کالم/بلاگ

افغان مفاہمتی عمل اور پاکستان

 ظہیر احمد سمرا

’’ افغان مفاہمتی عمل کیلئے پاکستان کی حمایت، افغانستان میں امن کیلئے ہمارے اخلاص کا ثبوت ہے‘‘ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے یہ الفاظ، جو انہوں نے گزشتہ روز دوحہ میں طالبان رہنماؤں اور دہلی میں بھارتی وزیر خارجہ اور مشیر قومی سلامتی سے بات چیت کے بعد اسلام آباد پہنچنے والے امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت ڈاکٹر زلمے خلیل زاد سے تبادلہ خیال میں کہے، ایک ایسی حقیقت کا اظہار ہیں جس کا انکار کسی بھی انصاف پسند شخص کے لیے ممکن نہیں۔ تاہم آرمی چیف کو یہ بات کہنے کی ضرورت جس وجہ سے پیش آئی وہ یہ ہے کہ کشمیر اور پورے بھارت میں مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے خلاف اپنے پے درپے اقدامات سے خود کو دنیا کی بدترین متعصب حکومت ثابت کرنے والی مودی سرکارکے مذکورہ بالا عہدیداروں نے امریکی نمائندہ خصوصی سے بات چیت میںافغانستان میں تشدد کے واقعات میں حالیہ اضافے کا ذمہ دار مبینہ طور پر پاکستانی سرزمین پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو قرار دیتے ہوئے انہیں ختم کرانے پر زور دیا حالانکہ دہشت گردی کے خلاف جتنی فیصلہ کن کارروائی پاکستان نے کی ہے اس کی کوئی دوسری مثال موجود نہیں۔اس تناظر میں پاکستان کے خلاف بھارتی الزامات واضح طور پر کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل سنگین خلاف ورزیوں اور پورے بھارت میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردینے والے اقدامات سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے لگائے گئے کیونکہ ہر ہوشمند شخص جانتا ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن واضح اسباب کی بنا پر پاکستانی قوم کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا خود افغان عوام کے لیے۔ دونوں برادر مسلم ملک ایک دوسرے سے مذہبی، نسلی، لسانی، معاشی، تاریخی اور جغرافیائی رشتوں میں اس طرح منسلک ہیں کہ ان کا نفع نقصان ایک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے چار عشروں کے دوران افغان سرزمین کے بیرونی فوجی مداخلتوں کا نشانہ بننے کے نتیجے میں افغانستان کے بعد پورے خطے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک پاکستان ہے جس پرایک طرف لاکھوں افغان مہاجروں کی میزبانی کا بوجھ پڑا اور دوسری طرف شدید بدامنی سے سابقہ پیش آیا۔یہی وجہ ہے کہ افغان امن عمل میں پاکستان نے ابتداء ہی سے سرگرم کردار ادا کیا ، اس کے نتیجے میں طالبان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا مشکل مرحلہ شروع ہوا جو خاصے اتار چڑھاؤ کے بعد بالآخر حتمی معاہدے تک پہنچا اور اب خود افغان گروپوں کے درمیان مفاہمت کا عمل جاری ہے جس کا حتمی کامیابی کی منزل تک پہنچنا خود پاکستان کے امن وا ستحکام کے لیے ناگزیر ہے ۔ اس کے برعکس بھارت کا مسئلہ یہ نظر آتا ہے کہ افغان امن کے بعد اس کیلئے افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال کرنا ممکن نہیں رہے گاچنانچہ وہ افغان امن عمل میں رخنہ ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کرتا رہا ہے اور کرسکتا ہے۔طالبان امریکہ معاہدہ ہوجانے کے بعد بھی شواہد کے مطابق اس نے کابل انتظامیہ کو اس پر عمل درآمد سے روکنے کے لیے اپنے اثرات استعمال کیے ہیں۔ امریکی قیادت بھی بھارت کے اس کردار سے یقینا ًبے خبر نہیں ، یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے بھارت کو افغان امن عمل سے باہر رکھا ہے جبکہ پاکستان کی کوششوں کو اس کی جانب سے اب تحفظات کے بغیر تسلیم کیا جاتا ہے چنانچہ زلمے خلیل زاد نے گزشتہ روز جنرل قمر جاویدباجوہ سے ملاقات میں بھی پاکستان کی مخلصانہ کاوشوں کا کھلے دل سے اعتراف کیا۔افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان نے ہمیشہ خلوص کے ساتھ کوششیں کی ہیں، افغانستان میں امن پاکستان ا ور خطہ کے علاوہ خود افغان عوام کیلئے بھی بہت ضروری ہے۔ قیام امن کے اس کام میں سب سے زیادہ اہم کردار امریکہ اورطالبان نے ہی ادا کرنا ہے، خاص طور پر افغان حکومت اور طالبان کے درمیان معاہدے پر عملدرآمد کی سب سے بھاری ذمہ داری بھی امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔ پاکستان نہایت خلوص کے ساتھ افغان حکومت، طالبان اور امریکہ کے درمیان بہترین رابطے کا کردار اداکرتا رہاہے، جس کی وجہ سے یہ امن معاہدہ عمل میں آیا۔ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے خاص طور پر پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ گزشتہ روز ان کی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے دیگر امور بھی زیرغور آئے۔ پاکستان کی دلی خواہش ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن قائم ہو تاکہ وہ بھی سی پیک میں شامل ہو کر خطے میں ترقی و خوشحالی کے نئے دور میں داخل ہو اور یہ تب ہی ممکن ہے جب افغانستان میں امن و استحکام قائم ہوگا۔افغان مفاہمت کو حتمی کامیابی تک پہنچانے کے لیے خطے میں بھارت کے شرپسندانہ کردار کو لگام دینا لازمی ہے اور اپنے اثر و رسوخ کے باعث یہ کام امریکہ ہی کرسکتا ہے اور اسی کو کرنا ہوگا بصورت دیگر ایک طرف پاک بھارت کشیدگی دنیا کے امن کے لیے خطرہ بنی رہے گی جبکہ دوسری طرف افغانستان میں بھی پائیدار مفاہمت ممکن نہیں ہوگی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button