کالم/بلاگ

رمضان اور قضا نمازیں

نور حسین افضل

ایسا کون سا انسان ہو گا جس کے ذمہ قضا نمازیں نہیں ہوں گی۔ ان نمازوں کی ادائیگی کا طریقہ کیا ہے اور کیا فقہی مسائل ہیں۔ جن کی جان کاری کے بعد ہماری منزل آسان ہو سکتی ہے۔ تھوڑی سی سوچ محنت اور حکمت عملی سے ہم یہ منزل آسان بنا سکتے ہیں۔ رمضان اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اس میں ایک فرض کا ثواب ستر فرضوں کے برابر ہے۔ اس میں ہم اپنی قضا فرض نماز بھی ادا کریں گے اور ثواب بھی ستر فرضوں کے برابر ہو گا۔
اپنی قضا نمازوں کو اسی رمضان المبارک سے ادا کرنا شروع کر دیں۔ ہم اپنے ماضی کے داغ، دھبے اور زخم دھوئیں گے تو ہمارا حال اور مستقبل اچھا ہو گا۔ شیطان ملعون کی چال دیکھیں وہ لوگ جن کی کئی کئی سال کی نمازیں ”قضاء” ہیں وہ رمضان المبارک میں ”نوافل” میں لگے رہتے ہیں۔ ایک فرض نماز بھی معاف نہیں ہے۔ اگر آپ رمضان المبارک میں ایک سو نفل پڑھتے ہیں تو ان نوافل کی جگہ فرض اور واجب نمازیں قضا کر لیں۔ ایک سو رکعتوں میں تو ماشا اللہ پانچ دن کی نمازیں ادا ہو جائیں گی۔اگر روزانہ پانچ دن کی قضا نمازیں ادا کریں تو تیس دن میں ڈیڑھ سو دنوں کا بوجھ ہلکا اور عظیم گناہ دھل جائے گا۔
آپ جانتے ہیں ہر مسلمان پر روزانہ بیس رکعتیں فرض اور واجب ہیں۔ فجر کی دو، ظہر کی چار، عصر کی چار، مغرب کی تین اور عشا کی چار رکعت یہ سترہ رکعتیں ہوئی اور تین رکعت وتر کل بیس زیادہ طاقت نہیں تو ایسا کرلیں کہ روزانہ ہر نماز کے ساتھ ایک قضا نماز ادا کر لیں۔ فجر کے ساتھ ایک فجر، ظہر کے ساتھ ایک ظہر اور اسی طرح نماز کے ساتھ ایک نماز اس کی خاطر نفل چھوڑنے پڑیں تو چھوڑ دیں۔ سنت غیر مکدہ چھوڑنی پڑیں تو چھوڑ دیں۔ رمضان المبارک کے لئے اتنا کافی ہے کہ روزہ رکھیں رات کو تراویح ادا کریں باقی نوافل کے اوقات میں اپنی قضا نمازیں ادا کریں۔ رمضان المبارک میں ایک فرض، ستر فرائض کے برابر وزنی ہو جاتا ہے اور نفل عبادت کا اجر فرض کے برابر ہو جاتا ہے۔ وہ خوش نصیب مسلمان جن کے ذمہ فرض نمازوں کی قضا نہیں ہے وہ زیادہ نوافل کا اہتمام کریں۔ ایسے لوگ کم ہی ہوں گے اکثر مسلمانوں پر قضا نمازوں کی گٹھڑیاں لدی ہوئی ہیں اورافسوس کہ انہیں اس کی فکر تک نہیں۔
”نماز” کا دراصل ایک خاص نصاب ہے انسان اگر اس نصاب تک پہنچ جائے تو پھر نماز اس کی روح میں اتر جاتی ہے اور اس کے لئے ذرہ برابر بوجھ نہیں رہتی بلکہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن جاتی ہے۔ تب نماز ادا کرنے میں اونچے مقامات الگ ملتے ہیں اور لذت الگ نصیب ہوتی ہے۔
اگر ہم نے قضا نمازوں کی ادائیگی شروع کر دی اور ہم اس ترتیب پر آ گئے تو جب عید کا دن آئے گا اور رمضان المبارک ہم سے رخصت ہوگا تو ہم انشا اللہ کم از کم تیس دنوں یا ایک سو پچاس دنوں کے بڑے قرض اور بڑے گناہ سے پاک ہو چکے ہوں گے اور اگر عادت نصیب ہو گئی تو رمضان المبارک کے بعد یہ سلسلہ جاری کھنا آسان ہو جائے گا کہ ہر نماز کے ساتھ ایک قضا نماز بھی ادا کرتے رہیں۔
قضا نمازوں کے پڑھنے کے مسائل
مسئلہ (۱) جس کی نماز چھوٹ گئی ہو تو جب یاد آئے فورا اس کی قضا پڑھے، بلا کسی عذر کے قضا پڑھنے میں دیر لگانا گناہ ہے۔
مسئلہ (۲) اگر کسی کی نمازیں قضا ہو گئیں تو جہاں تک ہو سکے جلدی سے سب کی قضا پڑھ لے ہوسکے تو ہمت کر کے ایک وقت سب کی قضا پڑھ لے۔ یہ ضروری نہیں کہ ظہر کی قضا ظہر کے وقت پڑھے اورعصر کی قضا عصر کے وقت اور اگر بہت سی نمازیں کئی مہینے یا کئی برس کی قضا ہوں تو ان کی قضا میں بھی جہاں تک ہو سکے جلدی کرے، ایک ایک وقت دو دو چار نمازیں قضا پڑھ لیا کرے، اگر کوئی مجبوری اور ناچاری ہوتو خیر ایک وقت ایک ہی نماز کی قضا، یہ بہت کم درجہ کی بات ہے۔
مسئلہ (۳) قضا پڑھنے کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے جس وقت فرصت ہو وضو کر کے پڑھ لے، البتہ اتنا خیال رکھے کہ مکروہ وقت نہ ہو۔
مسئلہ (۴) جس کی ایک ہی نماز قضا ہوئی اس سے پہلے کوئی نماز اس کی قضا نہیں ہوئی یا اس سے پہلے نمازیں قضا تو ہوئیں لیکن سب کی قضا پڑھ لی ہے۔ فقط اسی ایک نماز کی قضا پڑھنی باقی ہے تو پہلے اس کی قضا پڑھ لے تب کوئی ادا نماز پڑھے۔
مسئلہ (۵) اگر دو یا تین یا چار یا پانچ نمازیں قضا ہو گئیں اور سوائے ان نمازوں کے اس کے ذمے کسی اورنماز کی قضا باقی نہیں ہے، یعنی عمر بھر میں کوئی نماز قضا نہیں ہوئی یا قضا تو ہو گئی لیکن سب کی قضا پڑھ لی ہے تو جب تک ان پانچوں کی قضا نہ پڑھ لے تب تک ادا نماز پڑھنا درست نہیں اور جب ان پانچوں کی قضا پڑھے۔ چاہے تب ادا نماز پڑھے۔
مسئلہ (۶) اگر کسی کی چھ نمازیں قضا ہو گئیں تو اب بغیر ان کی قضا پڑھے ہوئی بھی ادا نماز پڑھنی جائز ہے اورجب ان چھ نمازوں کی قضا پڑھے تو جو نماز سب سے اول قضا ہوئی ہے پہلے اس کی قضا پڑھنا واجب نہیں ہے بلکہ جو چاہے پہلے پڑھے اورجو چاہے پیچھے پڑھے سب جائز ہے اوراب ترتیب سے پڑھنی واجب نہیں ہے۔
مسئلہ (۷) کسی کی بہت سی نمازیں قضا ہو گئی تھیں، اس نے تھوڑی تھوڑی کر کے سب کی قضا پڑھ لی،اب فقط چار پانچ نمازیں رہ گئیں تو اب ان چار پانچ نمازوں کو ترتیب سے پڑھنا واجب نہیں ہے بلکہ اختیار ہے جس طرح جی چاہے پڑھے اور بغیر ان نمازوں کی قضا پڑھے ہوئے بھی ادا پڑھ لینا درست ہے۔
مسئلہ (۸) قضا فقط نمازوں اور وتر کی پڑھی جاتی ہے، سنتوں کی قضا نہیں ہے، البتہ اگر فجر کی نماز قضا ہو جائے تو اگر دوپہر سے پہلے پہلے قضا پڑھے تو سنت اور فرض دونوں کی قضا پڑھے اور اگر دوپہر کے بعد قضا پڑھے تو فقط دو رکعت فرض قضا پڑھے۔
مسئلہ (۹) اگر فجر کا وقت تنگ ہو گیا اس لئے فقط دو رکعت فرض پڑھ لئے سنت چھوڑ دی تو بہتر یہ ہے کہ سورج طلوع ہونے کے بعد سنت کی قضا پڑھ لے۔لیکن دوپہر سے پہلے ہی پڑھے۔
مسئلہ (۱۰) کسی بے نمازی نے توبہ کی تو جتنی نمازیں عمر بھر میں قضا ہوئی ہیں سب کی قضا پڑھنی واجب ہے۔ توبہ سے نمازیں معاف نہیں ہوتیں، البتہ نہ پڑھنے سے جو گناہ ہوا تھا وہ توبہ سے معاف ہو گیا، اب ان کی قضا نہ پڑھے تو پھر گناہ گار ہوگا۔
مسئلہ (۱۱) اگر کسی کی کچھ نمازیں قضا ہو گئی ہوں اور ان کی قضا پڑھنے کی ابھی نوبت نہیں آئی تو مرتے وقت نمازوں کی طرف سے فدیہ دینے کی وصیت کر جانا واجب ہے، نہیں تو گناہ ہو گا۔
کوئی مسئلہ اگر سمجھ میں نہ آئے تو مقامی علما کرام سے رہنمائی حاصل کریں۔ آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں قضا نمازیں جلد از جلد پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button