کالم/بلاگ

نماز تراویح، فضائل و مناقب اور فقہی مسائل

نور حسین افضل

تراویح، ترویحہ کی جمع ہے، ترویحہ کے معنی ہیں آرام لینے کے لیے تھوڑی دیر بیٹھنا، لیکن اصطلاح میں ترویحہ سے مراد وہ جلسۂ استراحت ہے جو رمضان المبارک کی راتوں میں پڑھی جانے والی مسنون نماز کے دوران ہر چار رکعت کے بعد کیا جاتا ہے۔ اور چونکہ اس میں بیس رکعت نماز کے دوران پانچ تراویح کرتے ہیں۔ اس لیے اس مسنون نماز کوتراویح کہنے لگے۔
نماز تراویح کا حکم
نماز تراویح سنتِ مؤکدہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کا اہتمام فرمایا، اور صحابہ کرامؓ نے بھی۔ جو شخص کسی عذر کے بغیر تراویح کی نماز ترک کرے گا، گنہگار ہوگا۔ یہ جس طرح مردوں کے لیے سنت موکدہ ہے اسی طرح خواتین کے لیے بھی سنت موکدہ ہے۔ (درمختار) پھر یہ بھی خیال رکھنا چاہیے کہ نماز تراویح روزے کے تابع نہیں ہے یعنی یہ سمجھنا بالکل غلط ہے کہ تراویح پڑھنا صرف اسی کے لیے ضروری ہے جس نے دن میں روزہ رکھا ہو، دونوں الگ الگ عبادتیں ہیں۔ جو لوگ کسی عذر اور مجبوری کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکیں، مثلاً کوئی مریض ہو یا سفر میں ہو اور روزہ نہ رکھے یا خواتین حیض و نفاس کی حالت میں ہوں اور تراویح کے وقت پاک صاف ہو جائیں تو ان کو نماز تراویح پڑھنا چاہیے، نہ پڑھنے کی صورت میں ترک سنت کا گناہ لازم آئے گا۔
نمازِ تراویح کی فضیلت
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ شعبان کی آخری تاریخ کو رمضان المبارک کے استقبال میں نہایت ہی مؤثر خطبہ دیا اور فرمایا کہ:
’’اس مہینے کی ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، اس مہینے کی راتوں میں اللہ نے تراویح پڑھنا نفل کردیا ہے‘‘۔ (یعنی فرض نہیں ہے بلکہ سنت ہے۔ اس لیے فرض کے مقابلے میں نفل، سنت اور مستحب سب کے لیے بولا جاتا ہے۔)
جو شخص اس مہینے میں کوئی ایک کام اپنے دل کی خوشی سے بطور خود کرے گا تو اس کا اجر و ثواب اتنا ہوگا جتنا دوسرے مہینوں میں فرض کا ہوتا ہے۔ (مشکوٰۃ شریف)
ایک اور حدیث میں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو مغفرت کا ذریعہ قرار دیا ہے، ارشاد ہے:
’’جس نے رمضان کی راتوں میں ایمانی کیفیت اور اجر آخرت کی نیت کے ساتھ نماز (تراویح) پڑھی، اللہ اس کے وہ سارے گناہ معاف کردے گا، جو اس سے سرزد ہو چکے ہیں۔‘‘ (بخاری و مسلم)
نماز تراویح کا وقت
جس شب میں رمضان کا چاند نظر آئے اسی شب سے تراویح شروع کی جائے اور جب عید کا چاند نظر آ جائے تو تراویح چھوڑ دی جائے۔ تراویح پڑھنے کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے شروع ہوتا ہے۔ اور فجر کا وقت شروع ہونے سے پہلے تک رہتا ہے، اگر کوئی عشاء کی نماز سے پہلے تراویح پڑھ لے تو وہ نماز تراویح نہ ہوگی۔ (در مختار)
نماز تراویح کی جماعت
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک میں تین شب یعنی ۲۳، ۲۵، اور ۲۷ رمضان کو تراویح کی نماز جماعت سے پڑھائی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کا ذوق و شوق اور کثرت دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف نہ لائے، صحابہؓ سمجھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور دروازے پر آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’خدا تمہارے ذوق و شوق میں اور برکت دے، میں اس اندیشہ کی وجہ سے باہر نہیں آیا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ ہو جائے، اور تم ہمیشہ اس کی پابندی نہ کر سکو گے، اس لیے تم اس کو اپنے گھروں میں پڑھتے رہو، کیونکہ نفلی نمازوں کا گھروں میں پڑھنا زیادہ باعث اجر و برکت ہے۔‘‘ (صحیح مسلم)
اس حدیث سے صرف اتنا ہی ثابت ہوتا ہے کہ نماز تراویح جماعت سے پڑھنا جائز ہے۔ اس لیے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین شب جماعت سے تراویح پڑھائیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی صحابہ کرام متفرق طور پر چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی شکل میں تراویح باجماعت پڑھا کرتے تھے یہاں تک کہ خلیفہ دوم حضرت عمرؓ نے اس کی باقاعدہ جماعت قائم فرمائی اور صحابہ کرامؓ نے بسر و چشم اس کو قبول کیا۔
اور بعد میں کسی خلیفہ نے اس سنت کی مخالفت نہیں کی، اسی لیے علماء نے تراویح کی جماعت کو سنت موکدہ کفایہ کہا ہے۔ یعنی اگر کسی محلے میں چند لوگوں نے تراویح باجماعت ادا کر لی تو سب کے ذمہ ترک جماعت کا گناہ ساقط ہو جائے گا۔ اگر کسی نے بھی نہیں پڑھی تو پورا محلہ گناہ گار ہوگا۔
نماز تراویح کی رکعتیں
نماز تراویح کی بیس رکعتیں اجماع صحابہؓ سے ثابت ہیں۔ بیس رکعتیں اس طرح پڑھی جائیں کہ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا جائے اور ہر چار رکعت کے بعد ترویحہ میں کچھ دیر بیٹھا جائے اور دعا پڑھی جائے۔
نماز وتر کی جماعت
صرف رمضان المبارک ہی میں وتر کی نماز جماعت سے پڑھنا ثابت ہے۔ رمضان المبارک کے علاوہ دوسرے مہینوں میں وتر کی نماز جماعت سے پڑھنا جائز نہیں۔ (ہدایہ ج ۱، ص ۱۳۱)
تراویح میں ختم قرآن
رمضان المبارک کے پورے مہینے میں ایک بار پورا قرآن پاک ترتیب وار ختم کرنا سنت مؤکدہ ہے۔ (علم الفقہ جلد دوم صفحہ نمبر ۵۳)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال رمضان المبارک میں حضرت جبریل (علیہ السلام) امین کو پورا قرآن سنایا کرتے تھے اور جس سال آپؐ دنیا سے رخصت ہوئے اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو، بار حضرت جبریل (علیہ السلام) کو قرآن سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو بھی اس پر ابھارا اور فرمایا:
’’روزہ اور قرآن مومن کے لیے سفارش کریں گے، روزہ کہے گا، اے میرے رب! میں نے اس شخص کو دن میں کھانے (پینے) اور دوسری لذتوں سے روکا تو یہ رُکا رہا، تو اے میرے رب! اس شخص کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔ اور قرآن کہے گ کہ میں نے اس کو شب میں سونے (اور آرام کرنے) سے روکا (اور یہ اپنی میٹھی نیند چھوڑ کر تیرے حضور کھڑا قرآن پڑھتا رہا تو اے پروردگار!) اس شخص کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔ پس اللہ ان دونوں ہی سفارشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے گا۔‘‘ (مشکوٰۃ برروایت عبداللہ بن عمرؓ)
صحابہ کرام نے بھی اس سنت کا اہتمام فرمایا، حضرت عمرؓ تراویح کی نماز باجماعت اور اس میں پورا قرآن سنانے کے لیے خاص اہتمام فرماتے تھے، دین سے عام بے پروائی، لوگوں کی کاہلی اور بے توجہی کی وجہ سے اس سنت کو چھوڑنا ہرگز صحیح نہیں۔ کم از کم ایک بار تو تراویح میں پورا قرآن سننے اور سنانے کا ضرور اہتمام کرنا چاہیے۔
نماز تراویح کے فقہی مسائل
۱) تراویح کی نیت اس طرح کرے۔ نیت کرتا ہوں کہ دو رکعت سنت تراویح پڑھتا ہوں اور پھر دو رکعت کی نیت باندھ کر سلام کے ساتھ بیس رکعتیں پوری کرے۔
۲) نماز وتر، تراویح کے بعد پڑھنا افضل ہے (درمختار)
۳) اگر کوئی مقتدی دیر سے آیا اور اس کی کچھ رکعتیں باقی تھی کہ امام وتروں کے لیے کھڑا ہوگیا تو اس کو چاہیے کہ وتر امام کے پیچھے پڑھ لے اور اپنی باقی تراویح بعد میں پوری کرلے۔
۴) اگر کوئی شخص عشاء کے فرض پڑھے بغیر تراویح کی نماز میں شریک ہوگیا تو اس کی تراویح درست نہیں، اس کو چاہیے کہ پہلے عشاء کی نماز پڑھے پھر تراویح ادا کرے، تراویح کا وقت عشا کے فرضوں کے بعد ہے۔
۵) اگر کسی نے عشاء کے فرض جماعت سے ادا کیے اور تراویح جماعت سے نہیں پڑھیں، اس کے لیے بھی وتر کی نماز جماعت سے پڑھنا درست ہے۔
۶) اگر کسی شخص نے عشاء کے فرض جماعت سے نہ پڑھے وہ بھی نماز وتر جماعت کے ساتھ پڑھ سکتا ہے۔
۷) کسی عذر کے بغیر بیٹھ کر تراویح پڑھنا مکروہ ہے۔ البتہ کوئی عذر ہو تو بیٹھ کر پڑھنا درست ہے۔
۸) فرض اور وتر ایک امام پڑھائے اور تراویح دوسرا امام پڑھائے یہ بھی درست ہے، حضرت عمر فاروقؓ فرض اور وتر کی امامت خود فرماتے اور تراویح کی امامت حضرت ابی ابن کعبؓ فرمایا کرتے تھے۔
۹) اگر امام سے تراویح کی کچھ رکعتیں کسی وجہ سے فاسد ہو جائیں اور ان کا اعادہ کرنا ضروری ہے تو پھر قرآن پاک کے اس حصہ کا اعادہ بھی کرنا چاہیے، جو فاسد شدہ رکعتوں میں پڑھا گیا تاکہ قرآن صحیح ترتیب سے نماز میں ہو جائے۔
۱۰) تراویح میں دوسری رکعت میں بیٹھنے کے بجائے امام کھڑا ہوگیا اگر تیسری رکعت کے سجدے سے پہلے پہلے یاد آ جائے یا کوئی مقتدی یاد دلا دے، تو امام کو چاہیے کہ قعدہ میں بیٹھ جائے اور تشہد پڑھ کر سجدہ سہو کرے۔ پھر نماز پوری کرکے سلام پھیر دے۔ یہ دونوں رکعتیں صحیح ہوں گی۔ اور اگر تیسری رکعت کا سجدہ کرنے کے بعد یاد آیا تو ایک رکعت اور ملا کر چار رکعتیں پوری کرے۔ اس صورت میں یہ چار رکعتیں دو رکعتوں کے قائم مقام ہوں گی۔
۱۱) تراویح میں قرآن پاک پڑھنے کی صورت میں ضروری ہے کہ کسی ایک سورت کے شروع میں بلند آواز سے ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ ایک بار ضرور پڑھی جائے۔ اس لیے کہ یہ قرآن پاک کی ایک آیت ہے۔ البتہ امام شافعی ؒ اور مکے اور کوفے کے قراء کا مسلک یہ ہے کہ یہ ہر سورت کی ایک آیت ہے۔ امام ابو حنیفہ ؒ کا مسلک یہی ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم قرآن مجید کی ایک آیت ہے۔
۱۲) قرآن پاک ختم کرنے کے بعد فوراً دوسرا قرآن شروع کردینا مسنون ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ خدا کو یہ بات بہت پسند ہے کہ جب ایک بار قرآن پاک ختم ہو تو فوراً دوسرا شروع کردیا جائے اور دوسرا شروع کرکے ’’اُولٰٓئِکَ ہُمُ المُفلِحُونَ‘‘ تک پہنچا کر چھوڑ دیا جائے۔‘‘ (علم الفقہ جلد ۲ ص ۱۷۴)
یہاں پر نماز تراویح کا طریقہ، فضائل اور مختصراً فقہی مسائل ضبط تحریر کیے۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو اس سے مستفیض ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button