کالم/بلاگ

مولانا اللہ وسایا قاسم ۔۔۔۔باب صحافت کا روشن مینارا

حافظ عثمان علی معاویہ

 

یہ کائنات کامیاب اور محنتی لوگوں کی بدولت ترقی کر رہی ہے۔ ہر میدان کے شہسوار ہی اپنی عظیم جد و جہد سے دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں ۔9 مئی ہمیں ایک ایسی عظیم شخصیت کی یاد دلاتی ہے جس نے ادب،صحافت اورخدمت دین کے میدان میں کار ہائے نمایاں سر انجام دیئے ہیں ۔مولانا اللہ وسایاقاسم متنوع اوصاف محاسن سے مزین تھے۔ان کی پوری زندگی جہدمسلسل سے عبارت تھی۔بچپن،لڑکپن،عنوان شباب،سی تادم آخریں پوراملک ان کی صحافتی، تنظیمی وتحریکی سرگرمیوں کی جولان گاہ تھا۔جامعہ رحمانیہ جہانیہ سے جمعیت طلباء اسلام سے وابستگی اورامیرجمعیت مرشدالعلماء حضرت امام درخواستی سے دیوانہ وار محبت وعقیدت نے مخزن العلوم خانپورپہنچادیا۔اس منبع فیوض وتجلیات میں تکمیل تعلیم اپنی مرشدومربی کی توجہات وانوارات اور خصوصی دعاؤں سے معمورہو کراورمفکراسلام حضرت علامہ زاہدالراشدی صاحب کی خصوصی تربیت سےایسےرجل رشیداور گوہریکتابن کر نکلے کہ ادارہ دعوت و ارشاد چنیوٹ۔جامع مسجداللہ والی جہانیہ سے لیکرجمعیت علمائے اسلام۔متحدہ شریعت محاذ کی تحریک نفاذشریعت۔عورت کی غیرشرعی حکمرانی کیخلاف متحدہ علماکونسل کی تحریک۔ جہادافغانستان۔جہادکشمیراور تحفظ حرمین شریفین تک مولانااللہ وسایاقاسم شہیدکی انتھک جدوجہد۔بے مثال تگ وتاز۔حیران کن ایثار واخلاص اورلازوال عزیمت کے ایسے شاندار انمٹ نقوش ثبت ہیں جو انہیں اپنے ہم عصرنوجوان علماء سے بہت بلنداورممتازکرتے ہیںاور مستقبل کے نوجوان علماء اور دینی کارکنوں کے لئے مینارہ نورکاکام دے سکتے ہیں۔


اگر بات کی جائے حضرت مولانا اللہ وسایا قاسم رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیم کے بارے میں توابتدائی تعلیم استاد الصرف حضرت مولانا اشرف شاد علیہ الرحمت اور درس نظامی کی تکمیل حافظ الحدیث حضرت مولاناعبداللہ درخواستی علیہ الرحمت کے ہاں مخزن العلوم خانپور سے حاصل کی۔ تعلیم و تعلم کے بعد مولانا نے کچھ عرصہ ہمارے علاقے کی مرکزی مسجد اللہ والی مسجد میں بطور امام و خطیب فرائض سر انجام دیئے مگر انہیں خالق کائنات نے کسی بڑے مشن کیلئے پیدا کیا تھااس لیے انہوں نے اپنی زندگی دینی، فکری اور نظریاتی خدمات کیلئے وقف کردی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد ادب و صحافت کے میدان میں اپنا لوہا منوانے کے لیے محترم حضرت مولانا علامہ زاہد الراشدی صاحب کی زیرادارت شائع ہونے والے جمیعت علماء اسلام پاکستان کے ترجمان ”ہفت روزہ ترجمان اسلام“لاہور کے مدیر رہے۔اس کے علاوہ جب دنیائے صحافت میں روزنامہ اوصاف نے اپنے پنجے گاڑھنے کا سوچا تو مولانا اللہ وسایا قاسم نے روزنامہ اوصاف کی بنیادی قیادت کے ساتھ مل کر اپنی خدمات پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قلمی تعاون جاری رکھتے ہوئے ”درس حدیث“کے عنوان سیروزنامی اوصاف کے سنڈے میگزین میں۔ اس کے علاوہ عرصہ دراز تک مختلف اخبارات اور رسائل میں مستقل لکھنا شروع کر دیا۔صرف صحافت یا تعلیم و تعلم میں نہیں رہے بلکہ ملک پاکستان کی تمام تحریکوں، تنظیموں اور فکری فورمز کے تمام اجتماعات میں شرکت اور خطاب ان کاخاصہ تھا۔دینی فکری و نظریاتی خدمات کے سلسلہ میں آپ نے بہت سے ممالک کے سفر بھی کیئے۔ادبی و دینی اور سیاسی وصحافتی خدمات کے ساتھ ساتھ پاکستان کی دینی و سیاسی جماعتوں اور شخصیات سے بہترین تعلقات قائم تھے،ہمیشہ تمام خانقاہوں کے بزرگ اکابرین سے دعا اور استفادہ حاصل کرتے رہے۔لکھنے پڑھنے کا ذوق جنون کی حد تک تھا، قلمی جہاد سے ہمیشہ آواز حق بلند کی۔ علمی و ادبی اور مذہبی شخصیات کی یاد میں تقاریب کا انعقاد و خطاب بھی اباجان کا خاصہ تھا۔
جب مولانا مسعود اظہر دامت برکاتہم نے مولانا فضل الرحمن خلیل سے علیحدہ ہو کر”جیش محمد“کے نام سے الگ پلیٹ فارم تشکیل دیا تو ساتھیوں نے بھی مولاناکو اس فارم میں شمولیت کا کہا لیکن قربان جاؤں مولانا کا جواب آب زر سے لکھنے کے قابل ہے کہنے لگے میں نے ہمیشہ اپنے اکابر سے امیر کی اطاعت کرنا سیکھا ہے اور میں مرتے دم تک مولانا فضل الرحمن خلیل کے ساتھ رہوں گا اور اپنی تما تر صلاحیتوں کو اسی تنظیم کے لیے صرف کروں گا۔ہمیں بھی مولانا کے اس جواب سے سیکھنے اور اسی پر چلنے کا جذبہ عطا فرمائے آمین!
مولانا اللہ وسایا قاسم کا میرے ابا جان کے ساتھ ایک طویل اور مضبوط تعلق تھا اور ہمارے گھر آنا جانا ہوتا تھا،ہمیشہ محبت سے ملتے،پیار دیتے۔ میں نے اپنے بچپن میں مولانا کو سنا تو کم ہے لیکن جتنا سنا اور دیکھا اس کے لیے آج بھی میرے آنکھیں دیکھنے کو اور کان اس مرد قلندر کی آواز سننے کو ترستے ہیں مگر اللہ کریم کو کچھ اور ہی منظور تھا ویسے بھی قدرت کے فیصلوں کے آگے کون کچھ کر سکتا ہے لیکن آج بھی مولانا اللہ وسایا قاسم کی صورت میں مولانا اسامہ قاسم اور حفیظ چوہدری نظر آتے ہیں اور میں اللہ کریم کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے کہ اس ذات اقدس نے مولانا کے صاحبزادگان کوالولد سر لابیہ کامصداق بنایاہے اورمیرے یہ برادر عظیم مربی ومشفق، محسن ملت استادالمعظم حضرت علامہ زاہدالراشدی صاحب کی مقدس تربیت گاہ سےفیض حاصل کررہے ہیں۔
جہاںعلم وہنر کے پر دے کر شاہین بنائے جاتے ہیں
پھرتابفلک پروازوں کے آداب سکھائے جاتے ہیں
اللہ کریم مولاناکے جگرگوشوں کوعزم وحوصلہ کے ساتھ ان کے نقش قدم پرچلائے اور ساتھ ساتھ اللہ کریم مولانا اللہ وسایاقاسم شہید کے بیٹوں کی حیات، خدمات پربھرپوراورجامع،مدلل کتاب لکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین!
اپنے والد گرامی سے اکثر مولانا اللہ وسایا قاسم کے بارے میں سنا کرتے تھے بلکہ ایسے سمجھیں کہ ہمارے گھر میں کم و پیش کوئی دن ایسا نہیں تھا جب مولانا کا تذکرہ نہ ہوتا ہو،ابا جی کو مولانا کے ساتھ دلی لگاؤ تھا اکثر وبیشتر مولانا کے ہم سفر بھی رہے۔ابا جا ن سے یہ کہتے سنا ہے کہ مولانا اللہ وسایا قاسم کی صورت میں میرا ایک عزیز ترین ساتھی، دینی جدوجہد کا ایک انتھک کارکن اور سینکڑوں نوجوانوں کو دین کی محنت کے لیے ابھارنے اور تیار کرنے والا رہنما اس دنیا سے رخصت ہو گیا ہے اور میں ہمیشہ بارگاہ خداوند کریم میں دعا گو ہوں کہ مالک المک! مولانا اللہ وسایا قاسم کی دینی خدمات کو قبول فرمائے اورمولانا کے گناہوں سے درگزر کر کے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازے کیوں کہ مولانا زندگی بھر اسی کے لیے محنت کرتا ر ہے، آمین یا رب العا لمین۔
جس وقت مولا نا ابو الکلام آزاد کی وفات ہوئی تو آغا شورش کاشمیری نے 1957 ء میںیہ درد بھرے اشعار کہے تھے۔جب بھی میری زندگی میں مئی کا مہینہ آتا ہے تو خود ساختہ وہی اشعار زبان سے جاری ہونے لگتے ہیں:
عجب قیامت کا حادثہ ہے اشک ہیں آستیں نہیں ہے
زمیں کی رونق چلی گئی،افق پہ مہر مبیں نہیں ہے
تیری جدائی میں مرنے والے وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے
مگر تیری مرگ نا گہاں کا مجھے ابھی تک یقین نہیں ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button