ان کے لبرل ازم کی تان مذہب پر آکر ٹوٹتی ہے۔۔کہ کیسے لوگوں کی سوچ کو تبدیل کیا جائے اور انہیں اپنا ہم نوا بنایا جائے۔کیا یہ لبرل ازم ہے۔۔حالانکہ لبرل ازم کے تقاضے تو انتہا پسندانہ سوچ سے بالاتر ہو کر سوچنا ہے۔لبرل ازم کی تشکیل جمہوری رویوں سے تشکیل پاتی ہے جس کابنیادی محور ہی جیو اور جینے دو کی بنیاد پر استوار ہے۔جب ہم نزاعی معاملات کو چھیڑتے ہیں تو لازمی طور پر فساد جنم لیتا ہے ۔۔۔گویا ہم نہ جیتے ہیں اور نہ جینے دیتے ہیں۔

معروف ناول نگار بپسی سدھوا کی اس بات کی سچائی کو ہم جھٹلا نہیں سکتے کہ صرف پاکستان میں ہی نہیں،ہر جگہ ماحول مذہبی ہوتا جارہا ہے۔لیکن کاش کہ یہ مذہبی ماحول مثبت سوچوں کے دھارے میں پرویا ہوا ہو۔۔
یہ تو واقعی ہم معاشرے میں دیکھ سکتے ہیں کہ لوگ مذہب کو اپنی سوچوں میں جگہ دے رہے ہیں۔ان میں بھی کئی قسم کے لوگ ہیں،ایک تو وہ جو اپنے مذہبی عقائد کی پابندی میں باقاعدہ ہوتے جارہے ہیں۔ان کے دل میں کسی کے لئے نفرت ہے اور نہ کینہ۔۔ان کا مقصد تو اپنی عاقبت سنوارنا یا ان عقائد پر عمل پیرا ہوکر ایک اچھا انسان بننا ہے جو ان کا مذہب انہیں سکھاتاہے۔
دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیںجو جان بوجھ کر نزاعی معاملات کو چھیڑتے ہیں اور فساد کو جنم دیتے ہیں۔میں تو یہ سمجھتی ہوں کہ اگر انہیں بعض امور پراختلاف بھی ہے تو اس مسئلے کا حل یہ نہیں کہ ہم انہیں سوشل میڈیا پر شئر کریں یا کسی بھی قسم کے میڈیا پر اسے موضوع بحث بنائیں۔ان لوگوں کو چاہیے کہ یہ کسی عالم دین سے رجوع کریں تاکہ وہ انہیں مطمئن کر سکے۔اگر وہ اس پر بھی متفق نہیں ہو پاتے تو اپنی رائے کو لے کر دوسروں سے اختلاف کرنا ٹھیک نہیں۔ہمارے یہی رویے تو نفرتوں کو جنم دیتے ہیں جو کہ دلوں میں پلتی رہتی ہے۔ایک دن یہ لاوے کی صورت میں پھٹ پڑتی ہے۔۔۔اور اس بہاﺅ میں کئی لوگوں کو بہا کر لے جاتی ہے۔پھر اسی بہاﺅ کے اندر سے دہشت گرد بھی نکلتے ہیں۔
سوشل میڈیا کا بنیادی مقصد تو اس مصروف دور میںلوگوں کو ایک دوسرے کے قریب تر کرنا تھا۔تاکہ ہمارے سماجی روابط مضبوط ہوں اورہم اپنے حلقہ احباب کو وہ سب دکھا سکیں جو ان سے پرسنلی وقت نکالے بغیر ہمارے لئے دکھانا ممکن نہ ہو۔لیکن ہم نے اس جدید میڈیا کو بھی اپنی پراگندہ سوچوں سے گندہ کر دیا ہے۔
میں حیران ہوں کہ لوگوں نے اس میں اپنے نبی کو بھی شامل کر لیا۔۔یہاں پر جسٹس شوکت صدیقی صاحب کی بات حرف بحرف درست ہے کہ ہم جس نبی کی امت ہیں۔جو ہماری شفاعت کا ذریعہ ہیں، مذہبی ناقدوںنے ان کو اور ان کی پاک زندگی کو بھی نشانہ بناڈالا۔ سمجھ نہیں آتی کہ اس سے کیا ثابت کرنا مقصود ہے انہیں۔خود کو اپنے مذہب کی مقدس ہستیوں سے بھی بالاتر ثابت کرنا ۔ان کی ذات میں کیڑے نکالنے والے ایسے گنڈے کیڑے ہیں کہ جن پر پابندی لگنا ضروری ہے۔اگر ان پر پابندی نہ لگائی گئی تو یہ نوخیز نسلوں کو بھی اس سوچ کا ایندھن بنا ڈالیں گے جن کی سوچ کی ابھی ٹھیک طرح سے آبیاری بھی نہیں ہوئی۔یہ خود تو انبیاءکرام اور اولیا کرام اور علما کرام کا احترام کرتے نہیں مگر اپنی زہریلی سوچوں کا زہر میڈیا میں اس طرح سے پھیلا رہے ہیں کہ کچے اذہان کے کئی لوگ اس کی لپیٹ میں آجائیں گے۔
یہاں پر ہم اس پوائنٹ کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ اس صف میں اسلام دشمن بھی شامل ہیں جو کہ جان بوجھ کر مسلمانوں کے مذہب اور مذہبی عقائد کو منفی بنا کر پیش کر رہے ہیں۔اس میں ہم اسلام دشمن قوتوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔جن کا مقصد ہی اسلام کو کم تر مذہب ثابت کرنا اور مسلمانوں کو گھٹیا قوم بنا کر ہیش کرنا ہے۔ان لوگوں نے اسلامی پیج بنا رکھے ہیں اور اسلامی پوسٹ بھی شئر کرتے ہیں اور نام بھی مسلمانوں جیسے استعمال کرتے ہیں مگر در حقیقت یہ لوگ مسلمان نہیں۔یہ اسلام اور مسلمانوں کو دانستہ بدنام کر رہے ہیں۔یہ اسلام مخالف لابی کے لوگ ہیں جو کہ باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت کام کر رہے ہیں۔مسلمانوں کے گروہوں میںایک تو یہ بظاہر اسلام مخالف لوگ ہیں۔ دوسرے وہ منافق جو بس نام کے مسلمان ہیں۔لیکن اندر سے مسلمان نہیں ہیں ۔۔۔ کیا ہم دور جدید میں ہیں۔۔کیا یہ دور جدید کی نشانیاں ہیں،مجھے نہیں لگتا،مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ ہم واپس لوٹ رہے ہیں۔۔اس دور کی طرف جو دور جہالت تھا۔جب چھوٹی چھوٹی باتوں پر کشت وخون کا بازار گرم ہو جاتا تھا۔جب ایک دوسرے کے مذہب پر کیچڑ اچھالا جاتا تھا۔۔۔اس دور میں تو ہمارے رویوں کو کشادہ ہونا چاہیے۔وسیع القلبی،کشادہ ظرفی،ہمارے رویوں کا حصہ ہونی چاہیے۔مگر ہم تو انتہا پسند ہوتے جا رہے ہیں۔کیا ہم نے ترقی کی ہے۔۔اسے تنزلی تو کہہ سکتے ہیں مگر ترقی نہیں۔اسے زوال تو کہہ سکتے ہیں مگر عروج نہیں۔یہ بلندی نہیں،پستی ہے۔اگر سوشل میڈیا بھی ہماری سوچ میں مثبت تبدیلی نہیں لا پارہا تو پھر ایسے سوشل میڈیا کا بند کیا جانا ہی بہتر ہے۔آخر پہلے بھی تو دنیا چل رہی تھی۔مذہب کو کھیل تماشہ بنانے والے میڈیا کا احتساب ضروری ہے۔سوشل میڈیا کے بے لگام گھوڑے کو لگام نہ ڈالی گئی تو ہماری اگلی نسلیں تباہ برباد ہو کر رہ جائیں گی کیونکہ مذہب کی تباہی سے بڑی اور کوئی بربادی نہیں ہو سکتی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button