کالم/بلاگ

 صدقۂ فطر : حکمت، فضائل، مقدار، فقہی مسائل

نور حسین افضل

 صدقۂ فطر کے معنی

فطر کے لغوی معنی ہیں روزہ کھولنا۔ اور صدقہ فطر کے معنی ہیں، روزہ کھولنے کا صدقہ۔ اصطلاح میں صدقہ سے مراد وہ واجب صدقہ ہے جو رمضان ختم ہونے پر اور روزہ کھلنے پر دیا جاتا ہے۔
جس سال مسلمانوں پر رمضان کے روزے فرض ہوئے، اسی سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔

صدقۂ فطر کی حکمت اور فوائد

رمضان المبارک میں روزے رکھنے والے اپنی حد تک یہ کوشش کرتے ہیں کہ رمضان کا احترام کریں اور ان حدود اور آداب و شرائط کا پورا پورا لحاظ رکھیں، جن کے اہتمام کی شریعت نے تاکید کی ہے، تاہم انسان سے بہت سی شعوری اور غیر شعوری کوتاہیاں ہو جاتی ہیں۔ صدقہ فطر کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ آدمی خدا کی راہ میں دل کی آمادگی سے اپنی کمائی خرچ کرے تاکہ ان کوتاہیوں کی تلافی ہو سکے اور خدا کے حضور روزہ شرف قبول پا سکے۔ اس کے علاوہ عید کے موقع پر صدقہ فطر دینے کی ایک حکمت اور مصلحت یہ بھی ہے کہ سوسائٹی کے نادار اور غریب افراد بھی اطمینان اور کشادگی کے ساتھ اپنے کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے کی ضرورتیں پوری کر سکیں اور دوسرے مسلمانوں کے ساتھ عید گاہ میں حاضر ہو سکیں، تاکہ عید گاہ کا اجتماع بھی عظیم الشان ہو اور راستوں میں مسلمانوں کی کثرت سے اسلام کی شان و شوکت بھی اظہار ہو سکے۔
حضرت ابنِ عباس فرماتے ہیں:
’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۂ فطر اس لیے مقرر فرمایا ہے کہ وہ روزے داروں کو بے ہودہ کاموں اور بے شرمی کی لغزشوں سے پاک کردے اور نادار حاجت مندوں کے کھانے پینے کا انتظام ہو جائے۔ پس جو شخص عید کی نماز سے پہلے صدقۂ فطر ادا کردے گا تو وہ صدقہ شرفِ قبول پائے گا اور جو نماز کے بعد ادا کرے گا تو وہ عام صدقہ و خیرات کی طرح ایک صدقہ ہوگا۔ (ابو داؤد، ابن ماجہ)
حضرت شاہ ولی اللہؒ فرماتے ہیں:
’’عید کا دن، خوشی کا دن ہے، اور اس دن اسلام کی شان و شوکت کا اظہار مسلمانوں کی کثرت اور عظیم اجتماعیت کے ذریعے کیا جاتا ہے اور صدقۂ فطر سے اس مقصد کی تکمیل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ صدقۂ فطر روزے کی تکمیل کا بھی سبب ہے۔‘‘
(حجۃ اللہ البالغہ، شاہ ولی اللہؒمحدث دہلوی)

صدقۂ فطر کا بیان

صدقۂ فطر ہر ایسے خوشحال مسلمان مرد و عورت اور بالغ، نابالغ پر واجب ہے جس کے پاس اس کی اصلی ضرورتوں سے زیادہ اتنی قیمت کا مال ہو جس پر زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے، خواہ اس مال پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہو یا نہیں۔ مثلاً کسی کے پاس اپنی رہائش گاہ کے علاوہ بھی مکان ہے جو خالی پڑا ہے۔ یا کرایہ پر دیا ہوا ہے۔ اگر اس مکان کی قیمت نصاب کے بقدر ہو تو اس مالک پر صدقۂ فطر واجب ہے اگرچہ اس مکان پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ ہاں اگر اسی مکان کے کرائے پر اس کا گزارہ ہے تو پھر یہ مکان اصلی ضرورت میں شمار ہوگا اور اس پر صدقۂ فطر واجب نہ ہوگا۔ یا کسی کے گھر میں استعمال ہونے والے سامان کے علاوہ کچھ سامان ہے، مثلاً تانبے کے برتن، یا قیمتی فرنیچر وغیرہ جس کی مالیت نصاب کے بقدر یا اس سے زائد ہے تو صدقۂ فطر واجب ہو جائے گا۔ اگر اس مال پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’آگاہ رہو! صدقۂ فطر ہر مسلمان پر واجب ہے وہ مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام، چھوٹا ہو یا بڑا۔‘‘ (ترمذی شریف)
صدقۂ فطر واجب ہونے کے لیے اوپر بیان کیے ہوئے نصاب کے علاوہ کوئی شرط نہیں ہے۔ نہ آزادی شرط ہے نہ بلوغ اور نہ ہوش و خرد۔
غلام پر بھی واجب ہے لیکن اس کا آقا ادا کرے گا۔ نابالغ اور دیوانے پر بھی واجب ہے لیکن اس کا باپ اور ولی ادا کرے گا۔
صدقۂ فطر واجب ہونے کے لیے یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ مال پر سال گزر جائے بلکہ طلوع فجر سے چند لمحہ پہلے بھی اگر کسی کو خدا مال و دولت سے نواز دے تو اس پر صدقۂ فطر واجب ہو جائے گا۔

صدقۂ فطر واجب ہونے کا وقت

صدقۂ فطر واجب ہونے کا وقت عید کے دن طلوع فجر ہے۔ لہٰذا جو شخص طلوع فجر سے پہلے فوت ہو جائے یا دولت سے محروم ہوکر نادار ہو جائے تو اس پر واجب نہ ہوگا اور اس بچے پر بھی واجب نہ ہوگا جو طلوع فجر کے بعد پیدا ہو، ہاں جو بچہ طلوع فجر سے پہلے عید کی شب میں پیدا ہو، اس پر صدقۂ فطر واجب ہے، اسی طرح جو شخص طلوع فجر سے پہلے اسلام کی سعادت پا لے یا دولت مند ہو جائے تو اس پر صدقۂ فطر واجب ہے۔

صدقۂ فطر ادا کرنے کا وقت

صدقۂ فطر واجب ہونے کا وقت تو عید کے دن طلوع فجر ہے۔ لیکن اس کے وجوب کی حکمت اور مقصد کا تقاضا یہ ہے کہ یہ عید سے چند یوم پہلے ہی ضرورت مندوں کو پہنچا دیا جائے تاکہ غریب اور نادار لوگ بھی اپنے کھانے پینے اور پہننے کی ضرورت کا سامان اطمینان کے ساتھ فراہم کرکے سب کے ساتھ عید گاہ جا سکیں۔ بخاری میں ہے کہ صحابہ کرامؓ عید الفطر سے ایک دو دن پہلے ہی صدقۂ فطر ادا کردیا کرتے تھے۔ اگر کسی وجہ سے دو چار یوم پہلے ادا نہ کر سکے تو عید کی نماز سے پہلے بہرحال ادا کردینا چاہیے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
فَمَن ادَّاھَا قَبلَ الصَّلاۃِ فَھی زکاۃٌ مقبولۃٌ، وَ مَن ادَّاھَا بعدَ الصَّلاۃِ فَھی صدقۃٌ مِن الصَّدقاتِ
’’جس شخص نے صدقۂ فطر نماز سے پہلے ادا کردیا تو وہ خدا کے حضور مقبول صدقہ ہے اور جو شخص نماز کے بعد ادا کرے گا تو وہ عام صدقہ و خیرات کی طرح ایک صدقہ ہے۔‘‘
عید گاہ جانے سے پہلے صدقۂ فطر ادا کرنا مستحب ہے، لیکن اگر کوئی شخص کسی وجہ سے یا کاہلی کی بنا پر عید سے پہلے ادا نہ کر سکے تو وہ عید کے فوراً بعد ادا کردے یہ نہ سمجھے کہ اب معاف ہوگیا ہے۔

کس کس کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے

۱۔ خوش حال مرد پر اپنے علاوہ نابالغ اولاد کی طرف سے بھی واجب ہے۔ اگر نابالغ اولاد دولت مند ہے تو اس کے مال میں سے ادا کرے ورنہ اپنے پاس سے ادا کرے۔
۲۔ بالغ اولاد کی طرف سے اس صورت میں واجب ہے جب وہ نادار اور غریب ہو، مال دار ہونے کی صورت میں واجب نہیں۔
۳۔ جو اولاد ہوش و خرد سے محروم ہو، ان کے پاس مال ہو یا نہ ہو، ہر صورت میں ان کی طرف سے ادا کرنا واجب یہ خواہ وہ بالغ ہوں۔
۴۔ ان خادموں کی طرف سے ادا کرنا واجب ہے جو اس کی سرپرستی میں رہتے ہوں اور جن کے کھانے کپڑے کا یہ کفیل ہو۔
۵۔ بیوی کی طرف سے واجب تو نہیں ہے، لیکن اگر بطور احسان ادا کردیا جائے تو جائز ہے، بیوی کی طرف سے ادا ہو جائے گا۔
۶۔ خاتون اگر خوش حال ہو تو اس پر صرف اپنی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے۔ اپنے علاوہ کسی طرف سے واجب نہیں۔ نہ اولاد کی طرف سے، نہ ماں کی طرف سے، نہ باپ کی طرف سے اور نہ شوہر کی طرف سے۔
(۷) صدقۂ فطر کی مقدار
چکی کا آٹا دو کلو گرام ۔ فطرہ : 125/- روپے۔ 30 روزوں کا فدیہ: 3,750/- روپے۔ کفارۂ صوم برائے 60 مساکین: 7,500/- روپے ۔ کفارۂ قسم: 1,250/- روپے
جَو چار کلو گرام ۔ فطرہ : 320/- روپے۔ 30 روزوں کا فدیہ: 9,600 /- روپے۔ کفارۂ صوم برائے 60 مساکین: 19,200/- روپے ۔ کفارۂ قسم: 3,200/- روپے
کھجور چار کلو گرام ۔ فطرہ : 600/- 1روپے۔ 30 روزوں کا فدیہ: 48,000/- روپے۔ کفارۂ صوم برائے 60 مساکین: 96,000/- روپے ۔ کفارۂ قسم: 16,000/- روپے
کشمش چار کلو گرام ۔ فطرہ : 1920/- روپے۔ 30 روزوں کا فدیہ: 57,600/- روپے۔ کفارۂ صوم برائے 60 مساکین: 1,15,200/- روپے ۔ کفارۂ قسم: 19,200/- روپے
پنیر چار کلو گرام ۔ فطرہ : 3530/- روپے۔ 30 روزوں کا فدیہ: 106,200/-روپے۔ کفارۂ صوم برائے 60 مساکین: 2,12,400/-روپے ۔ کفارۂ قسم: 35,400/-روپے
گندم کے حساب سے یہ فطرہ، فدیہ اور کفارات کی کم سے کم رقم ہے، جن حضرات کو اللہ تعالیٰ نے رزق میں کشادگی عطا کی ہے اور وافر دولت سے نوازا ہے، ان پر نعمت مال کا تشکر لازم ہے، وہ اپنی مالی حیثیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے جَو یا کھجور یا کشمش یا پنیر کے حساب سے فطرہ، فدیہ اور کفارات ادا کریں تاکہ نعمت مال کا تشکر بھی ہو اور نادار طبقات کی ضروریات بھی پوری ہوں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ترجمہ: ’’پھر جو خوشی سے فدیہ کی مقدار بڑھا کر زیادہ نیکی کرے، تو یہ اس کے لیے بہتر ہے، (البقرہ: 184)‘‘۔
چکی کے آٹے کی قیمت معلوم کرکے فطرہ ؍ فدیہ بتایا ہے کہ اللہ کی راہ میں عمدہ چیز دینی چاہیے، جو لوگ اس سے کم قیمت کا آٹا استعمال کرتے ہیں، وہ اس حساب سے دو کلو کی قیمت دیدیں، اس سال زکوٰۃ کا نصاب 46,329/- روپے ہے۔

صدقۂ فطر کے فقہی مسائل

۱) جس شخض نے کسی وجہ سے رمضان کے روزے نہ رکھے ہوں۔ صدقۂ فطر اس پر بھی واجب ہے، صدقۂ فطر واجب ہونے کے لیے روزہ شرط نہیں ہے۔
۲) صدقۂ فطر میں غلہ بھی دے سکتے ہیں اور غلے کی قیمت بھی مناسب یہ ہے کہ غلہ یا قیمت دینے میں فقراء اور مساکین کا فائدہ پیش نظر رہے۔
۳) اگر گیہوں یا جَو کے علاوہ کوئی دوسرا غلہ جوار یا باجرہ، چنا، مکئی وغیرہ دینے کا پروگرام ہو تو گیہوں یا جَو کی قیمت کے بقدر ہونا چاہیے۔
۴) ایک شخص کا صدقۂ فطر ایک فقیر کو دینا بھی جائز ہے اور چند فقیروں کو دینا بھی جائز ہے، اسی طرح چند افراد کا صدقۂ فطر ایک فقیر کو بھی دینا درست ہے اور چند فقیروں کو بھی۔
۵) اگر ضرورت ہو تو صدقۂ فطر کی رقم دوسرے مقامات پر بھیجی جا سکتی ہے، لیکن کسی شدید اور معقول ضرورت کے بغیر ایسا نہ کرنا چاہیے۔
۶) صدقۂ فطر کے مصارف بھی وہی ہیں جو زکوٰۃ کے مصارف ہیں۔
صدقۂ فطر کے فضائل، حکمت، مقدار اور فقہی مسائل ضبط تحریر کیے گئے۔ اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق نصیب فرمائیں اور امت مسلمہ کو اس سے مستفیض فرمائے۔ (آمین)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button