کالم/بلاگ

اب ہمیں کیا کرنا ہے؟

محمد حمزہ عزیز

کورونا وبا کے باعث عصر حاضر کے تمام معاشرے نا ہمواری کا شکار ہیں۔ امیر اور غریب کے وسائل، رہی سہی آمدنی اور اخراجات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ امیر تو پھر بھی اس معاشی بحران کی زد میں آکر اپنی قوت برداشت سے بچ سکتا ہے لیکن غریبوں کا تو جینا بھی حرام ہو گیا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی اشیائے ضروریہ کی قیمت میں اضافہ ہو گیا ہے اور مہنگائی کے ساتھ ساتھ بے روزگاری بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ عید آنے والی ہے اور یہ سب سے بہترین وقت ہے کہ ہم اپنے مواخات اور بھائی چارے کے جذبے کو اجاگر کریں۔ جو لوگ صاحب حیثیت ہیںانہیں چاہئے کہ وہ اپنے پڑوسیوں کا بھی خیال کریں، اپنے ملازمین کا بھی خیال کریں اور اپنے عزیز و اقارب کا خاص طور پر وہ جو اپنے منہ سے نہیں کہہ سکتے ان کا بھی خیال کریں۔ اس حوالے سے ڈاکٹر اسرار احمد نے فرمایا تھا کہ اگر کسی کو دکھ میں دیکھو اور اس پوزیشن میں ہو کہ تم اس کا کوئی مداوا کر سکو اور نہ کرو۔ پھر تم چاہے مفسر ہو، محدث ہو نیک نہیں ہو۔ تم عابد ہو سکتے ہو، تم زاہد ہو سکتے ہو، تم محدث ہو سکتے ہو، تم مفسر ہو سکتے ہو لیکن تم نیک نہیں۔ اس بات سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حقوق العباد بہت اہمیت کے حامل ہیں۔
ان دنوں میں غریبوں کی مدد کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے صدقات یا زکوٰۃکسی نہ کسی این جی او میں جمع کرادیں۔ لاک ڈاؤن کے باعث ہم لوگ باہر نہیں نکل سکتے لیکن ان اداروں کا تو کام ہی یہی ہے کہ ہمارے پیسے غریب اور مستحق لوگوں تک پہنچائیں۔ جیسا کہ ڈاکٹر امجد ثاقب کا ادارہ اخوت بلا سود قرضے دے کر لوگوں کو اس بات کی طرف مائل کرتا ہے کہ آدمی محنت کر کے اپنی روزی روٹی کمائے اور معاشرے کا با عزت شہری بنے۔ اخوت نے بچوں کی مفت پڑھائی کی طرف چند بے مثال اقدامات اٹھائے ہیں جیسا کہ اخوت کالج غریب بچوں کو مفت تعلیم دیتا ہے۔ تعلیم کے حوالے سے اگر مزید بات کریں تو الغزالی ٹرسٹ کا نام بھی ہمیشہ سامنے آتا ہے۔ الغزالی ٹرسٹ کا مقصد ہے کہ وہ پاکستان میں تعلیم کی شرح کو مکمل 100 فیصد کردے۔ جب پڑھے گا پاکستان تب ہی تو بڑھے گا پاکستان۔ پھر اگر صحت کے حوالے سے بات کریں تو منو بھائی کا ادارہ سندس فاؤنڈیشن لاہور کی جانی پہچانی این جی اوز میں سے ایک ہے۔ یہ ادارہ تھیلیسیمیا ، ہیموفیلیا اور بلڈ ڈس کینسر کے مریضوں کا سو فیصد مفت علاج کرتے ہیں اور اپنی مختلف طبی مہمات کے ذریعے لوگوں میں ان بیماریوں کے متعلق آگاہی فراہم کرتے ہیں۔ پھر کسٹم ہیلتھ کئیر سوسائٹی ہے ڈاکٹر آصف جاہ کی جو غریبوں کو مفت ادویات فراہم کرتی ہے اور ان کی ہر چھوٹی موٹی بیماری کا علاج بھی مفت کرتی ہے اور پاکستان میں کئی سماجی کاموں میں بھی حصہ لیتی ہے۔ اسی طرح گھرکی ہسپتال بھی بلا معاوضہ یا بہت ہی معمولی قیمت میں غریبوں کا علاج کر رہا ہے۔ پھر ڈاکٹر شہریار کا کینسر کئیر ہسپتال ہے جو بلا شبہ شوکت خانم کی برابری پر آگیا ہے۔ یہ لوگ بھی کینسر کا علاج بالکل مفت کرتے ہیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن نے تمام شعبوں مثلاً صحت، غریب بچوں کی تعلیم، انسانیت کی خدمت یعنی سب میں ہی بے پناہ خدمات سر انجام دی ہیں۔ہمیں چاہیے کہ ہم ان تمام این جی او زکی مدد کریں تاکہ غریب طبقے کو کچھ حد تک سہارا ہو۔ ان کے علاوہ ہمیں مختلف یتیم خانوں اور اولڈ ایج ہومز کی بھی مدد کرنی چاہیے۔ کہتے ہیں کہ نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ اس کا اجر دنیا اور آخرت دونوں میں مل جاتا ہے لیکن آپ کی یہ چھوٹی سی نیکی کسی کی زندگی بھی بدل سکتی ہے۔ تو گزارش ہے کہ آئیے اور بڑھ چڑھ کر خیرات کریں اور بھائی چارے کی ایک نئی مثال قائم کریں۔
جب آپ نیکی کی راہ میں چلنا شروع کرتے ہیں تو اوپر والے راستے آسان کر دیتا ہے۔ ہمارے ایک دوست حافظ ذوہیب طیب نے ایک بہت عمدہ کام شروع کیا ہے کہ جب تندورپر روٹی لینے جاؤ تو دوروٹی زیادہ کے پیسے دے آؤ تاکہ جب کوئی بھوکا روٹی مانگے تو تندور والے اسے مفت میں روٹی دے دیں۔ بد قسمتی سے ہماری تاریخ ایسی ہے کہ کوئی حکومت خواہ وہ منتخب ہو یا غیر منتخب جب اقتدار میں آجائے تو اپنے کاموں میں پڑ جاتی ہے اور اسے عوام سے کوئی خاص لگاؤ نہیں رہتا۔ منتخب حکومتوں کے متعلق بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد بے پناہ کی الجھنوں کا شکار ہو کر اپنے منشور پر عمل درآمد کرنے کے قابل نہیں رہتی ہیں۔ جبکہ غیر منتخب حکومتوں کے متعلق تو بالکل واضح ہے کہ انھیں عوام کی تکالیف سے کوئی سروکار ہوتا ہی نہیں۔ وہ اپنے ایجنڈے کو لے کر آگے بڑھتی ہیں۔ اسی لیے عوام کو اپنے مسائل خود حل کرنا ہونگے۔ عید اب چند ہی روز دور ہے اور سب بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں کہ کب باہر نکلیں گے اور اپنے عزیز و اقارب سے ملیں گے لیکن یاد رہے کہ ہم لوگوں کو احتیاطی تدابیر کا خیال رکھنا ہوگا۔ عید کی نماز پڑھنے اور عید ملنے کو کس کا دل نہیں چاہے گا لیکن یہ تو معمولی بیماری کے متعلق بھی کہا جاتا ہے کہ پر ہیز علاج سے بہتر ہے اور کورونا میں تو احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کرنے کا کوئی موقع ہی نہیں۔ اگلی چیز یہ ہے کہ اس دفعہ اگر ہو سکے تو نئے کپڑے لینے سے گریز کریں اور وہی پیسے جو آپ نے کپڑوں میں لگانے ہیں ان سے آپ کسی کی مدد کر دیں تاکہ آپ کے ساتھ وہ بھی عید منا سکے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button