کالم/بلاگ

رمضان ہم اور ہمارے کام

عشرت صدیق غوری
ishratsiddique71@gmail.com
مرحبا صد مرحبا ماہِ رمضان مرحبا ،کھل اٹھے مرجھائے دل، تازہ ہوا ایمان ،ہے خدائے رحمن کااحسان کہ اس نے ہمیں رمضان جیسی عظیم الشان نعمت سے سر فراز فرمایا ۔ماہ رمضان کے فیضان کے کیا کہنے، اس کی تو ہر گھڑی رحمت بھری ہے ۔اس مہینے میں اجرو ثواب بہت ہی زیادہ بڑھ جاتا ہے۔نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا ثواب ستر گناہ کر دیا جاتا ہے ۔اس مبارک مہینے میں تو روزہ دار کا سونا بھی عبادت میں شمار کیا جاتا ہے۔عرش اٹھانے والے فرشتے روزہ داروں کی دعا پر آمین کہتے ہیں ۔ رمضان المبارک میں رحمتوں کی چھما چھم بارشیں اور گناہ صغیرہ کے کفارے کا سامان ہو جاتا ہے۔یہ مہینہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے ۔یہ مہینہ”مواسات“یعنی کے غم خواری اور بھلائی کا ہے۔ رمضان ایک بھٹی ہے جیسے کہ بھٹی گندے لوہے کو صاف اور صاف لوہے کو مشین کا پرزہ بنا کر قیمتی کر دیتی ہے اور سونے کو زیور بنا کر استعمال کے لائق کر دیتی ہے ایسے ہی ماہ رمضان گناہ گاروں کو پاک اور نیک لوگوں کے درجے بڑھاتا ہے لیکن ہم رمضان المبارک میں برکتیں اور رحمتیں سمیٹنے کی بجائے دھن دولت لوٹنے میں مصروف ہو جاتے ہیں اور یہی کو شش کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ مال و دولت اکٹھا کر لیں ۔اس مبارک مہینہ میں دکانداروں کی چاندی ہو جاتی ہے وہ دونوں ہاتھوں گاہک کو لوٹتے ہیں ،پرانا مال فروخت کیا جاتا ہے اور بہت سا مال اسٹاک کیا جاتا ہے ،ذخیرہ اندوزی عروج پر ہوتی ہے،مہنگائی مافیا کا تو کوئی جواب ہی نہیں ہوتا۔
اس عالمی وبا کرونا وائرس میں بھی ہم لوٹ مار سے دوسروں کا حق کھانے سے پرہیز نہیں کر رہے۔ کہنے کو تو سب ہی امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں لیکن کیا فائدہ ایسی خدمت خلق کا جو دوسروں کے کام نہ آسکے ۔جھڈو کے نواحی علاقے میں7بچوں کی ماں حاملہ خاتون فاقوں کے باعث اللہ کو پیاری ہو گئی کیونکہ شوہر یومیہ اجرت پر مزدور تھا۔
نیک کام کریں مگر اسکی تشہیر نہ کریں کیونکہ نیک کام کی خوشبو خود بخود دوسروں تک پہنچ جاتی ہے ہمیں بتانے کی ہرگز ضرورت نہیں ۔ ہم کیا کرتے ہیں کہ کسی غریب کی مدد کردی کھانا کھلا دیا تو فورا اسے سوشل میڈیا پر ڈال دیتے ہیں جس سے ہمارا سینہ توفخر سے چوڑا ہو جاتا ہے لیکن اس سے نیکی کا اثر زائل ہو جاتا ہے ۔
ہم جیسے نکمے اور باتونی لوگوں کی یہ حالت ہے کہ نیکی کے ”ن “کے نقطے تک تو پہنچ نہیں پاتے مگر خوش فہمی کا حال یہ ہے کہ ہم جیسا نیک اور پارسا تو شائد اب ہے ہی نہیں ہم اپنی عبادات پر ناز کرتے ہوئے پھولے نہیں سماتے اور اپنے نیک اعمال نماز ،روزہ ،مساجد کی خدمت، خلق خدا کی مدد اور سماجی فلاح و بہبود کے کاموں کا ہر جگہ ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتے بلکہ اپنے نیک کاموں کی تصاویر اخبارات و رسائل میں چھپوانے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔بلا ضرورت اپنی نیکیوں کا اعلان کرنے میں ”ریاکاری“کا خدشہ ہے ۔اب جبکہ کرونا وائرس کے پیش نظر ہر ایک کی زندگی زیادہ نہیں کچھ زیادہ ہی بدل گئی ہے، ہم گھروں میں محصور ہو گئے ہیں یہ بہترین موقع ہے رمضان المبارک کو خوش آمدید کہنے کا ،نیکیاں کمانے کا ،حقوق العباد پورے کرنے کا ،کوئی ناراض ہے تو اس کو منا لیں، اگر آپ کسی کی دل شکنی کا باعث بنیں تو فورا معافی مانگ لیں کہ جھک جانے میں ہی عظمت ہے جیسا کہ حضرت سیدنا عبداللہ انیس فرماتے ہیں :کوئی دوزخی دوزخ میں اور کوئی جنتی جنت میں داخل نہ ہو جب تک وہاں حقوق العباد کا بدلہ نہ ادا کرے، یعنی جس نے کسی کا حق دبایا ہو اس کا فیصلہ ہونے تک دوزخ یا جنت میں داخل نہ ہوگا ۔
اپنے بڑے بزرگوں اورپڑوسیوں کا خاص خیال رکھیں ان کے آرام میں خلل نہ ہونے دیں اور وہ نوجوان جو رمضان المبارک کی پاکیزہ راتوں میں کرکٹ فٹ بال وغیرہ کھیلتے ہیں ، خوب شور مچاتے ہیں ، یہ بد نصیب خود تو عبادات سے محروم رہتے ہیں اوردوسروں کی عبادات میں خلل ڈالنے کے لیے شیطان کی لگائی گئی ڈیوٹی پوری کرتے ہیں۔اس قسم کے کھیل اللہ کی یاد سے غافل کرنے والے ہیں ،رمضان المبارک کے بابرکت لمحات کو ہرگز اس طرح برباد مت ہونے دیں ۔
کچھ لوگ مسلمان ہونے کے باوجود رمضان المبارک کا احترام نہیں کرتے ،روزہ نہیں رکھتے ، روزہ داروں کے سامنے سگریٹ کے کش لگاتے، پان چباتے حتیٰ کہ بعض تو اتنے بے باک و بے مروت ہوتے ہیں کہ سر عام پانی پینے بلکہ کھانا کھاتے بھی نہیں شرماتے۔بہت سے نادان ایسے بھی دیکھے جو اگرچہ روزہ تو رکھ لیتے ہیں مگر پھر ان بیچاروں کا”وقت پاس“نہیں ہوتا اور وہ بھی احترام رمضان کو ایک طرف رکھ کر جائز و ناجائز کاموں کا سہارا لے کر”وقت پاس“کرتے ہیں اور یوں رمضان شریف میں شطرنج، تاش ،لڈو،گانے باجے، ٹک ٹاک ، اسٹیٹس اور انسٹاگرام وغیرہ پر مشغول ہو جاتے ہیں اور بعض مرد و خواتین افطاری کے بعد بہت ذوق و شوق اور انہماک سے ٹاک شوز، جیتو پاکستان اور بھی پتہ نہیں کون کونسے پروگرام دیکھتے ہوئے اپنی نماز اور تراویح کو قضاءکر دیتے ہیں ۔
اس رمضان کو قیمتی اور یادگار بنانے کے لیے ان بابرکت گھڑیوں کو راہ خدا میں صرف کریں قرآن پاک کا ترجمہ، تفسیر، تجوید یا نماز پڑھنے کا طریقہ سیکھ کر اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار سکتے ہیں۔ اپنے رب سے اپنا ٹوٹا ہوا رشتہ دوبارہ جوڑیں ۔وقت گزارنا ہے تو اس کی عبادت میں گزاریں جس نے ہمیں وقت دیا اور زندگی دی ۔توبہ کا در کھلا ہے بس ذراسی دستک کی دیر ہے پھر دیکھیے کیسے وہ اپنے بندوں پر مہربان ہوتا ہے ۔تہجد گزار بنیں کیونکہ تہجد لاڈلی عبادت ہے، سب کچھ منوا کر ہی دم لیتی ہے ۔اس مبارک مہینے میں رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور خوب مغفرت کے پروانے تقسیم ہوتے ہیں۔ آیئے اپنے رب سے خوب گڑگڑا کر اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور پروردگار کو راضی کریں ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button