کالم/بلاگ

پاکستان کے موجودہ حالات اور عوام پر اس کے اثرات

 علیشہ چوہدری

آخر کب اس ملک اوراس میں بسنے والی عوام کی حالت بدلے گی؟ ہر نئی آنے والی حکومت نئے وعدے ،نئے دعوے اپنے ساتھ لے کر آتی ہے لیکن ان کے وعدوں اوردعوئوں کے سنہری خواب ابھی تک شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے۔ حکومت اپوزیشن تمام سیاسی جماعتوں کا ایک ہی مقصد ہے ملکی سلامتی اورمعاشی بہتری، تو پھر ان سب میں آپس کا اختلاف کس بات پر ہے؟ایک دوسرے پر الزام تراشی کرنے سے فرصت نہیں ملتی۔جب مقصد ایک ہے، منشور ایک ہے تو حکومت، اپوزیشن اور تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ٹیم کی طرح کام کرنا ہوگاتب کہیں اس ملک کی حالت بدلے گی۔اب اس حکومت کو ہی دیکھ لیں۔جس کے بہت سے وعدیاور دعوے تھے۔نیا پاکستان بنے گا،مسائل حل کیے جائیں گے،نوجوان کو بے شمار روز گار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے لیکن ابھی تک یہ ایک خوبصورت خواب سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے۔اس حکومت کا سونے پر سہاگہ غریب عوام پر ٹیکس کے انبار لگا دیے ہیں اور مزید چند ماہ بعد ان ٹیکسوں میں اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔
پاکستان کے اندر گھٹتے ہوئے روز گار اور بڑھتی ہوئی مہنگائی ایک سخت عذاب بن گئی ہے۔ٹیکس کا یہ بوجھ عوام پر ایک دم سے مسلط کردینا غریب عوام کا سرعام قتل ہے۔اس طرح غریب عوام میں جرائم کا اضافہ ہوگا۔ہر روز نئے نئے ٹیکس عائد کرنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ شاید یہ حکومت سمجھتی ہے کہ عوام بہت امیر ہے، سرمایہ کار ہے مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ بڑے بڑے ایوانوں اور پارلیمنٹ میں بیٹھنے والوں کو کیا معلوم کہ عوام کی اکثریت بہت غریب اور مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔پاکستان میں امیر ترین سرمایہ کار بیورو کریٹ لوگ جن کے پاس پاکستان کی اسی فیصد آبادی سے بھی کہیں زیادہ زمینیں، دولت وغیرہ موجود ہے،اگر ان پر ٹیکس لگیں گے تو کوئی فرق نہیں پڑے گالیکن جب ان بڑے سرمایہ کاروںاور بیورو کریٹس کو ذہن میں رکھ کر اسی فیصد غریب عوام پر ٹیکس لگیں گے تو بہت فرق پڑے گا۔یہ غریب عوام پہلے ہی بہت سی مشکلات میں الجھے ہوئے ہیں۔کبھی زلزلہ،کبھی سیلاب،کبھی ڈینگی اور اب رہی سہی کسر کورونا وائرس نے پوری کردی۔
ایسے حالات میں خودکشیاں بڑھیں گی،بیروزگاری میں اضافہ ہوگا،یہاں تک کہ زندگی کا ہر رنگ ماند پڑ جائے گا۔عوام حلال حرام کے فرق کی پرواہ کیے بغیر پیسا کمانے میں لگ جائے گی۔فیکٹریوں کو تالے لگ جائیں گے۔دہاڑی کی اجرت پر کام کرنے والوں کا دو وقت کی روٹی کھانا مشکل ہو جائے گا۔ملک پر سودی قرضوں کا زیادہ بوجھ ڈالنے سے جو ترقی عوام کو نظر آرہی تھی وہ بھی ایک خواب بن گئی ہے۔اس ملک کو ہمارے پیارے قائد اور دیگر رہنماوں کی دن رات محنت کے بعد جن انگریزوں سے آزاد کروایا تھا۔آج ان سیاست دانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے انگریزوں کے مقروض بن چکے ہیں اور مزید بن رہے ہیں۔
اس ملک میں ایک ایسا قانون لازمی لانا چاہیے جو بھی حکومت قرض لے گی وہ اپنی مدت میں ادا کر کے جائے گی ،اگر نہ کرسکے تو حکومت ختم ہو نے کے بعد بھی وہ ہی پہلی حکومت اپنے قرض خود واپس کرے گئی۔نئی حکومت کا اس سے کوئی لین دین نہیں ہوگا۔اس طرح نئی حکومت پر پچھلے قرضوں کا بوجھ نہیں پڑے گا۔اس ملک میں حالات کے خراب ہونے کی ایک بڑی وجہ سیاسی پشت پناہی بھی ہے۔بڑے بڑے جرائم پیشہ افراد کی سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی سے جرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔ مجرم کو سزا کا خوف ہی نہیں ہوتا کیونکہ سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی جو حاصل ہوتی ہے۔اسی وجہ سے سرکاری ادارے تباہ ہو گئے ہیں۔جس وجہ سے عوام انتشار کا شکار ہو جاتی ہے۔
حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج عوام اس دوراہے پر آچکی ہے کہ ملک کے بگڑے ہوئے حالات عوامی قربانیوں سے درست کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔درحقیقت اس سے حالات مزید بگڑ رہے ہیں مگر اب عوام کو ہی کچھ کرنا ہوگا،اپنے حق میں آواز بلند کرنا ہوگی ورنہ اس ملک کا تو اللہ ہی حافظ۔ غریب عوام میں لڑنے کی بھی طاقت نہیں ہے۔یہ صرف ایک سرکاری ادارے کے کرپٹ ملازم کے خلاف آواز بلند نہیں کرسکتیتو یہ عوام کسی کرپٹ حکومتی عہدیدار کے خلاف کیسے لڑیں گے ۔اس غریب عوام پر اب اللہ پاک ہی کوئی کرشمہ کریں۔
ہمیں اسلامیت، انسانیت اور پاکستانیت کے لیے ایک قوم بننا ہوگا۔ ہمیں آپس کے اختلافات کو پس پشت ڈال کر اتحاد و اتفاق پیدا کرنا ہوگا اور اگر ہم ایک متحدہ قوم بن جائیں توحالات بدل جائیں گے۔انشاء اللہ۔پاکستان زندہ باد

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button