کالم/بلاگ

روزہ اور جدید سائنس

نور حسین افضل

کچھ لوگوں کو یہ خوف دامن گیر رہتا ہے۔ روزہ کی حالت میں مرض شدت اختیار نہ کر جائے، اس لیے وہ روزہ سے اجتناب کرتے ہیں۔ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ جدید میڈیکل سائنس نے یہ ثابت کیا ہے کہ روزہ دار کے جسم میں دوسرے افراد کی نسبت قوت مدافعت (Immunity) کئی گنا بڑھ جاتی ہے اور پھر دوران روزہ اندرونی اعضاء کی کارکردگی میں کمی واقع ہونے کے باعث انہیں آرام مل جاتا ہے اور بعد از آرام یہ اعضاء تازہ دم اور مستعد ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ان اعضاء کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کا عام سبب یہ ہے کہ اعضائے رئیسہ (Vital Organs) کو تقویت ملتی ہے۔ روزے کی اس مسلمہ افادیت کو غیر مسلم اطباء نے بھی تسلیم کیا ہے۔ بلکہ اہل مغرب مختلف امراض کے علاج میں روزہ رکھوا کر کامیاب علاج کرنے لگے ہیں۔
آئیے اب ہم سائنسی نکتہ نظر سے دیکھیں کہ روزہ ہماری صحت مندی میں کس طرح مددگار ثابت ہوتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا روزہ رکھا کرو تندرست رہا کرو اور روزے سے جس طرح ظاہری و باطنی مضرات زائل ہوتی ہیں اسی طرح اس سے ظاہری و باطنی مسرت حاصل ہوگی۔ (اسوہ رسول اکرم بحوالہ الطبرانی)
مذکورہ بالا حدیث مبارکہ کے مطابق روزہ کے جسم انسانی پر یقینا مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مشاہدہ ہے کہ بہت سے ایسے مریض جو کسی Chronic diseas میں مبتلا ہوتے ہیں روزہ رکھنے سے ان کے مرض میں کمی ہو جاتی ہے۔ اگر روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ انتہائی سادہ اور ہلکی غذا (Light diet) استعمال کی جائیں تو مرض سے کلی طور پر نجات ملتی ہے۔
عیسائی اور یہودی مفکرین، اسلام کے طریقہ کے مطابق روزہ رکھوا کر مرض پر قابو پانے اور اپنے آپ کو Active رکھنے کے لیے تجرباتی Projects پر کام کررہے ہیں۔ اس تحقیقی سفر میں حسب ذیل محققین شامل ہوئے۔
پروفیسر مورپالڈ: آکسفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مورپالڈ لکھتے ہیں کہ میں مطالعاتی اسلامک ریسرچ میں مصروف تھا میرے سامنے جب روزے کا باب آیا تو میں چونک اٹھا۔ اس عمل کا بنظر غائر جائزہ لیا تاہم اس کے عملی نتائج اخذ کرنے کی غرض سے میں نے مسلمانوں کی طرز پر روزے رکھنا شروع کردیے۔ میں عرصہ دراز سے ورم معدہ (Gastritis) میں مبتلا تھا۔ چند روزے رکھنے کے بعد میں نے مرض میں قدرے افاقہ محسوس کیا۔ میں نے روزہ کی مشق جاری رکھی۔ ایک ماہ مکمل ہو جانے کے بعد میں نے اپنے جسم میں نہ صرف تغیر محسوس کیا بلکہ انقلابی تبدیلی محسوس کی۔ (نئی دنیا)
ڈاکٹر لوتھر جیسم: کیمبرج کے معروف (Pharmacologest) ڈاکٹر لوتھر جیسم نے ایک دلچسپ تجزیہ کیا۔ موصوف نے لکھا ہے کہ میں نے سارا دن خالی پیٹ (روزہ دار) شخص کے معدے کی رطوبات حاصل کیں اور پھر اس کا Analysis کیا اور میں نے محسوس کیا کہ اس میں وہ متعفن غذائی اجزا (Food Particals Septic) جن سے معدہ امراض کو قبول کرتا ہے بالکل ختم ہو جاتے ہیں۔ لوتھر کا کہنا ہے کہ روزہ تمام جسم اور خصوصاً معدے کے امراض میں صحت کا ضامن ہے۔
ہالینڈ کے پادری کا تجربہ: پوپ ایلف گال جی نامی ہالینڈ کا بڑا پادری گزرا ہے۔ وہ روزے کے بارے میں اپنے تجربات اور ان کی طبی افادیت کے بارے میں اپنے نظریات کا اظہار کرتا ہے کہ ’’میں اپنے روحانی پیروکاروں کو ہر ماہ تین روزے (اسلامی ایام بیض کی طرز پر) رکھنے کی تلقین کرتا ہوں میں نے اس طریقہ کار کے ذریعے جسمانی اور ذہنی ہم آہنگی محسوس کی۔ وہ مریض جو لاعلاج ہیں ان کو تین یوم نہیں بلکہ ایک ماہ روزے رکھوائے جائیں۔ میں نے ذیابیطس شکری، امراض قلب اور معدے کے مریضوں کو مستقل ایک ماہ روزے رکھوائے۔
٭ شوگر کے مریضوں کی حالت بہتر ہوئی، ان کی شوگر کنٹرول ہو گئی۔
٭ دل کے مریضوں کی بے چینی اور سانس کا پھولنا کم ہوا۔
٭ معدے کے مریضوں کو سب سے زیادہ افاقہ ہوا۔ (سنت نبوی اور جدید سائنس ، بحوالہ ہمفرے کے تجربات)

روزہ اور غیر مسلم مفکرین

روزہ رکھنے سے خیالات میں اضطراب نہیں رہتا اور تیزی جذبات ختم ہو جاتی ہے۔ برائیاں اور بدیاں دور ہو جاتی ہیں۔ (ڈاکٹڑ مائیکل)
شدت مرض و مصائب اور تشنگی برداشت کرنے کے لیے روزہ سے بہتر کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ (ڈاکٹر ہنگر)
روزے سے کئی جسمانی بیماریاں ختم ہو جاتی ہیں۔ خصوصاً مرطوب اور بلغمی بیماریاں۔ (ڈاکٹر کلاو)
جس بشر کو تزکیہ النفس کی ضرورت ہو اسے چاہیے کہ وہ کثرت سے روزے رکھا کرے۔ میں مسیحی دوستوں سے کہوں گا کہ وہ اس بات میں مسلمانوں کی تقلید کریں۔ ان کے روزہ رکھنے کا طریقہ بہترین ہے۔ (ڈاکٹر رچرڈ)
مٹاپے کے باعث بانجھ پن میں مبتلا خواتین کو روزے رکھوائے جس سے ان کا مٹاپہ دور ہوگیا اور وہ حاملہ ہو گئیں۔ (ڈاکٹر ٹینڈا یوہاشی گاو)
جدید سائنس اور غیر مسلم مفکرین روزے کی افادیت کے قائل ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان اور روزے کے اخلاقی، طبی اور اسلامی فوائد سے مالا مال فرمائیں اور اپنے دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ (آمین)۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button