انٹرنیشنل

کورونا پر سلامتی کونسل کا اجلاس وبا کی جنم بھومی کے تنازع کی نذر

یورپی سفارت کاروں کی امریکہ اور چین کے تنازع پر سلامتی کونسل کے ایکشن نہ لینے پر بھی تنقید

نیویارک(ویوز نیوز)دنیا بھر میں کرونا وائرس کی تباہ کاریوں پر غور کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس اس وبا کی جنم بھومی کے تنازع کی نذر ہو گیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق نو رکن ممالک کے مطالبے پر بلایا گیا اجلاس عالمگیر وبا پر بحث کے لیے پہلا اجلاس تھا۔ تاہم امریکہ اور چین کے سفارتی مندوبین نے وائرس کی ابتدا پر بحث کو مرکوز کیے رکھا۔ جب کہ یورپی سفارت کاروں نے امریکہ اور چین کے تنازع پر سلامتی کونسل کے ایکشن نہ لینے پر تنقید بھی کی۔پندرہ ممالک پر مشتمل سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد مختصر اعلامیے میں کہا گیا کہ اس بات کے لیے کوشش کی جارہی ہے کہ آیا سلامتی کونسل کو کرونا وائرس سے متعلق کوئی ایکشن لینا چاہیے یا نہیں۔اجلاس کے دوران چین نے مخالفت کی کہ سلامتی کونسل کا مینڈیٹ نہیں ہے کہ وہ کرونا وائرس کے معاملے میں مداخلت کرے۔ تاہم امریکہ کی جانب سے اسی بات پر زور دیا جاتا رہا کہ کرونا وائرس سے متعلق کونسل کے کسی بھی ایکشن میں اس وائرس کی جنم بھومی چین کا حوالہ ہونا چاہیے۔اجلاس کے دوران چین کے سفیر زان جون نے کرونا وائرس کے معاملے میں سیکیورٹی کونسل کی مداخلت پر اظہار ناراضگی کیا اور کہا کہ یہ معاملہ سلامتی کونسل کا مینڈیٹ نہیں ہے۔زان جون نے کہا کہ سلامتی کونسل کو کرونا وائرس پر سیاست اور چین کو بدنام کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرنا چاہیے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button