کالم/بلاگ

کرونا کی دنیا

  صبا ممتاز بانو

زندگی کی تعریف کو اگر صرف جینے کے معنوںمیں لیا جائے تو یہ اپنی معنویت کھو دے گی ۔ یہ سانسوںکے زیروبم کا نام نہیں ۔ یہ اپنا مواد تحریک سے لیتی اور ہلچل سے تعبیر ہوتی ہے ۔ چند دن پہلے جب کرونا نے انسان کو چھوا نہیں تھا ۔ سب ایک جیسی ڈگر پر چل رہے تھے ۔ وہی اوڑھنا بچھونا، وہی خواب اور ان خوابوںکے پیچھے بھاگتے دوڑتے انسان اور اس کے ساتھ ساتھ چلنے والا مقدر ۔پھر اس جمود زدہ زندگی میں کرونا آگیا ۔ کیسے آیا ۔ اب تک اس پر بہت سی باتیں ہو چکی ہیںلیکن مستند حوالہ چین کا ہی لیا جاتا ہے ۔ چین کے صوبے ووہان سے اٹھنے والے اس وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔
کہتے ہیں کہ دنیا میں آنے والا یہ پہلا کرونا نہیںلیکن انسان کو پچھاڑ دینے والا یہ پہلا کرونا ضرور ہے ۔ اٹھارہ کرونا بھگتنے والا انسان اب تک خاموش اس کے ظلم و ستم سہ رہا تھا کہ ا سکی تباہ کاریاں محدود پیمانے پر تھیں لیکن کرونا نے انسان کی اس دی ہو ئی ڈھیل سے فائدہ اٹھایا اور انسان کے خاتمے کا ہی سوچ لیا ۔ اگرا ٹھارہ کرونا پہلے انسانوںکو شکار کر چکے ہیںتو تب ایک دوسرے سے کسی کو اس بیماری کے لگنے کا ڈر کیوں نہیں تھا ۔ لوگ اکٹھے رہتے اور کھاتے پیتے بھی تھے ۔ اس کا مطلب تھا کہ ایک دوسرے سے اگر متعدی وائرس لگ جاتا تھا تو خود بخود ٹھیک بھی ہو جاتا تھا ۔ کیا وجہ ہے کہ کرونا ۱۹ نے انسان کا ناطہ انسان سے توڑ دیا اور اسے صر ف اور صرف اپنی ذات تک محدود کرکے رکھ دیا ۔ حالت یہ ہو گئی کہ ” میں ہوں اور خدا “ ہے ۔
اس وائرس کے بھیانک ااثرات نے انسان کو ہلا کر رکھ دیا اور اچھا بھلا انسان اس کے بارے میں مختلف کہانیاں گھڑنے لگا۔ کسی نے کہا کہ اسے چین نے ہی ووہاں میں جنم دیا ہے اور یہ سارا ڈرامہ امریکہ کی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے ہے ۔چینی ہمدردوں نے پڑھا تو فورا ً یہی ملبہ امریکہ پر ڈال دیا۔ انہوںنے اس خدشے کو جھٹلاتے ہوئے کہا کہ اس کو امریکہ نے اپنی لیبارٹری میں تیار کیا ہے تا کہ چین کے سپر پاور بننے میں رکاوٹ پید اکی جاسکے ۔ کسی نے اسے اسرائیل کی کارستانی قرار دیا ۔ادھر کرونا نے انسان کو آلیا اور ادھر تجزیہ نگاروںنے اپنی اپنی منڈی کھول لی ۔
مسلمان وہ واحد قوم تھے جنہوں نے ہر بات پر یقین بھی کیا لیکن حتمی تجزیہ یہ دیا کہ یہ اللہ کا عذاب ہے ۔ چین بھی اس کی زد میں آیا ۔ امریکہ نے بھی اس سے زخم کھایا ۔ اسرائیل میں بھی اسکی کارستانیاں رنگ لائیں۔ اس کا امکان غالب بھی یہی ہے کہ یہ ساری گیم دنیا پر اپنے غلبے کی ہو۔ ہزاروں جانوںکے بدلے میں دنیا پر تسلط کا سودا کوئی انوکھی بات نہیں ۔ قدیم دور میں بھی اقتدار کے ایوانوں میں سازشیں ہوتی تھیں ۔ دنیا کے بڑے حصے کو اپنے تابع کرنے کے لیے جنگیں لڑی جاتی تھیں۔ہزاروںلوگوںکے سر قربان کر کے سر پر تاج سجایا جاتا تھا ۔
جہاں تک بات ہے عذاب کی ۔ تو اس کی کو ئی بھی صورت انسانیت کی تباہی ہے ۔ٹیکنالوجی کی جنگ جاری ہے ۔ امریکہ اور چین کا مقابلہ اب چاند اور سیاروں پر بھی ہے ۔ ابھی تو زمین کی ملکیت پر لڑائی ہے ۔ پھر چاند کی ملکیت پر جھگڑے ہوں گے ۔
یہی تو کہا تھا عظیم سائنس دان اسٹیفن ہاکنگ نے کہ انسان اپنی ہی تیار کردہ ایجادات سے چوٹ کھائے گا۔ قیامت بھی اس کی اپنی ان کو تاہیوں کی وجہ سے ہو گی ۔ اس لیے اب ٹیکنا لوجی کے سفر کا خاتمہ یا حدود مقر ر ہو جانی چاہیے ۔
بہر حال یہ طے ہے کہ پہلے ہمارا سامنا صرف قدرتی بیماریوں سے ہوتا تھا ۔ قدرت ان کے علاج میں بھی معاون ہو تی تھی ۔ بہت سی بیماریوں کے لیے ہمارے جسم میں خو د بخود مدافعت پید اہو جاتی تھی ۔اب دنیا بائیو لوجیکل بیماریوںکی زد میں ہے ۔ عالمی طاقتوں کا دنیا کے وسائل پر تسلط اور قبضے کے لیے مصنوعی جراثیم اور بائیو لوجیکل ہتھیار وںکا استعمال اب اچنبھے کی بات نہیں۔اس بات کا غالب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اب انسان کے بنائے ہو ئے ان ہتھیاروں سے نبٹنے کے لیے تیار کردہ ویکسین اگر اسے ایک بیماری سے تحفظ فراہم کرے گی تو کئی وائرس کو راستہ بھی دے گی ۔ یہ انسان کو کمزور کرنے کی ایک ایسی سازش ہے جس کا شکار ہونے سے کے لیے وہ خود اسکے منہ میں جائے گا ۔ کرونا کی ہلاکت کاری اسے بغیر کسی متذبذب کے اس ویکسین کو لگوانے پر مجبور کر دے گی ۔ انسان کو پوری طرح سے اس کے شکنجے میں جکڑنے کے لیے اس کے بغیر سفر کو بھی کالعدم قرار دیا جائے گا ۔ویکسین تیار کرنے والے ممالک اس ویکسین کے ذریعے پیسہ بھی کما لیں گے اور دنیا پر بھی احسان ہی کریں گے ۔خدا کا بنائے ہوئے مدافعتی نظام کو تباہ کرنے کی پوری تیاریاں ہو چکی ہیں۔
جب اس وائرس نے چین کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا تو روز وہاں سے انسانوں کے مرنے کی خبریں آتی تھیں ۔ ہم خدا کا شکر بجا لاتے تھے کہ ہم چین میں نہیں ہیں۔ جب اس نے ساری دنیا کے انسانوں کو اپنا رنگ دکھایا تو سب سہم گئے ۔ اب پاکستان ، ایران ، امریکہ ، اٹلی ،وغیرہ ، کہاں یہ وائرس نہیں ۔ کہاں جائیں جہاں موت کی دستک نہ ہو۔
اسے اگر دجالی سازش بھی قرار دیا جائے تو طاقتوروںکے شکنجے سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ ہم خدا کے زمین و آسمان کے خزانے دریافت کرنے کی روش یعنی علم کو اپنا ئیں۔ یہ وہ ہتھیار تھا جس کی بابت چودہ سو سال پہلے خدا نے انسان کو بتا دیا تھا لیکن ہم ابھی تک اپنے اپنے فرقے کو ہی سچا ثابت کرنے پر تلے ہو ئے ہیںجبکہ سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ انسان ایک چھوٹے سے وائرس کے سامنے بے بس ہے ۔ اتنی سی اوقات ہے انسان کی وہ دبک کر گھر بیٹھ گیا ہے یا پھر جہالت کے بل پر اس وائرس کا مقابلہ کرنے چلا ہے ۔ جہالت کا مقابلہ ہمیشہ علم سے کیا جاتا ہے اور بالآخر فتح علم کی ہی ہو تی ہے ۔ باعلم اور باعمل قومیں کبھی کسی بیماری کو دنیا میں چھوڑیں گی اور کبھی اس کی بنائی ہوئی ویکسین کو منڈی میں پھینکیں گی ۔ ہم جاہل قوم کے افراد جینے کے لیے ویکسین کے نام پر زہر بھی اپنے اندر اتارنے کے لیے تیار ہو جائیں گے کیونکہ ہمارے پاس اغیار کی ایجادات و دریافتوں سے فائدہ اٹھانے کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button