کالم/بلاگ

رمضان المبارک اور ہمارا معاشرہ

 مولانا احمد ضیا

منچن آباد

جزبہ عبادات واطاعت سے لبریز قلوب رحمت خداوندی کی برسات کے بے چینی سے منتظر ہیں۔
تو مسلم گھرانوں کی عورتیں سحروافطاری کے لیے تیاریاں کررہی ہیں۔
دکانداروں کےلیے بھی ماہ مبارک مادی خوشحالی کا پیغام بن کر آرہا ہے۔
حفاظ کرام اگرقرآن کی گردان میں مشغول ہیں توقرآن سننےکاشوق رکھنے والے حافظوں کی تلاش میں سرگرداں نظر آرہے ہیں اوربہت مالدارنعمت خداوندی کےقدرداں اپنی زکوتھ کے حساب وکتاب میں مشغول ہیں تاکہ ماہ مبارک شروع ہوتے ہی اپنے فریضہ سے سبکدوش ہوں اور ستر گنا ثواب حاصل کریں۔
”تراویح“
مسجدوں،مکانوں اور کارخانوں میں تراویح زوروشور سےجاری ہیں۔کہیں اطمینان سےایک ایک پارہ تو بہت سی جگہوں تین تین پاروں کی گردان ہوگی اور کسی کسی جگہ صرف ایک ڈیڑھ گھنٹے میں پانچ پانچ پارے پڑھنے کا باقاعدہ اعلان کیا جارہا ہیں۔یہاں الفاظ کی سرعت دیکھ کر آبشاروں کی روحانی بھی شرماۓ گی اور سجدوں کے آداب برسرعام پامال شیطان کو بھی شاباش دینے پر مجبور کردے گی۔
کسی کو اس ”تیزگام“ تراویح کو دیکھ کر یہ احساس تک نہ ہوگا اس نے اپنے سب سے بڑے محسن
”قرآن پاک“ کی توہین میں کہا تک حصہ لیا ہے کتاب اللہ کے دل کوکس قدر ٹھیس پہنچاٸی ہے?
دوسروں کو چھوڑوں خود حافظ بھی اپنی تیزی پر فخر کرتا دکھاٸی دے رہا ہے اس کے دل پرقطعاً یہ بات نہ گزرے گی کہ اس نے الفاظ قرآنی کا گلا گھونٹ کرکتنی بڑی زیاتی کی ہےاورقرآن کو اپنے سے ناراض کرکے کتنی بڑی محرومی مول لی ہے۔
”راتوں کی بےقدری“
تہجدکا وقت ہے۔ رمضان المبارک کی رحمتیں ٹوٹ کر بندگان خدا پر برس رہی ہیں۔فرشتے صدا لگا رہے ہیں”اے بھلاٸی کے طالب بڑھ اور اے براٸی کا ارادہ سے باز آ(مشکوتھ١٧٣)
اللہ تعالی اپنے بندوں کاشوق عبادت دیکھ کرفرشتوں سے فخر فرما رہے ہیں۔
ہم نے رمضان المبارک کی راتوں کو گانے سننے سے نہ روکے ساری رات فضول گفتگوں چل رہی ہے ہوٹلوں میں راتیں گزر رہی ہیں۔یہ گانے اللہ تعالی کی رحمت کے بجاۓ اس غضب کے نزول کا سبب۔
ہے کوٸی اللہ کابندہ جو اس لعنت سے قوم کو نجات دلاکراپنے لیے اُخروی سعادت کی ضمانت لے?
اورعبادت کی دعاٶں میں اپنا حصہ مقرر کراۓ?
”یہ سنت کا مزاق“
حمام پر صبح صبح شیوبنوانے والوں کی بھیڑہے ۔ناٸی بھی حیران ہے کہ آج بیک وقت اتنے سارے بڑھے ہوۓ لوگوں نے کیوں اچانک میری دکان پر ہلہ بول دیا? تحقيق سے پتہ چلا کہ یہ بھیڑ ان بدنصیب حفاظ کی ہیں جو سال بھر داڑھی جیسی عظیم سنت اسلام سے محروم رہتے ہیں جو قرآن سنانے کا حق حاصل کرنے کے لیے رمضان المبارک سے چند روز قبل شیو بنانا چھوڑ دیتے ہیں۔ جب ختم قرآن کے بعد ان کا مقصد حاصل ہو جاتا ہے تو یہ بھراپنی سابقہ شیطانی ڈگری پر آجاتے ہیں۔
ان کی یہ جسارت دیکھ کر سچے صاحب ایمان کا کلیجہ منہ کو آ رہا ہوتا ہے۔
کیا اللہﷻ اور اس کے رسولﷺ کے ساتھ اس بے ہودہ مزاق سے ہم نے بچنے کا کوٸی راستہ نکالا ہے?
کیا اس استہزا کو روکنے کے لیے ہماری اسلامی غیرت کچھ انگڑاٸی لے گی?
”افطار پارٹیاں“
شامیانے،سجاوٹ،میز کرسیاں اور روشنی دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کوٸی بڑی ”خلاف شرع شادی“
ہونے والی ہے۔پوچھنے پر پتہ چلتا ہے کہ یہ شادی نہیں بلکہ”افطارپارٹی“کااہتمام ہے۔یہ پارٹیاں نۓ زمانہ کے رمضان المبارک کافیشن اورسیاست اور چاپلوسی کا پلیٹ فارم بن گٸی ہیں۔ان پارٹیوں میں غریبوں دینداروں کے بجاۓ عموماً ایسے لوگوں کو مدعوکیاجاتا ہیں جو ماہ مبارک کے مقصد اور روح سے نہ آشناہیں۔اس تقریبات کی نحوست سے مغرب کی نماز قضا ٕ اور تراویح بھی خطرے میں پڑجاتی ہے۔یہی نہیں اس میں تصویر کشی ویڈیوگرافی عورتوں کا اختلاط کرکے روزہ کا ثواب برسرعام غارت کیا جاتا ہے۔کیایہ رسم ہمارے لیے باعث اجرو ثواب بن سکتی ہے?
ہرگز نہیں۔
آج ضرورت ہے ان خرافات کو بند لگانے کی تاکہ صیح معنی میں ہم رمضان المبارک کی برکتوں سے مالامال ہو سکیں۔
”اعتکاف سے بےرغبتی“
رمضان المبارک کی مقدس ومبارک ساعتیں تیزی سے اختتام کو پہنچ رہی ہیں۔رات کے وقت تو عموما مسجدیں خالی نظر آٸیں گی اور اگر کوٸی دکھاٸی بھی دے گا تو ایسا بوڑھا سخص جو اپنی زندگی سے مایوس ہو چکاہو۔ایسا کیوں?کیا اعتکاف سنت نہیں?کیاشہنشاہ عالم کے دربار میں برابری اہل ایمان کو محبوب نہیں?کیاماہ مبارک کی برکتیں لوٹنے کا ان میں ولولہ نہیں?
ہاں!ضرور ہے۔مگرصرف زبان کی حد تک۔اعتکاف وہ عبادت جس کا ہمارے محبوبﷺ نے حکم فرمایا اور کھبی ناغہ نہیں فرمایا اور ﷺکاارشاد ہے جس آدمی نے دس دن کا اعتکاف کیا اس آدمی کو دوحج اور دو عمرہ کا ثواب عطا ٕ کیا جاۓ گا(شعبہ الایمان 3، 425)
ایسی مہتم بالشان عبادت ہمارے اوپرماحول بوجھ بن چکی ہیں۔ اللہ تعالی ہمیں بھی اس عظیم عبادت کا لطف عطا ٕفرمائے آمین۔
”ختم قرآن“
مسجد دلہن بن رہی ہے ۔اوپرماحول سےنیچے سے لاٸٹوں اور رنگ برنگے قمقموں سے فضا پرنور ہے۔آج یہاں ختم قرآن ہوگا۔روزانہ تراویح میں زیادہ سے زیادہ ایک صف ہوتی تھی۔مگر آج اذان کے وقت ہی سے مسجد وسعت دامانی کے تنگ ہو گٸی کیوں?اس لیے کہ تراویح کے بعد مٹھاٸی کی تقسیم کا بھی پلان ہے جس کے لیے کٸی دنوں سے چندہ کی تحریک چل رہی تھی۔اللہ اللہ کرکے حافظ صاحب نے وتر کا سلام پھیرا دعاٸیں مانگی گٸیں مٹھاٸی تقسیم ہوٸیں ادھر حافظ صاحب کو پھولوں لاد دیا گیااور ساتھ میں طے شدہ یا بلا طے شدہ قرآن سنانے کا معاوضہ بنام”نزرانہ“پیش کیا گیا۔حافظ صاحب کی دلی مراد پوری ہوٸی تو دینے والوں نے بھی شکرکاسانس لیاکہ چندہ کی محنت ٹھکانے لگ گٸی۔رسولﷺنےارشاد فرمایا جوسخص قرآن کریم کو اس لیے پڑھے گاتاکہ اس کے ذریعہ لوگوں سے روزی اور کھانے پینے کی چیزیں حاصل کرے تو قیامت کے دن اس حافظ کو اس حالت میں اٹھایا جاۓ گا کہ اس کے چہرہ صرف ہڑی ہی ہڑی ہو گی گوشت موجود نہیں ہو گا(مشکواتھ 193)
ذرا غور فرمائے اللہ تعالی کی نظر میں کتنا بھیانک جرم ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button