کالم/بلاگ

رمضان، دو احادیث، لامتناہی انبساط

نور حسین افضل

رمضان المبارک میں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر فرضوں کے برابر ہو جاتا ہے۔اگر ہم رمضان المبارک میں تراویح کا پورا اہتمام کریں اور ہر نماز کے ساتھ جو غیر مکدہ سنتیں اور نوافل ہیں ان کا بھی اہتمام کر لیں تو تقریبا چالیس رکعت نفل ہو جائیں گے۔ اگر رمضان المبارک کے 80 سجدے (40تراویح، 40 نوافل) ہمیں نصیب ہو جائیں ان سجدوں کا کتنا اجر ہو گا۔ اور ان نوافل کی وجہ سے ہم اللہ تعالی کے کتنے قریب ہو جائیں گے۔ ذیل میں دو احادیث پر اکتفا کرتا ہوں جس سے رمضان المبارک کی اہمیت اور افادیت نمایاں ہو جائے گی۔
پہلی حدیث:
حضرت سلمان کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے شعبان کی آخری تاریخ میں ہمیں وعظ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
”اے لوگو! تمہارے اوپر ایک مہینہ آ رہا ہے جو بہت بڑا مہینہ ہے، بہت مبارک مہینہ ہے۔ اس مہینے میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے۔ اللہ تعالی نے اس کے روزے کو فرض فرمایا اور اس کی رات کے قیام (یعنی تراویح) کو ثواب کی چیز بنایا ہے۔ جو شخص اس مہینہ میں کسی نیکی کے ساتھ اللہ تعالی کا قرب حاصل کرے وہ ایسا ہے جیسے غیر رمضان میں فرض کو ادا کیا اورجو شخص اس مہینہ میں کسی فرض کو ادا کرے وہ ایسے ہے جیسے غیر رمضان میں ستر فرض ادا کرے۔ یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ اور یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا ہے۔ اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ (اس مہینے میں) جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے گا تو یہ اس کے لئے گناہوں کے معاف ہونے اور آگ سے خلاصی کا سبب ہوگا اور اس کو روزہ دار کے ثواب جتنا ثواب ملے گا مگر روزہ دار کے ثواب سے بھی کچھ کم نہیں کیا جائے گا”۔
صحابہ کرام نے عرض کیا:
”یارسول اللہﷺ ہم میں سے ہر شخص تو اتنی وسعت نہیں رکھتا کہ روزہ دار کو افطار کرائے”۔
آپﷺ نے فرمایا:
(”یہ ثواب پیٹ بھر کر کھلانے پر موقوف نہیں، بلکہ)ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی یا ایک گھونٹ لسی سے روزہ افطار کرانے پر بھی اللہ تعالی یہ ثواب عطا فرما دیتے ہیں۔ یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ اللہ تعالی کی رحمت ہے اور درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ آگ سے آزادی ہے۔ جو شخص اس مہینہ میں اپنے غلام (و خادم) سے اس کا بوجھ (یعنی ذمہ داری اور کام کاج) کم کر دے تو حق تعالی شانہ اس کی مغفرت فرما دیتے ہیں اور اسے آگ سے آزادی عطا فرماتے ہیں۔ اس مہینے میں چار چیزوں کی کثرت کرو، جن میں سے دو چیزیں اللہ تعالی کی رضا کے واسطے ہیں اور دو چیزیں ایسی ہیں کہ جن کو حاصل کئے بغیر تمہیں کوئی چارہ کار نہیں۔ پہلی دو چیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو وہ کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے۔ اور دوسری دو چیزیں یہ ہیں کہ جنت کی طلب کرو اورآگ سے پناہ مانگو۔ جو شخص کسی روزہ دار کو پانی پلائے گا حق تعالی (قیامت کے دن) میرے حوض سے اس کو ایسا پانی پلائیں گے جس (کو پینے) کے بعد جنت میں داخل ہونے تک اسے پیاس نہیں لگے گی۔” (الترغیب و الترھیب ج 2ص 57)
دوسری حدیث:
حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:
”جنت کو رمضان المبارک کے لئے شروع سال سے آخر سال تک آراستہ و مزین کیا جاتا ہے۔ جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے جس کو ”مثیرہ” کہا جاتا ہے۔ (اس ہوا کے جھونکوں سے) جنت کے درختوں کے پتے اور کواڑوں کے حلقے بجنے لگتے ہیں، جس سے ایسی سریلی آواز نکلتی ہے کہ سننے والوں نے اس سے اچھی آواز کبھی نہیں سنی۔ حورعین، حوریں اپنے مکانوں سے نکل آتی ہیں اور جنت کے بالا خانوں کے درمیان کھڑے ہو کرکہتی ہیں:
”ہے کوئی اللہ تعالی کی بارگاہ میں ہم سے منگنی کرنے ولا؟ تا کہ اللہ تعالی اس کی (ہم سے) شادی کردیں۔”
پھر وہ حوریں (جنت کے نگران فرشتے ”رضوان” سے)پوچھتی ہیں:
”اے رضوان! یہ کسی رات ہے؟”
وہ جواب میں تلبیہ پڑھتے ہیں، پھر کہتے ہیں:
”یہ رمضان المبارک کی پہلی رات ہے۔ (آج کی رات سے) حضرت محمدﷺ کی امت کے روزہ داروں کے لئے جنت کے دروازے کھول دئیے گئے ہیں۔”
(اس کے بعد) حضورﷺ نے فرمایا، اللہ تعالی فرماتے ہیں:
”اے رضوان! جنت کے دروازے کھول دے۔ اے مالک! احمدﷺ کی امت کے روزہ داروں پر جہنم کے دروازے بند کر دے۔ اے جبرائیل! زمین پر جائو اورسرکش شیاطین کو قید کرو اور ان کے گلے میں طوق ڈال کر انہیں دریا میں پھینک دو، تاکہ وہ میرے محبوب محمدﷺ کی امت کے روزوں کو خراب نہ کرسکیں”۔
حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:
اللہ تعالی رمضان کی ہر رات میں ایک منادی کو حکم فرماتے ہیں کہ وہ تین مرتبہ یہ آواز لگائے۔
”ہے کوئی مانگنے والا جس کو میں عطا کروں؟ ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ میں اس کی توبہ کو قبول کروں؟ ہے کوئی مغفرت چاہنے والا کہ میں اس کی مغفرت کروں؟ کون ہے جو غنی کو قرض دے، ایسا غنی جو نادار نہیں، اور ایسا پورا پورا ادا کرنے والا جو ذرہ برابر بھی کمی نہیں کرتا”۔
(پھر) حضور اکرمﷺ نے فرمایا:
حق تعالی شانہ رمضان شریف میں روزانہ افطار کے وقت ایسے دس لاکھ آدمیوں کو جہنم سے خلاصی عطا فرماتے ہیں جو جہنم کے مستحق ہو چکے ہوتے ہیں۔ اورجب رمضان کا آخری دن ہوتا ہے تو اللہ تعالی یکم رمضان سے آخر رمضان تک جہنم سے آزاد کئے گئے لوگوں کے برابر لوگ اس ایک دن میں (جہنم سے) آزاد فرماتے ہیں۔ اور جس رات لیلتہ القدر ہوتی ہے تو اللہ تعالی حضرت جبرائیل علیہ السلام کوحکم فرماتے ہیں۔ وہ فرشتوں کے ایک بڑے لشکر کے ساتھ زمین پر اترتے ہیں۔ ان کے ساتھ ایک سبز جھنڈا ہوتا ہے جسے وہ کعبہ پر نصب کر دیتے ہیں۔ اورحضرت جبرائیل علیہ السلام کے سوبازو ہیں جن میں سے دو بازو وہ صرف اسی رات میں کھولتے ہیں۔ (جب وہ انہیںکھولتے ہیں تو) ان کو مشرق سے مغرب تک پھیلا دیتے ہیں۔ پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام فرشتوں کو ترغیب دیتے ہیں کہ جو مسلمان بھی آج کی رات میں کھڑا ہو،بیٹھا ہو، نماز پڑھ رہا ہو اور ذکر کر رہا وہ اس کو سلام کریں اور مصافحہaa کریں اور ان کی دعائوں پر آمین کہیں۔ یہ حالت صبح تک جاری رہتی ہیں۔ جب صبح ہوتی ہے تو جبرائیل علیہ السلام آواز دیتے ہیں:
”اے فرشتوں کی جماعت! اب کوچ کرو اور (واپس) چلو”۔
فرشتے ان سے پوچھتے ہیں:
” اے جبرائیل! اللہ تعالی نے حضرت احمدﷺ کی امت کے مومنوں کی حاجتوں اور ضرورتوں کے بارے میں کیا معاملہ فرمایا؟”
جبرائیل علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اللہ تعالی نے ان کی طرف توجہ فرمائی اور چار آدمیوں کے سوا سب کو معاف فرما دیا”۔
صحابہ کرام کہتے ہیں ہم نے پوچھا:
”یارسول اللہﷺ!وہ چار آدمی کون سے ہیں جن کی مغفرت نہیں ہوتی؟”
آپﷺ نے فرمایا:
(۱) وہ آدمی جو شراب کا عادی ہو (۲)والدین کا نافرمان (۳)قطع رحمی کرنے والا اور رشتے داریاں توڑنے والا (۴) کینہ رکھنے والا اور آپس میں قطع تعلقی کرنے والا۔
پھرحضورﷺ نے گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا) جب عید الفطر کی رات ہوتی ہے تو (آسمانوں میں) اس کا نام ” لیل الجائزہ” (انعام کی رات) رکھا جاتا ہے۔ اورجب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ تعالی فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیج دیتے ہیں۔ وہ زمین پر اتر کر گلیوں (اور راستوں) کے سروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور ایسی آواز سے جن کو جنات اور انسانوں کے سوا ہرمخلوق سنتی ہے پکارتے ہیں:
”اے محمدﷺ کی امت! اس رب کریم کی (بارگاہ) کی طرف چلو، جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے اور بڑے بڑے قصوروں کو معاف فرمانے والا ہے۔”
پھر جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں تو اللہ تعالی فرشتوں سے دریافت فرماتے ہیں:
”کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنا کام پورا کرچکا ہو؟”
فرشتے عرض کرتے ہیں:
”اے ہمارے معبود! اے ہمارے سردار! اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری اس کو پوری پوری دے دی جائے۔”
حق تعالی شانہ فرماتے ہیں:
”اے فرشتو! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان کو رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلے میںاپنی رضا اور مغفرت عطا کردی”۔
اور بندوں سے مخاطب ہو کر ارشاد فرماتے ہیں:
”اے میرے بندو! مجھ سے مانگو۔ میری عزت کی قسم! میرے جلال کی قسم! آج کے دن اپنے اس اجتماع میں مجھ سے اپنی آخرت کے بارے میں جو مانگو گے، ضرور عطا کروں گا اور دنیا کے بارے میں جو سوال کرو گے اس میں تمہاری مصلحت کو دیکھوں گا (اور اس کے مطابق دینے نہ دینے کا فیصلہ کروں گا)۔ میری عزت کی قسم! جب تک تم میرا خیال رکھوں گے میں تمہاری لغزشوں پر پردہ ڈالتا رہوں گا (اور ان کو چھپاتا رہوں گا)۔ میری عزت کی قسم! میرے جلال کی قسم! میں تمہیں مجرموں(اورکافروں) کے سامنے رسوا اور شرمندہ نہ کروںگا۔ بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جائو تم نے مجھے راضی کر دیا اور میں تم سے راضی ہو گیا۔” فرشتے اس اجر و ثواب کو دیکھ کر جو اس امت کو عید الفطر کے دن ملتا ہے خوش ہوتے ہیں اور کھل اٹھتے ہیں۔ (الترغیب و اترھیب ج 2 ص60)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button