کالم/بلاگ

 سحری و افطاری کے فضائل

نور حسین افضل

سحری و افطاری میں اللہ تعالی نے ایسی لذت و برکت رکھی ہے کہ دنیا کے بڑے سے بڑے کافر حکمران، صاحب ثروت افراد کے نصیب میں وہ میٹھا، ٹھنڈا شربت اور لذیذ کھانیں کہاں جو مغرب کی اذان کے ساتھ ہی کروڑوں مسلمانوں کا مقدر بن جاتے ہیں اس میٹھے شربت اور لذید پکوانوں میں ہمارے آقاﷺ کی دعائوں کا اثر شامل ہے۔
روزہ رکھنے کی غرض سے صبح صادق سے پہلے جو کچھ کھایا پیا جاتا ہے اسے ”سحری” کہتے ہیں، نبی کریمﷺ خود بھی سحری کا اہتمام فرماتے اور دوسروں کو بھی سحری کھانے کی تاکید فرماتے۔
حضرت انس کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺ سحر کے وقت مجھ سے فرماتے:
”میرا روزہ رکھنے کا ارادہ ہے مجھے کچھ کھلائو”۔
تو میں کچھ کھجوریں اور ایک برتن میں پانی پیش کردیتا۔
اور آپﷺ نے سحری کھانے کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
”سحری کھا لیا کرو اس لئے کہ سحری کھانے میں بڑی برکت ہے”۔( مسلم شریف)
برکت سے مراد یہ ہے کہ دن کے کاموں میں اور عبادت و اطاعت میں کمزوری محسوس نہ ہو گی اور روزے میں آسانی ہو گی۔ چنانچہ ایک موقع پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا:
”دن کو روزہ رکھنے میں سحری کھانے سے مدد لیا کرو۔ اور قیام الیل کے لئے قیلولے سے مدد لیا کرو”۔
سحری کھانا سنت ہے اور مسلمانوں اور یہود و نصاری کے روزوں میں فرق یہ بھی ہے کہ وہ سحری نہیں کھاتے اور مسلمانوں سحری کھاتے ہیں۔ اگر بھوک نہ ہو تو کچھ تھوڑا سا میٹھا یا دودھ یا کم از کم پانی ہی پی لینا چاہئے۔ اس لئے کہ سحری کھانے کا بڑا اجر و ثواب ہے۔ نبی کریمﷺ کاارشاد ہے:
”سحری کا کھانا سراسر برکت ہے، سحری کھانا کبھی نہ چھوڑو۔ چاہے پانی کا ایک گھونٹ ہی پیو، کیونکہ سحری کھانے والوں پر خدا رحمت فرماتا ہے اور فرشتے ان کے لئے استغفار کرتے ہیں”۔ (الترغیب و الترھیب)
سحری میں تاخیر:
سحری اخیر وقت میں کھانا جبکہ صبح صادق میں تھوڑی ہی دیر باقی ہو مستحب ہے۔ بعض لوگ بنظر احتیاط بہت ہی پہلے سحری کھا لیتے ہیں۔ یہ بہتر نہیں ہے بلکہ تاخیر سے کھانے میں اجر و ثواب ہے۔
افطار میں تعجیل:
افطار میں جلدی کرنا مستحب ہے یعنی سورج ڈوبنے کے بعد احتیاط کے خیال سے تاخیر کرنا مناسب نہیں بلکہ فورا ہی افطار کر لینا چاہیے۔ اس طرح کی غیر ضروری احتیاطوں کے اہتمام سے دینی مزاج بگڑ جاتا ہے، دینداری یہ نہیں ہے کہ آدمی خواہ مخواہ اپنے کو مشقتوں میں ڈالے بلکہ دینداری یہ ہے کہ خدا کے حکم کی بے چون و چرا اطاعت کی جائے۔
نبی اکرمﷺ کا ارشاد ہے:
تین باتیں پیغمبر نہ اخلاق کی ہیں:
۱۔ سحری تاخیر سے کھانا۔
۲۔ افطار میں تعجیل کرنا۔
۳۔ نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر رکھنا۔
حضرت ابن ابی اوفی کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھے اور آپﷺ روزے سے تھے جب سورج نظروں سے اوجھل ہو گیا تو آپﷺ نے کسی سے فرمایا:
”اٹھو اور ہمارے لئے ستو گھول دو”۔
اس شخص نے کہا۔
”یارسول اللہﷺ! کچھ دیر اور ٹھہر جائیں کہ شام ہو جائے تو اچھا ہو”۔
ارشاد فرمایا:
”سواری سے اترو اورہمارے لئے ستو گھول دو”۔
اس شخص نے پھر کہا:
”یارسول اللہ! ابھی دن پھیلا ہوا ہے”۔
آپﷺ نے پھر ارشاد فرمایا:
”سواری سے اترو اور ہمارے لئے ستو گھول دو”۔
تب وہ اترا اوراس نے سب کے لئے ستو تیار کئے۔ نبی اکرمﷺ نے ستو نوش فرمائے اورارشاد فرمایا۔
”جب تم دیکھو کہ رات کی سیاہی اس طرف سے چھانا شروع ہو گئی ہے تو روزہ دار کو روزہ کھول دینا چاہیے۔” (بخاری شریف)
نبی اکرمﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
”اپنے بندوں میں سب سے زیادہ مجھے وہ بندہ پسند ہے جو افطا ر میں تعجیل کرے(جامع ترمذی)۔ (یعنی غروب آفتاب کے بعد ہر گز تاخیر نہ کرے)”۔
نیز آپﷺ نے ارشاد فرمایا:
”لوگ اچھی حالت میں رہیں گے۔ جب تک وہ افطار میں جلدی کریں گے”۔(بخاری و مسلم)
کس چیز سے افطار مستحب ہے:
کھجور اورچھوبارے سے افطار کرنا مستحب ہے اور یہ میسر نہ ہو تو پھر پانی سے افطار بھی مستحب ہے، نبی اکرمﷺ خود بھی انہی چیزوں سے افطار فرماتے:
”حضرت انس کا بیان ہے کہ نبی اکرمﷺ نمازِ مغرب سے پہلے چند تر کھجوروں سے روزہ افطار فرماتے تھے اوراگر یہ نہ ہوتیں تو چھواروں سے افطار فرماتے تھے اور اگر یہ بھی نہ ہوتے تو چند گھونٹ پانی ہی نوش فرما لیتے تھے”۔ (جامع ترمذی، ابودائود)
اور انہی چیزوں سے افطار کی ترغیب آپﷺ نے صحابہ کرام کو دی اور فرمایا:
”جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ کھجور سے افطار کرے کھجور میسر نہ ہو تو پھر پانی سے افطار کرے فی الواقع پانی انتہائی پاک ہے”۔ (جامع ترمذی، ابودائود)
کھجور عرب کی پسندیدہ غذا بھی تھی اور ہر غریب و امیر کو آسانی سے میسر بھی آ جاتی تھی رہا پانی تو وہ ہر جگہ فراوانی سے دستیاب ہے ان چیزوں سے روزہ افطار فرمانے اور ترغیب دینے کی مصلحت یہ ہے کہ امت کسی مشقت میں مبتلا نہ ہو اور بروقت سہولت کے ساتھ روزہ افطار کر سکے پھر پانی کی ایک خوبی آپﷺ نے یہ بھی بیان فرمائی کہ وہ اتنی پاک چیز ہے کہ ہر چیز اس سے پاک ہو جاتی ہے ظاہر کا پاک ہونا تو محسوس امر ہے۔ باطن بھی اس سے پاک ہو جاتا ہے۔ روزہ دار جب دن بھر خدا کی خوشنودی کے لئے شعوری ایمان کے ساتھ پیاسا رہے گا اور شام کو ٹھنڈے پانی سے اپنی پیاس بجھائے گا تو بے اختیار شکر و احسان مندی کے جذبات پیدا ہوں گے۔ جن سے اس کے باطن کو جلا نصیب ہو گی۔
مگر یہ بھی خیال رہے کہ اس معاملے میں غلو کرنا اور کسی چیز سے افطار کو غیر غیر متقیانہ فعل سمجھنا سراسر غلط ہے اسی طرح یہ خیال بھی غلط ہے کہ نمک سے افطار کرنا بڑا اجر و ثواب ہے۔
افطار کی دعا:
اللھم لک صمت وعلی رزقک افطرت (ابودائود)
”اے اللہ! میں نے تیرے لئے روزہ رکھا اور تیری ہی دی ہوئی روز سے افطار کیا”۔
افطار کے بعد کی دعا:
ذھب الظما وابتلت العروق وثبت الاجر ان شآ اللہ (ابو دائود)
”پیاس جاتی رہی، رگیں سیراب ہو گئیں اور اگر اللہ نے چاہا تو اجر بھی ضرور ملے گا”۔
افطار کرانے کا اجر و ثواب:
دوسرے کو افطار کرانا بھی پسندیدہ عمل ہے اور افطار کرانیوالے کو بھی اتنا ہی اجر و ثواب ملتا ہے جتنا روزہ رکھنے والے کو ملتا ہے چاہے وہ چند لقمے کھلائے یا ایک کھجور ہی افطار کرا دے۔ نبی اکرمﷺ کا ارشاد ہے۔
”جس شخص نے کسی روزے دار کو افطار کرایا تو اس کو روزے دار کی طرح اجر و ثواب ملے گا”۔ (بیہقی)
بے سحری کا روزہ:
شب میں سحری کھانے کے لئے اگر آنکھ نہ کھلے تب بھی روزہ رکھنا چاہئے۔ سحری نہ کھانے کی وجہ سے روزہ نہ رکھنا بڑی کم ہمتی کی بات ہے۔ محض سحری نہ کھانے کی وجہ سے روزہ چھونا گناہ ہے۔
اگر کبھی آنکھ دیر سے کھلی اور یہ خیال ہوا کہ ابھی رات باقی ہے اور کچھ کھا پی لیا۔ پھر معلوم ہوا کہ صبح صادق کے بعد کھایا پیا ہے تو اگرچہ اس صورت میں روزہ نہیں ہوگا۔ لیکن پھر دن بھر روزہ داروں کی طرح رہے اورکچھ نہ کھائے پیئے۔
اگر اتنی دیر سے آنکھ کھلی کہ صبح ہو جانے کا شبہ ہے تو ایسے وقت میں کھانا پینا مکروہ ہے اور اگر شبہ ہو جانے کے باوجود کھا پی لیا تو بہت برا کیا ایسے وقت میں کھانا گناہ ہے۔ پھر اگر بعد میں یہ معلوم ہوا کہ صبح ہو چکی تھی تو قضا واجب ہے، اور اگر شبہ ہی رہے تو قضا واجب نہیں لیکن احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ قضا کا روزہ رکھے۔
یہاں اختصار سے سحری و افطاری کے فضائل نذر قارئین کئے گئے۔ اللہ تعالی ہمیں سحری و افطاری کی برکات سے مستفیض فرمائے آمین۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button