کالم/بلاگ

”آخری عشرہ رحمتوں کاموسم بہار اورعید“

مولانا احمد ضیا

منچن آباد
03017374121

یوں تو رمضان المبارک کا پورا مہینہ ہی مقدس ہے ارو مبارک ہے۔ اس کی ایک گھڑی اور اس کا ایک ایک لمحہ قابل قدر ہے،لیکن خاص طور پر یہ آخری عشرہ نبیﷺ کے ارشادات کے مطابق اللہ تعالی کی عبادت کیلۓ خاص کیفیات ہے۔ حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ جب یہ آخری عشرہ داخل ہوتا تو حضورﷺکی یہ حالت ہوتی کہ آپﷺ اپنی کمرکس لیتے یعنی رات بھر عبادت میں محنت کیلۓ تیار ہو جاتے اور اپنی رات جاگ کر گزارتےاور اپنے گھر والوں کوبھی جگاتے۔عام دنوں میں بھی حضورﷺتہجد کی نماز روزانہ پڑھا کرتےتھے جس کی رکعتیں لمبی لمبی ہوتی تھی،کبھی تہجد آدھی رات تک اور کبھی ایک تہھاٸی رات تک۔لیکن رمضان المبارک کے آخری عشرہ آپﷺ کی عبادت دگنی ہوجاتی۔
”آخری عشرہ میں گھروالوں کو بیدار کرنا“
لیکن رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے بارے میں آپﷺکا معمول یہ تھا کہ”ایقظ اھلہ“یعنی اپنے سب گھروں والوں کو بھی جگاتے اوران سے فرماتےکہ اٹھ جاٶ،یہ آخری عشرہ ہے،یہ اللہ تعاٸی کی رحمتوں کا موسم بہار ہے۔اللہ تعاٸی کی رحمتوں کی گھٹاٸیں برس رہی ہے، ایسے میں سوتا رہنا محرومی کی بات ہے۔ اس لیے جاگ کر اللہ تعالی کی رحمتوں کو دامن میں بھرلو۔
”پچھلی امتوں کے عبادت گزاروں کی عمریں“
اسی آخری عشرہ میں اللہ تعالی نے رات”لیلتہ القدر“ رکھی ہے۔جو ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔اللہ تعالی نے یہ کیوں فرمایا کہ یہ ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے?
اس لیےکہ حضورﷺنے صحابہ کرامؓ کے سامنے پچھلی امتوں کے عابدین کا ذکرفرمایا اور یہ فرمایا کہ ان کی عمریں لمبی لمبی ہوتی تھی۔ خود قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہے:
یعنی حضرت نوح علیہ السلام کی عمر نو سو پچاس سال ہوٸی (سورت العنکبوت:١٤)
ان کے علاوہ اورامتوں کے لوگوں کی عمریں بھی لمبی لمبی ہوتی تھی کسی کی عمرپانچ سو سال ہوٸی۔کسی کی عمر سات سو سال ہوٸی،کسی عمر ہزار سال ہوٸی۔
”صحابہ کرامؓ کو حسرت“
جب صحابہؓ کے سامنے ان کی عمروں کا ذکر آیا تو صحابہؓ نے اپنی حسرت کا اظہار فرمایا کہ یارسولﷺ یہ لمبی لمبی عمروں والے لوگ تھے اور جتنی عمر لمبی ہوٸی اتنی ہی ان کو عبادت کرنے کا اور اللہ تعالی کی اطاعت کا زیادہ موقع ملا، جس کے نتیجے میں انہوں نے اللہ تعالی کی رحمتوں سے پناہ دامن بھرلٸے، کیونکہ ساری عمر عبادت میں گزاری تو ان کی نمازوں کی تعداد زیادہ ہوٸی، روزےاورذکر کی تعداد زیادہ ہوٸی۔اور ہماری عمرے کم ہیں ہم کتنی بھی عبادت کر لیں،بھر بھی ان کی برابری نہیں کرسکتے ہم ان سے پیچھے رہ جاۓ گے۔
”ہزارمہینوں سے کہیں زیادہ بہترہے“
لہزاقرآن کریم نے یہ جو فرمایا کہ:
(لیلتہ القدر خیرمن الف شھر)
اس کے معنی ہیں کہ لیلتہ القدرایک ہزار مہینے کے برابرہے،نہ کہ وہ رات ایک ہزار مہینےکے برابرہے،بلکہ یہ رات ایک ہزار مہینے سے کہیں زیادہ بہتر جس کا حساب ہم نہیں کر سکتے۔
”یہ رات اس طرح گزارو“
بعض لوگ اس رات کے لمحات کو فضول گنوادیتے ہیں۔بعض لوگ اس کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ رات نیک کاموں میں گزرے لیکن حقیقت میں نیکی کا فاٸدہ حاصل نہیں ہوتا۔یہ رات تو اللہ تعالی نے اس لیے بناٸی کہ بندہ خلوت اور تنہاٸی میں اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضرہوکراپنے رب کے سامنے عرض ومعروض کرے،عبادت کرے،نمازپڑھے،تلاوت کرے،ذکرکرے،تسبیحات پڑھے،دعاٸیں کرے،اس میں سب سے اچھی عبادت یہ ہے کہ آدمی لمبی لمبی سورتوں کے ساتھ نوافل پڑھے،ان نوافل میں لمباقیام کرے،لمبارکوع کرے،لمبا سجدہ اور رکوع اور سجدے میں مسنون دعاٸیں مانگے۔
”یہ مانگنے کی راتیں ہیں“
بہرحال!اس طرح یہ بقیہ راتیں گزارنے کی ضرورت ہے۔اگراللہ تعالی ہمیں ان راتوں میں عبادت کی توفیق دیدے تو معلوم نہیں کہ کس کا بیڑہ پار ہوجاۓ۔لہذا ان راتوں میں اپنیہ حاجت دنیا کے مقاصد،دین کے مقاصد،معیشت کے مقاصد،ملک کوملت اور قوم کے مقاصد،یہ سب اللہ تعالی کی بارگاہ میں پیش کردو اور دعاکروکہ یااللہ!اپنے فضل وکرم سےہمارے حالات کی اصلاح فرمادے۔اگراس طرح ہم نے یہ راتیں گزار لیں تو پھر ان شاء اللہ
یہ رمضان المبارک بھی مبارک،یہ راتیں بھی مبارک،اس کی دعاٸیں بھی مبارک،اللہ تعالی اس رمضان المبارک کا ایک ایک لمحہ صحیح مصرف میں گزارنے کی توفیق عطا ٕ فرماۓ۔آمین(مواعظ سکھروی)
”عیدمبارک“
ہرقوم وملت میں سال کے بعدجشن مسرت منانے کے لیےمقرر کۓ جاتے ہیں۔جنہیں عرف عام میں تہوار کہا جاتا ہے۔تہوار منانے کےلیے ہر قوم کامزاج ومزاق جداہوتا ہےلیکن ان سب کی
قدرمشترک”خوشی منانا“ہے۔
چونکہ انسان کی طبیعت ہے کہ معمولات کی یکسانی سے کبھی کبھی گھبرااٹھتا ہے۔ اس لیے وہ ایسے شب وروز کا خواہش مند ہوتا ہے جن میں اپنے روزمرہ کے معمولات سے زرہ ہٹ کر اپنے ذہن ودل کو فارغ کرےاورکچھ بے فکری کے ساتھ ہنستے بول کر گزارے۔انسان کی یہی طبیعت تہوار کو جنم دیتی ہے جو بالاآخرکسی قوم کا اجتماعی شعاربن جاتے ہیں۔
جب حضورﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے گۓ تو آپﷺنے دیکھا کہ وہاں کے لوگ نیروزاور مہرجان کے نام سے دوخوشی کے تہوار مناتے ہیں۔صحابہ کرامؓ نے آپﷺ سے پوچھا کیاہم ان تہواروں میں شرکت کریں?
آپﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالی نے تمہیں ان کےبدلے ان سے بہتر دودن عطا ٕ فرماۓہیں، ایک عید کادن دوسرا عید الاضحی کا۔
کوٸی تہوارمقررکرنے کے لیے عام طور سے اکثر قومیں کسی ایسے دن کا انتخاب کرتی ہیں جس میں ان کی تاریخ کا کوٸی اہم واقعہ پیش آیا ہو۔مثلاً عیساٸیوں کی کرسمس حضرت عیسی علیہ السلام کے یوم پیداٸش کےیادگارکے طور پرمناٸی جاتی ہے(اگرچہ صحیح بات یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی پیداٸش کی یقینی تاریخ کسی کو معلوم نہیں ہے)
یہودیوں عید فسح اس دن کی یادگارسمجھی جاتی ہے جس میں بنی اسراٸیل کو فرعون کے ظلم وستم سےنجات ملی۔ اسی طرح ہندوٶں کےبہت سے تہواربھی ہے ان کےکسی خاص واقعے کی یادگار کے طور پرمناٸے جاتے ہیں۔
اسلام کی یہ شان نرالی ہے کہ پوری امت کیلٸے سالانہ عید مقرر کرنے کے لیے ان میں سے کسی ایک دن کا انتخاب نہیں کیاگیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button