اہم خبریںپاکستان

کیا وبا نے حکومتوں سے وعدہ کر رکھا ہے وہ ہفتے اور اتوار کو نہیں آئے گی؟

 

اربوں روپے خرچ کرنے کا کیا فائدہ کہ 600 لوگ مرگئے: چیف جسٹس

چھوٹی مارکیٹیں پورا ہفتہ کھلی رکھنے کے ساتھ شاپنگ مالز بھی کھولنے کا حکم

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے ملک بھر میں چھوٹی مارکیٹیں ہفتے اور اتوار کو بھی کھلی رکھنے اور شاپنگ مالز بھی کھولنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی بینچ کورونا وائرس ازخود نوٹس کیس کی سماعت کررہا ہے جس سلسلے میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور کمشنر کراچی سمیت دیگر حکام عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر کمشنر کراچی نے عدالت کو بتایا کہ کچھ مارکیٹس کو ایس او پیز پرعمل نہ کرنے پر سیل کیا ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور کمشنر کراچی کو ہدایت دی کہ چھوٹے دکانداروں کو کام کرنے سے نہ روکیں، آپ دکانیں بند کریں گے تو دکاندار تو کورونا کے بجائے بھوک سے مرجائے گا، سیل کی گئی مارکیٹس کو بھی کھولیں اور انہیں ڈرانے کے بجائے سمجھائیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ کراچی میں 5 بڑے مالز کے علاوہ کیا سب مارکیٹیں کھلی ہیں؟ اگر باقی مارکیٹس کھلی ہیں تو شاپنگ مال کیوں بند رکھے ہیں؟

کیا وبا نے حکومتوں سے وعدہ کر رکھا ہے وہ ہفتے اور اتوار کو نہیں آئے گی؟چیف جسٹس پاکستان
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہمیں منطق بتائی جائے، کیا وبا نے حکومتوں سے وعدہ کر رکھا ہے وہ ہفتے اور اتوار کو نہیں آئے گی، کیا حکومتیں ہفتہ اتوار کو تھک جاتی ہیں، کیا ہفتہ اتوار کو سورج مغرب سے نکلتا ہے، ہم تحریری حکم دیں گے ہفتے اور اتوارکو تمام چھوٹی مارکیٹیں کھلی رکھی جائیں۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ عید پر رش بڑھ جاتا ہے، ہفتے اور اتوار کو بھی مارکیٹیں بند نہ کرائی جائیں، آپ نئے کپڑے نہیں پہننا چاہتے لیکن دوسرے لینا چاہتے ہیں، بہت سے گھرانے صرف عید پر ہی نئے کپڑے پہنتے ہیں۔

اس موقع پر عدالت نے پورے ہفتے بھی ملک بھر کی تمام چھوٹی مارکیٹیں کھولنے کا حکم دے دیا۔

ایس او پی پر مالز میں زیادہ بہتر عملدرآمد ہوسکتا ہے: جسٹس گلزار احمد
اس کے علاوہ عدالت نے کمشنرکراچی سے شہر میں شاپنگ مالز کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ملک بھر کے شاپنگ مالز کھولنے کا حکم دے رہے ہیں، ایس او پی پر مالز میں زیادہ بہتر عملدرآمد ہوسکتا ہے۔

امداد کی تفصیلات بھی عدالت میں جمع

دورانِ سماعت این ڈی ایم اے نے امداد کی تفصیلات سپریم کورٹ میں جمع کرا دیں۔این ڈی ایم اے کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی 123 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نے ادارے کے لیے 25 ارب 30 کروڑ روپےمختص کیے، وزارت صحت کی جانب سے 50 ارب روپے مختص ہوئے جو تاحال جاری نہیں کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی جانب سے این ڈی ایم اے کو 8 ارب روپے ملے جب کہ چینی حکومت کی جانب سے 64 کروڑ روپے کی گرانٹ دی گئی۔

این ڈی ایم اے کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ امداد صرف سامان کی صورت میں وصول کی جاتی ہے، نقد رقم کی صورت میں نہیں۔

اربوں روپے خرچ کرنے کا کیا فائدہ کہ 600 لوگ مرگئے: چیف جسٹس
این ڈی ایم اے کی رپورٹ پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ اربوں روپے کی رقم ماسک اور دیگر چھوٹی اشیا پر خرش کی گئی ہے، رقم کا حساب رکھا جائے۔

جسٹس گلزار احمد نے حیرت کا اظہار کیا ہےکہ صرف کورونا کےمریضوں پر یہ رقم خرچ ہوتی تو تمام لوگ کروڑ پتی ہوچکے ہوتے۔

چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ اتنی رقم خرچ کرنے کا کیا فائدہ کہ 600 لوگ مرگئے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button