انٹرنیشنلاہم خبریںاہم خبریں

زہریلا پراپیگنڈہ۔!! نیوزی لینڈ میں اسلام دشمنی پر مبنی سوشل میڈیا پوسٹ بھارتی جج کو مہنگی پڑگئی

ویلنگٹن (ویب ڈیسک) نیوزی لینڈ میں اسلام دشمنی پر مبنی سوشل میڈیا پوسٹ بھارتی جج کو مہنگی پڑ گئی۔ نجی ٹی وی کے مطابق بھارتی انتہا پسندوں نے بھارت کے باہر بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنی نفرت اور تعصب کا بھرپورسلسلہ جاری رکھا ہے ،

نیوزی لینڈ میں ایک بھارتی جج کو اس وقت نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا جس اس نے مسلمانوں کے بارے میں انتہائی گھٹیا زبان استعمال کی۔

نیوزی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کو اس وقت ایک بہت بڑے اعزاز سے محروم ہونا پڑا جب اس کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب کے افعال سرزد ہونے کے قوی ثبوت آگئے ۔

ذرائع کے مطابق یہ بھارتی شہری مسلمانوں ‌اور اسلام کے خلاف بہت زہریلا پراپیگنڈہ کرتا تھا ، جس کی وجہ سے اسے قانون کے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑا آکلینڈ کے ہفتہ وار ڈاس پورہ اخبار نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ “نیوزی لینڈ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے”۔

اس متعصب بھارتی جج کی طرف سے شیئر کی جانے والی پوسٹوں میں ‌اس بات کے کافی ثبوت تھے کہ اس نے مسلمانوں کی بہت زیادہ توہین کی ہے ، نیوزی لینڈ حکام کا کہنا ہے کہ یہ متعصب ہندو جج بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کے معاشی بائیکاٹ پراکسا رہا تھا ۔

کانتیلال بھابھ بھائی پٹیل اپنی سوشل میڈیا پوسٹوں پر ویلنگٹن جسٹس آف پیس ایسوسی ایشن کی رکنیت سے محروم ہو گئے ہیں۔ ویلنگٹن جسٹس آف پیس ایسوسی ایشن کو ایک شکایت موصول ہوئی اور اس کی تحقیقات کی گئیں۔ مسٹر پٹیل اب ویلنگٹن جے پی ایسوسی ایشن کے ممبر نہیں رہے ہیں ،

”ایسوسی ایشن کے نائب صدر ، این کلارک نے اخبار کو بتایا۔ جسٹس آف پیس ایک غیر معاوضہ جوڈیشل آفیسر ہے جو نیوزی لینڈ میں دستاویزات اور انصاف کی انتظامیہ میں اہم کام انجام دیتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button