کالم/بلاگ

تذکرہ ایک حق کے راہی کا

محمد طیب قاسمی

یہ کہانی ہے مفکر اسلام حضرت مولانا اللہ وسایا قاسم شہید نوراللہ مرقدہ کی جو شور کوٹ کے قریب نو مئی 2003جمعہ کے دن ایک ٹریفک حادثہ میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے جب ابھی ان کی اپنی زندگی کی سہ پہر بھی نہیں ہوئی تھی


صدیوں یاد رہنے والا عظیم مرد مجاہد،سیاسی میدان میں عظیم کارکن،خطابت کے میدان میں ایک بہترین مبلغ، تبلیغ کے میدان کا عظیم شاہکار، تحریکی میدان کا عظیم شاہسوار،تدریس کے میدان میں ایک بہترین معلم،
دنیائے صحافت کا ایک عظیم پھول جسے دنیا آج بھی مفکر اسلام عظیم مذہبی و جہادی لیڈرحضرت مولانا اللہ وسایا قاسم شہید نوراللہ مرقدہٗ کے نام سے یاد کرتی ہے۔آپ کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔آپ نے دین کے ہر شعبے میں بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کیا۔۔۔
اور آپ کے خدمات انشاءاللہ تاقیامت یاد رکھی جائیں گی۔آپ کا تعلق جہانیاں منڈی ضلع خانیوال سے تھا ۔چونکہ آپ نے دینی گھرانے میں آنکھ کھولی۔اسی لیے دینی تعلیم کا شوق شروع سے ہی تھا۔۔تعلیم کا خواب پورا کرنے کے لئے آپ نے جامعہ رحمانیہ کا رخ کیا اور موقوف علیہ تک تعلیم کے منازل طے کئے۔۔بعد ازاں دورہ حدیث شریف کے لئے اپنے پیرومرشد شیخ و مربی حافظ الحدیث حضرت مولانا عبداللہ درخواستی نوراللہ مرقدہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔۔اپنی شیخ کی صحبت و سرپرستی میں رہتے ہوئے آپ نے دورہ حدیث شریف و دورتفسیرالقران مرکز رشد و ہدایت جامع مخزن العلوم خانپور سے کیا اپنے شیخ حضرت درخواستی نوراللہ مرقدہٗ کی صحبت میں رہتے ہوئے آپ ایک عظیم مبلغ و معلم مذہبی اور جہادی لیڈر بن کر ابھرے۔
18 سال کی مختصر سی عمر میں آپ درس نظامی کو پایۂ تکمیل تک پہنچا چکے تھے۔۔چونکہ طالب علمی کے دوران ہی آپ جمیعت طلباء اسلام کے سرگرم کارکن بن کر ابھرے۔۔۔
اور تعلیمی مصروفیات سے فارغ ہوتے ہی اپنے شیخ درخواستی نوراللہ مرقدہٗ کی فیض توجیہات کو برقرار رکھتے ہوئے آپ نے جمیعت علماء اسلام اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔۔
تا دم آخر جمعیت علماء اسلام کے ایک مخلص کارکن بن کر کام کیا
اگر میں آپ کو تصوف کے میدان میں دیکھتا ہوں تو مجھے آپ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ عبدالمالک صدیقی نوراللہ مرقدہٗ اور مرشد عالم محبوب العارفین پیر طریقت رہبر شریعت حافظ پیر غلام حبیب نقشبندی نوراللہ مرقدہٗ کی صحبت میں نظر آتے ہیں۔اگر میں صحافت کے میدان میں نظر دوڑاتا ہوں تو مجھے آپ کا تعلق مفکراسلام عظیم مذہبی سکالر حضرت مولانا زاھدالراشدی دامت فیوضہم کے ساتھ نظر آتا ہے ۔اگر میں آپ کو رد قادیانیت اور ختم نبوت کے محاذ پر دیکھتا ہوں تو مجھے آپ کا تعلق انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ فاتح قادیانیت مولانا منظور احمد چنیوٹی نوراللہ مرقدہٗ کے شانہ بشانہ کام کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔اور ا گرمیں مجلس احرار اسلام کی بات کرو تو مجھے وہاں بھی آپ کا تعلق حضرت مولانا عطاءاللہ شاہ بخاری نوراللہ مرقدہٗ کے فرزندان کے ساتھ اور بخاری خاندان کے چشم وچراغ حضرت مولانا کفیل شاہ صاحب بخاری دامت فیوضہم کے ساتھ نظر آتا ہے۔اگر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی طرف دیکھوں تو وہاں بھی مجھے اپنے اکابرین کے شانہ بشانہ قادیانیت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا ہوا یہ مرد مجاہد نظر آتا ہے۔
ناموس صحابہ کی پلیٹ فارم پر رافضیت کو ناکوں چنے چبوانے والا یہ مرد مجاہد اس میدان میں بھی اپنے اکابرین کے ساتھ صف اول میں نظر آتا ہے۔
شہید ناموس رسالت و ناموس صحابہ
شیخ الحدیث حضرت مولانا سمیع الحق شہید نوراللہ مرقدہٗ کے ساتھ آپ کا بہت ھی دیرینہ تعلق تھا۔
یہ سب حضرت شیخ درخواستی نوراللہ مرقدہٗ کی فیض توجیہات کا نتیجہ تھا کہ آپ نے ہر مذہبی پلیٹ فارم پر کام کیا
بارہا آپ نے ملک سے بیرون سفر بھی کئے ملک کے طول و عرض کے اسفار بھی کیے۔ ہر جگہ پر آپ نے اکابرین سے سیکھا ہوا سبق اور اپنے اکابرین اور قائدین کے پیغامات کو بخوبی احسن انداز سے قوم تک پہنچایا
آپ ایک عظیم خطیب اور صاحب مطالعہ شخصیت کے مالک تھے۔۔۔کتابوں سے محبت ہمیشہ سے آپ کا ذوق رہا۔ اور یہی وجہ تھی آپ صحافت کی دنیا میں کالمنسٹ مانے جاتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ روزنامہ اوصاف،ماہانہ الہلال کی صفات آپ کے قلم سے رنگین ہوتے رہے۔۔
آپ وہ عظیم مرد مجاہد تھے جس نے حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر امت مسلمہ کو واضح طور پر دو ٹوک الفاظ میں یہ پیغام دیا کہ میں وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو وزارت عظمی کا حقدار نہیں سمجھتا اور بےنظیر بھٹو کا وزیراعظم بننے کے بعد بھی آپ کا یہی موقف تھا ساری دنیا بے نظیر بھٹو کو وزیراعظم مانے میں اسے کبھی بھی نہیں مانتا اور نہ ہی مانوں گا۔آپ نے ہمیشہ حق کو سچ کا ساتھ دیا۔۔اور یہ سب حضرت درخواستی رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت کا اثر تھا کہ تا دم آخر آپ اپنے اکابرین کے ساتھ نتھی رہے
اور پورے پاکستان میں اپنی خدمات کا لوہا منوایا۔
آپ کےفرزند ارجمند حضرت مولانا محمد اسامہ قاسم جو اب کڑیل جوان ہو کے گھنا سایہ اور تناور درخت کی شکل میں نت نئے پھولوں میں خوشبو پرونے کا سبب ہے۔ اللہ ان کی عمر میں برکت عطا فرمائے ۔آمین۔
آپ نے اپنی ساری زندگی دین اسلام کے لئے وقت کی اور کسی راستے پر استحکامت کے ساتھ گامزن رہے اور انتہائی پرکشش موت یعنی شہادت کے رتبے سے سرفراز ہوئے
عجب قیامت کا حادثہ ہے اشک ہیں آستیں نہیں ہے
زمیں کی رونق چلی گئی ہے افق پہ مہر مبیں نہیں ہے
تیری جدائی پہ مرنے والے وہ کون ہے جو خزیں نہیں ہے
مگر تیری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے
خلاق عالم سے دعا ہے کہ وہ آپ کی قبر کو جنت کا باغ بنائے۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button