کالم/بلاگ

بھارت میں علیحدگی پسند نکسلائٹ تحریک زوروں پر

 ظہیر احمد سمرا

بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں ہر آنے والے دن کے ساتھ زور پکڑتی جا رہی ہیں اور خصوصاً شمال مشرقی بھارت کے صوبوں یعنی ناگا لینڈ، میزورام، میگھالیہ، منی پور، تری پورہ ، ارونا چل پردیش (مقبوضہ تبت)، سکم اور آسام میں تو یہ باقاعدہ آزادی کی تحریکیں بن چکی ہیں۔ گذشتہ بیس برسوں کے دوران نکسل علیحدگی پسند 12000 سے زائد بھارتی سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اتار چکے ہیں۔ بھارت کے 240 سے زائد اضلاع میں نکسلائٹ تحریک زوروں پر ہے اور ہزاروں افراد اس کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ خود بھارتی اعلیٰ حکام بشمول سابق وزیراعظم منموہن سنگھ، ایک سے زائد مرتبہ نکسل تحریک کو بھارت کی داخلی سلامتی کیلئے سب سے بڑا خطرہ قرار دے چکے ہیں۔ کل رقبے میں سے قریباً 35 سے 40 فیصد حصے پر عملی طور پر نکسل گوریلوں کا کنٹرول ہے اور تقریباً ہر روز ان کی کارروائیوں میں بھارتی سیکورٹی فورسز کے درجنوں اہلکار اور عہدیدار ہلاک ہو رہے ہیں۔ علاوہ ازیں ان نکسل گوریلوں کی کارروائیوں کے باوجود بھارت کے دور دراز علاقوں میں اس تحریک کو مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ بھارتی میڈیا پر سر عام نکسل علیحدگی پسندوں کی تعریف کی جا رہی ہے، خصوصاً ہندوستانی ہندو قبائلی خواتین میں نکسل علیحدگی پسندوں کیلئے نرم گوشہ پیدا ہو چکا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ خانہ بدوش ہندو قبائلی خواتین کی اکثریت کو بدترین امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ چونکہ نکسل موومنٹ اور شمال مشرقی بھارت کے دیگر علاقوں میں جاری تحریکیں خواتین اور معاشرے کے دیگر طبقات پر ہونے والے اس وحشیانہ اور غیر مساوی رویے کے خلاف سرگرم عمل ہیں اور اپنے دعوے اور عمل سے ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ وہ خواتین، اقلیتوں اور دلتوں کے ساتھ اس قسم کا طرز عمل گوارا نہیں کرے گی اسی وجہ سے بھارت کے خانہ بدوش ہندو قبائل اور نچلی ذات کے ہندوئوں میں یہ تحاریک حیرت انگیز سرعت کے ساتھ مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی سطح پر اس جانب توجہ دی جائے کیونکہ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں جلد یا بدیر خطے میں کسی بڑے حادثے یا سانحے کا باعث بن سکتی ہیں۔ بھارت کے حکمران طبقات تو اکثر اپنی عظمت کا ڈھنڈورا پیٹتے رہتے ہیں، جبکہ ناقدین کی رائے میں دہلی سرکار کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا مظہر بھارت کی موجودہ حالتِ زار ہے۔ بھارت میں خواتین بھی طرح طرح کے مظالم سہہ رہی ہیں اور ان کے ساتھ بھارتی معاشرے کے طرز عمل کو کسی بھی طور مساویانہ قرار نہیں دیا جا سکتا مگر اس ضمن میں قبائلی ہندو خواتین کی حالت تو ایسی قابل رحم ہے جن کا تصور بھی دور حاضر میں نہیں کیا جا سکتا۔خانہ بدوش ہندو قبائلی خواتین کی حالت زار کا اندازہ صرف اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ کچھ عرصہ قبل ممتاز ہندو خاتون صحافی اور دانشور ارون دھتی رائے نے انکشاف کیا کہ بھارتی معاشرے میں خانہ بدوش ہندو قبائلی خواتین کو اپنی شادی کے بعد اپنے جسم کا اوپری حصہ عریاں رکھنا پڑتا ہے اور اکیسویں صدی کے بیس برس گزر جانے کے باوجود بھی ان کروڑوں بے کس ہندو خواتین کو اونچی ذات کے ہندوئوں کے بنائے ان گھٹیا اور فرسودہ قوانین اور روایات کی سختی سے پابندی کرنی پڑتی ہے اور حد درجہ امتیازی سلوک کا شکار ہونا پڑتا ہے۔بھارت کے بالا دست طبقات کے اسی ظالمانہ طرز عمل کے نتیجے میں بھارت کے مختلف صوبوں میں نکسل تحریک کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ہے اور تاحال اس میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، کیونکہ نکسل موومنٹ اور شمال مشرقی بھارت کے دیگر علاقوں میں جاری تحریکیں خواتین اور معاشرے کے دیگر طبقات پر ہونیوالے اس وحشیانہ اور غیر مساوی رویے کیخلاف سرگرم عمل ہیں اور اپنے دعوے اور عمل سے ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ وہ خواتین ، اقلیتوں اور دلتوں کے ساتھ اس قسم کا طرز عمل گوار نہیں کرے گی۔ اسی وجہ سے بھارت کے خانہ بدوش ہندو قبائل اور نچلی ذات کے ہندوئوں میں یہ تحاریک حیرت انگیز سرعت کیساتھ مقبولیت حاصل کر رہی ہیں اور اپنے زیر قبضہ علاقوں میں نکسل چھاپہ ماروں نے اچھوت اور ہندو قبائلی خواتین کیساتھ ہونیوالے اس قسم کے سلوک کی خاصی حد تک حوصلہ شکنی کی ہے۔اس بات سے یہ امر بھی واضح ہوتا ہے کہ بھارت جیسی غیر مساوی بلکہ ظالمانہ سوسائٹی جیسے مزاج کا حامل معاشرہ یا ریاست زیادہ دیر تک اپنی موجودہ ہیئت اور سالمیت کو برقرار نہیں رکھ سکتی ، شاید یہی وجہ ہے کہ نکسل باڑی تحریک کے ان دعووں کو سرے سے مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ بھارت اپنے ہی تضادات اور مظالم کے بوجھ تلے دب کر قصہ پارینہ بن جائیگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button