انٹرنیشنلاہم خبریںپاکستان

لاپتہ پاکستانی صحافی ساجد حسین کی سوئیڈن میں موت کی تصدیق

اجد حسین 2017 میں سوئیڈن آئے تھے اور 2019 میں یہاں سیاسی پناہ حاصل کی تھی

آن لائن میگزین ‘بلوچستان ٹائمز’ کے چیف ایڈیٹر بھی تھے

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ کے مطابق پولیس ترجمان جوناس ایرونن نے بتایا کہ ‘ساجد حسین کی لاش شہر اَپسالا کے باہر دریائے فیرِس سے 23 اپریل کو ملی تھی۔’

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ساجد حسین، اپسالا میں پروفیسر کی حیثیت سے جزوقتی کام کر رہے تھے اور 2 مارچ کو لاپتہ ہوگئے تھے۔

وہ آن لائن میگزین ‘بلوچستان ٹائمز’ کے چیف ایڈیٹر بھی تھے، جس میں منشیات فروشی، جبری گمشدگیوں اور شدت پسندی سے متعلق لکھتے تھے۔

واضح رہے کہ ساجد حسین جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہونے کے بعد تقریباً 8 برس قبل ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

ان کی اہلیہ شہناز نے ڈان کو بتایا تھا کہ انہوں نے بلوچستان میں جبری طور پر لاپتہ افراد کے معاملے پر کام کیا تھا لیکن 2012 میں منشیات کے سرغنہ امام بھیل کو بے نقاب کرنے والی رپورٹ پر انہیں موت کی دھمکیاں ملی تھیں۔

سوئیڈن میں موجود ان کے دوست تاج بلوچ کا کہنا تھا کہ ساجد حسین کے لاپتہ ہونے سے ایک روز قبل ان کی ملاقات ہوئی تھی اور ہر چیز معمول کے مطابق لگ رہی تھی۔

تاہم اگلے روز ان کا فون بند پایا گیا اور انہوں نے کسی کال کا جواب بھی نہیں دیا، آخری مرتبہ انہیں اس وقت سنا گیا تھا جب وہ ہاسٹل آفس میں موجود تھے اور اپنے کمرے کی چابی مانگی تھی اور انہوں نے کہا تھا کہ وہ دوبارہ کال کرتے ہیں۔

تاج بلوچ نے بتایا کہ جب انہوں نے اوپسالا پولیس سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ بعض اوقات لوگ تنہائی اختیار کرلیتے ہیں تا کہ کوئی ان کی پرائیویسی متاثر نہ کرسکے تاہم زور دینے پر پولیس نے سوئیڈن کی ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) مسنگ پیپل کے ساتھ مقدمہ درج کرلیا اس کے بعد اب تک اس کیس سے متعلق کوئی پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔

ساجد حسین 2017 میں سوئیڈن آئے تھے اور 2019 میں یہاں سیاسی پناہ حاصل کی تھی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button