کالم/بلاگ

احتساب کی شفافیت

نقش صبا
صبا ممتاز بانو
شریف خاندان کی نااہلی نے اس ملک کی سیاست کو ایک نیا رخ دیا ہے جس سے کوئی بھی ذی شعور انکار نہیں کرسکتا۔حکومت کے مواخذے پر عدلیہ کا ہر دباﺅ ردکرتے ہوئے اورکسی قسم کے لالچ کی دھار پر نہ چلتے ہوئے غیر جانبدارانہ فیصلے نے ملکی تاریخ کو نیاموڑ دیا ہے جسے کسی صورت بلیک ڈے قرار دینا مناسب نہیں کیونکہ یہ اس قوم کا وہ دن ہے جس نے ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے ہمیں ایسی شاہراہ دکھائی ہے جس میں ہمارے شاہوں کو چل کو اپنے کیے کا حساب بھی دینا ہوگا اورعام آدمی کے حق کو مارنے کی جواب طلبی کا عام آدمی کی طرح سامنا بھی کرنا ہوگا۔اس قوم کے سیاسی کارکنوں کی غلامانہ ذہنیت اس فیصلے کے دور رس نتائج دیکھنے سے قاصر ہے۔یہ وہ فیصلہ ہے کہ جو کل کے حکمرانوں کو بھی چاند تارے دکھا سکتا ہے اور اس کی رو سے سب کی گردن زنی ہو سکتی ہے بھلے وہ تحریک انصاف سے تعلق رکھتے ہوں یا کسی اور جماعت سے۔ہمیں اس اقدام کی حمایت پاکستانی بن کر کرنی ہوگی۔اس وطن کی محبت سے ہوکر سرشار کرنی ہوگی۔یہ فیصلہ اس لئے خوشی کا باعث نہیں ہونا چاہئے کہ ن کی قیادت نااہل ہوئی ہے۔بلکہ اس لئے کہ اس ڈوری میں سب کی گردنوں کو ڈالنا چاہئے۔یہ وہ چھلنی ہے جس میں سب سیاست دانوں کو کھنگا ل کر آگے لانا چاہیے۔
نواز قیادت کی نااہلی پر ہمارے کئی دانشوروں کے بقول منتخب حکومت کا تختہ الٹا گیا اور ایسا ہر دور میں ہوا۔یہ سلسلہ ایوبی دور سے شروع ہوا۔بھٹو تک پہنچا۔ان کو پھانسی کے پھندے پر لگانے کے بعد یہ سسٹم ایک آمر کے سیاسی بیٹے کے درپے ہوگیا اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج نواز شریف کو نااہلی کا سامنا کرنا پڑا۔نواز شریف کی نااہلی سے قبل کے حالات کو دیکھا جائے تو ہمیں اس میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ رویے کی وہ صورتیں نظر نہیں آتیں جو کہ ان کے درپے ہوں اور ان کی حکومت کو چاروں شانے چت گرانا چاہتی ہوں۔
اگر ایسا ہوتا تو عمران کے دھرنوں کے نتائج بار آورضرور ہوتے جبکہ اس وقت بھی کئی دانشوروں کا خیال تھا کہ خان کے دھرنوں کی سیاست کی پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے اوراسلام آباد میں دھرنوں کے پیچھے کوئی قوت ضرور تھی جو ان کو بڑھاوا دیتی ر ہی۔اگر اس بات کو مان بھی لیا جائے تو بھی ن لیگ نے موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس صورت حال پر قابو پانےکی کوشش کی اور اسٹیبلشمنٹ سے روابط بڑھائے۔
جبکہ اس دور میں ن لیگ کی قیادت نے ملٹری اراکین سے مل کر اس تاثر کو زائل کیا کہ فوج ان کی قیادت کے خلاف ہے اور ملک کی بھاگ دوڑ خود سنبھالنا چاہتی ہے۔گاہے بگاہے آرمی جنرل کابیان بھی آتا رہا کہ ان کا مارشل لاءلگانے یا جمہوری حکومت کے معاملات میں دخل اندازی کا کوئی امکان نہیں۔یہ امر واقعتاً سچ بھی ثابت ہوا کہ خان نے دھرنا مہم جاری رکھی مگراسکے مثبت نتائج برآمد نہ ہوئے۔ان کی خو ش فہمیاں ،ان کے گمان حقیقت میں نہ بدل سکے اور نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار ہوکر حکومت بھی کرتے رہے۔ تر قیاتی منصوبوں کا ڈول بھی ڈالتے رہے اورغیر ممالک کے ساتھ تعاون اور دوستی کے منصوبوں کو بھی عملی شکل دینے کے معاہدہ جات کرتے رہے۔
اسی دوران پانامہ سیاست نے ان کو احتساب کے دائرے میں لاکھڑا کیا۔پانامہ کے معاملے نے عالمی سطح پر سیاستدانوں کے بے نقاب کیا۔ان کے چہروں سے وہ ماسک اتارے جنہیں پہن کر وہ عوام کے خیر خواہ بنے بیٹھے تھے۔اس کی زد میں آنے والے خوددار سیاست دانوں نے اپنی بدعنوانیوں کو تسلیم کیا اور رولا رپاڈالنے کی بجائے ہتھیارڈال دیئے مگر وطن عزیز میں رسہ کشی شروع ہوگئی۔ن کی قیادت نے احتساب کے عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس سے پہلو تہی یا پھر جاں خلاصی کی پوری کوشش بھی کی۔کیسے اور کس طرح،اس مد میںپیسے کی گیم چلانے کی کوشش کی گئی مگر اس دفعہ وہ اس میں ناکام رہے۔
اس فیصلے سے قبل ہی ن کے رہنماﺅں نے عدلیہ کو جانبدار قرار دینے اور اسٹیبلشمنٹ کے رویوں پر خدشات ظاہر کرنے شروع کر دئیے تاکہ اگر فیصلہ ان کے خلاف آتا ہے تو وہ عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے میں کامیاب ہو جائیں۔اس قسم کے بیانات سے ن لیگ کے رہنماﺅں نے عوام کو قبل ازوقت باور کرانے اور ان کی ہمدردیاں سمیٹنے کی مہم کا آغاز کردیا کہ فیصلہ ان کے خلاف آ ئے گا۔بجا طور پر یہ تاثر پھیل گیا کہ ن کی قیادت کو انتقامی رویے کا نشانہ بنایا گیا اور منتخب جمہوری حکومت کو پانامہ کی بجائے اقامہ کے جرم میں اتار ا گیا۔ اس بات پر بھی خوب واویلا کیا گیا کہ عدلیہ نے باری باری سب کی پیشی اور بقول ن لیگ اہانت آمیز سلوک کیا۔
ن لیگ کے رہنماﺅں اور کارکنوں میں سے کسی نے اس بات کو نہیں سراہا کہ عدلیہ نے ان کے ساتھ عام آدمیوں جیسا سلوک کرکے انصاف کا بول بالا کیا۔انہیں اسی کٹہرے میں کھڑا کیاگیا اور اسی انداز میں طلب کیا گیا جو کہ انصاف کا تقاضا تھا۔ن لیگ نے اسے ہزیمت قرار دیتے ہوئے عدلیہ کو مکمل جانبدار قرار دیا۔کسی طرف سے صدائے حق بلند نہیں ہوئی کہ دربار انصاف میں شاہوں کے ساتھ شاہی سلوک نہیں ہوتا۔وہاں صرف وہ ایک عام آدمی ہوتا ہے جسے انہیں حالات کا سامنا کرنا چاہئے جن کا سامنا ایک عام آدمی کرتا ہے۔میں سمجھتی ہوں کہ یہ ایک بہترین موقع تھا جب نواز قیادت اسے اپنی ذلت اور ہزیمت قرار دینے کی بجائے انصاف کی بالادستی قرار دیتی اور بہت سے لوگوں کا دل جیت لیتی۔فیصلہ تو بعد کی بات تھی مگر شاہوں کا شاہوں جیسے سلوک پر اصرار شاہانہ ذہنیت کا آئینہ دار تھا جس میں عام آدمی کے ساتھ برابری کا کوئی پہلو نہیں جھلکتا تھا۔ہم کتنے معصوم لوگ ہیں،ہم آج کے شاہوں سے کہتے ہیں کہ اپنی دولت کو آگ لگاﺅ۔ناجائز دھن نہ کماﺅ۔لوٹا ہوا پیسہ وطن میں واپس لاﺅ۔ہم ان سے یہ توقع کرتے ہیں جن کا کام ہی اس وطن کو لوٹنا ہے۔ہم یہ امید ان سے رکھتے ہیں جن کو عدالت میں ایک عام آدمی کی طرح پیش ہونے،انتظار کرنے اورسوالات کے جوابات دینے میں قباحت ہے۔یہ تو پہلا قدم ہے کہ ہم نماز کے لئے اسی صف میں کھڑے ہوجائیں جس میں عام آدمی کھڑے ہوتے ہیں۔ہم قاضی کے دربار میں اسی طرح سر جھکا لیں جس طرح عام آدمی سر جھکا لیتا ہے۔کیا صحابہ کرام کی امثال ہمارے سامنے نہیں۔کیا ان بادشاہوں کی مثال ہمارے سامنے نہیں جنہیں ہم مسلم حکومت کے زوال کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔
خان کے دھرنوں،طاہر القادری کے احتجاج کی زنجیر زنی اپنی جگہ مگر یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ پانامہ نے اس قیادت کو احتساب کے جھولے میں ڈال دیا۔یہاں پر ہم اس بات کو جھٹلا نہیں سکتے کہ دھرنا سیاست کا وقتی تاثر بھلے ناکام ہوا ہو مگر اسکا اثر ضرور ہوا۔ایک آواز نے سر اٹھایا اور ایوانوں میں ہلچل پیداہوئی۔لیکن اگر احتساب کے کٹہرے میں نواز شریف اور ان کی فیملی صاف شفاف نکلتی توان کی جے جے ہوجاتی ،انہیں صفائی پیش کرنے کا پورا موقع دیا گیا۔اس میںباعث حیرت امر یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ عام کیسزکے فیصلے تو مدتوں عدالتوں میں لٹکے رہتے ہیں جبکہ اس کیس کو دنوں میں نبٹا دیا گیا۔
ایک ایسا خاندان جسے عرصہ تیس سال سے اس ملک پر حکومت کا موقع ملا ہو اور اس میں تین بار قیادت ان کے ہاتھ میں ہو۔یہ لوٹ مار کا سفر دہائیوں پر محیط ہے جو برق رفتاری سے چلتا رہا تو کیا عرصہ درازکے اس سفر کو نکیل ڈالنے کی بجائے اسے اور طویل کر دیا جاتا۔مدتوں کی لوٹ مار کو کیس کی بھینٹ چڑھا کر پھر مدتوں پر لٹکا کر رسی دراز کر دی جاتی۔عام آدمی کے فیصلے بھی جلدی ہونے چاہیئے لیکن شاہوں کے فیصلے اگر جلدی نہ ہوں تو وہ عوام کے تن پر کپڑے بھی نہیں رہنے دیتے۔ان کے طویل اعمال کو مختصر کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ان کو مختصر وقت میں فارغ کردیا جائے۔
کہتے ہیں کہ شریف خاندان کا احتساب ہر دور میں ہوا ہے لیکن شریف خاندان نے ہر دور میں احتساب سے جان چھڑانے کی کوشش کی ہے۔نیب کے احتساب کو یہ کہہ کر جھٹلایا جاتا رہا کہ اس طرح حساب کتاب ہونے لگا تو کام کیسے ہوگا۔احتساب کام کی رفتار کو تیز کرنے کے ساتھ ساتھ اسے صاف شفاف بھی بناتا ہے مگر اس کی اہمیت کو تسلیم کرنے اور اس کے لئے اپنے تمام منصوبوں کو پیش کرکے عوام کا دل جیتا جا سکتا تھا۔
نواز شریف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ تمام قوتوں کو اپنے ساتھ چلانے میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکے،لیکن اس چار سالہ دور میں اسٹیبلشمنٹ نے ان کے ساتھ تعاون کیا۔کسی مرحلے پر بھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ غیر ملکی قوتیں یا اسٹیبلشمنٹ ان کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں۔ امریکہ کی ہاں میں بھی وہ ہاں ملاتے رہے۔ بھارت کے گھٹنوں میں انہوں نے سر دیے رکھا۔چین کی قیادت کی خوشی کو بھی انہوں نے مقدم رکھا۔ترکی سے وہ بھائی چارہ جتاتے رہے۔پھر غلطی کہاں پر ہوئی۔۔۔مریم کے بیانات۔ن لیگ کی قیادت اور رہنماﺅں کا بڑھا ہو اعتماد جس کی ترنگ میں انہوں نے سب کو روندا۔اگر کوئی گڑ بڑ ہوئی بھی یادرپردہ اگر کچھ معاملات ہوئے بھی تواسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کی ناراضگی یا جبری مفاہمت کسی نہ کسی طرح چلتی رہی۔اگرچہ شریف قیادت نے کبھی اس معاملے کی سنجیدگی کو سمجھا نہیں یا پھر اسے ہمیشہ معمولی لیا۔شریف خاندان سے زیادہ ان کے مخالفین کو اس بات کا اندازہ رہا کہ شریف خاندان بالخصوص نواز شریف صاحب کبھی بھی اسٹبلشمنٹ کے ہاتھوں چاروں شانے چت ہو سکتے ہیں۔اس لئے انہوں نے نواز شریف کے خلاف مختلف محاذ و گرم کرکے ن لیگ کی حکومت گرانے کی بھی کوشش کی بلکہ اسے پلاننگ کہا جائے تو بہتر ہے۔یہ وہی پلاننگ ہے کہ جس میں گو نواز گو کا نعرہ تخلیق ہوا اور اپنی مقبولیت کی معراج کو پہنچا۔ اسی دور میں دھرنوں کا بازار گرم کیا گیا اور آرمی کی مداخلت کے جواز کو بڑھایا گیا۔جس کی کمان پانامہ پر آکر ٹوٹ گئی۔
لیکن کیا ہم اس حقیقت سے انکار کرسکتے ہیں کہ شریف فیملی کی کرپشن ایک صاف جھوٹ ہے۔کیا اسے کورے کاغذ پر لکھا گیا ہے اوریہ کورا کاغذ شریف خاندان کے مخالفین نے بھرا ہے ۔اس کا مطلب کیا ہے کہ شریف خاندان کی بدعنوانی صریحاً ایک گھڑاہوا جھوٹ ہے۔ سب کی بات چھوڑیئے ، کیا ”ن لیگ “کے سپورٹرز اسے جھوٹ کہہ سکتے ہیں۔شریف فیملی اپنی صفائی پیش کرنے میں بری طرح ناکام رہی۔ان کے متضاد بیانات ہی ان کی صداقت و حقانیت کو ثابت کرنے کے لئے کافی تھے۔
کیا اسٹیبلشمنٹ اسے جھٹلا سکتی ہے۔؟اس حمام میں سب ننگے ہیں۔یہ کلیہ اس ملک کے طاقتور ستونوں پر پورا اترتا ہے۔ اگر اس کٹہرے میں سب سے پہلے اقتدار پر قابض گروہ کو کھڑا کیا گیا ہے تو سب سے پہلے قائد ہی جواب دہ ہوتا ہے۔مجھے اس موقع پروہ واقعہ یاد آتا ہے جب حضرت عمر رضی تعالہ عنہہ سے ان کے تن پر ایک چادر زائد دیکھ کر سوال کیا گیا تھا تو انہوں نے اس سوال پر الٹا سوال نہیں داغا تھا کہ پہلے تم بتاﺅ کہ تمہارے تن پر یہ کپڑے حلال کے ہیں یا حرام۔یہاں تو شریف فیملی کے احتساب پر ان کے رہنماﺅں،کارکنوں اور ووٹرز نے کچھ ایسا ہی وتیرہ اپنایا کہ ہم کیوں احتساب دیں۔ہم کیوں بتائیں کہ ہم نے کیسے کمایا۔پہلے خان بتائے،پہلے بلاول بتائے،پہلے فلاں بتائے۔میں سمجھتی ہوں کہ احتساب سب سے پہلے اس کا ہونا چاہیئے جس نے حکومت سنبھال رکھی ہے۔اس سے سوال کا حق عوام کو ہے۔عدلیہ کو ہے کیونکہ جس کے پاس حکومت ہے۔رعیت کی ذمہ داری بھی اسی کی ہے۔بھلے حکومت نواز شریف کے پاس ہو یا خان کے یا سراج الحق صاحب کے پاس۔کٹہرے میں سب سے پہلے حکمران کو کھڑا ہونا چاہیے ۔
ہاں احتساب کے اس دائرہ کار کو بڑھاتے ہوئے اسے ہر اس آدمی کو اپنے شکنجے میں لانا چاہئے جس کی دولت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہو۔رہی بات نواز شریف کی تواگر شریف قیادت کے زوال کو اسٹیبلشمنٹ کی خفگی سے ہی جوڑ دیا جائے تو کیا یہ زوال ان پر پہلی بار آیا ہے۔ہاں یہ امر اپنی جگہ اہم ہے کہ اس بار طوفاں بڑی شدومد سے آیا اور بات صرف نواز شریف کی بطور وزیر اعظم مغرولی تک محدود نہ رہی بلکہ ان کی اور ان کے جانشینوں کی تا حیات نا اہلی پر ختم ہوئی۔جس کے تانے بانے اس ملک کے دانشوروں نے اسٹیبلشمنٹ اور بیرونی طاقتوں کی ناراضگی سے جوڑے۔
اس کے لئے ن لیگ کا میڈیا سیل ، اس کے رہنما ﺅںیا شریف خاندان کے ساتھی اور سپورٹرز نے گراونڈ پہلے سے ہی تیار کر لیا تھاکیونکہ جس دن سے شریف خاندان کو عدالتی کھنچا تانی میں الجھنا پڑا۔ن لیگ کیمپ سے عدلیہ کے جانبدار ہونے کی آوازیں بلند کی جانے لگیں کہ اگر فیصلہ شریف خاندان کے خلاف آتا ہے تو اس فیصلے کو متنازعہ اورعدلیہ کو اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی قرار دیا جائے ۔یہی وہ رد عمل ہے جو کہ دیکھنے میں آرہا ہے اور اسے نظریاتی اور اصولی بنیادوں پر پرکھنے کی کوشش نہیں کی جارہی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button