کالم/بلاگ

کرونا حقیقت سے مذاق تک، حکمران گریبان میں جھانکیں

محمد عزیر علی

پاکستان میں کرونا اور لاک ڈاؤن کی شروعات ہوئی تو سبھی کرونا کو بہت بڑا خطرہ سمجھ رہے تھے تاثر تھا کہ یہ لاکھوں پاکستانیوں کو نگل لے گا. احتیاطی تدابیر اپنائی جا رہی تھی اور لوگوں کی اکثریت لاک ڈاؤن کی پابندی کر رہی تھی . لوگوں کو یہ آس بھی تھی کے حکومت اور مخئیر حضرات سے امداد ملے گی. سوچتے تھے جیسے تیسے یہ دو تین ہفتے کا لاک ڈاؤن گزار ہی لیں گے. موٹیویشنل ویڈیوز , کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے اور ایسی ویڈیوز بھی دیکھنے کو ملیں کہ کئی لوگوں نے دروازوں پہ لکھ کر لگا لیا کہ تمام ہمسایوں رشتہ داروں اور دوسروں سے معذرت ہم نے خود کو کوریںنٹائن کر لیا ہے, ایک ڈاکٹر صاحب کی کرونا سے موت سے پہلے ان کا ایک بیان جاری ہوا کہ کرونا کو مذاق نہ سمجھنا بہت تکلیف دے ہے احتیاط کرنا وغیرہ وغیرہ پھر ماحول تبدیل ہوتا گیا لوگوں کو اندازہ ہونے لگا کہ لاک ڈاؤن اتنی جلدی ختم ہونے والا نہیں. لاک ڈاؤن کے تیسرے ہفتے جا کر وزیراعظم عمران خان کو خیال آیا کہ کرونا فنڈ قائم کیا جاۓ اور ٹائیگر فورس قائم کی جاۓ. امدادی کاموں میں تاخیر اور غیر مستحق افراد میں تقسیم اور بے روزگاری سے پریشان لوگ باہر نکلنے لگے , محلوں میں بیٹھکیں ہونے لگی . پھر قرنطینہ سینٹروں میں احتجاج , ڈاکٹرز اور عملے کی عدم موجودگی , مریضوں کے لیے قید جیسی کیفیت کا خوف , کہیں پیسے بٹور کر ناقص کھانا دینے کی شکایت تو کہیں ٹیسٹوں میں تاخیر اور بلڈ سیمپل گم ہو جانے کے کارنامے سامنے آنے لگے . لوگوں کی ویڈیوز آنے لگی کہ ہم کسی اور مرض میں اپنا مریض ہسپتال لے کر گۓ تھے حکومت نے کرونا میں ڈال دیا. کراچی سے ایک صاحب کی ویڈیو آئی کہ وہ اپنے والد کو پھپھڑوں میں پانی نکلوانے ہسپتال لے کر گۓ جو کہ اکثر ان کو یہ مسئلہ ہو جاتا تھا ڈاکٹرز نے کہا کہ پہلے کرونا ٹیسٹ کروائیں , ساتھ یہ کہا کہ ٹیسٹ رپورٹ 48 گھنٹوں میں ملے گی لیکن جیسے ہی سیمپل لیبارٹری میں دے کر واپس آۓ مریض کی موت واقع ہو گئی اور جو رپورٹ 48 گھنٹے میں آنی تھی وہ پانچ منٹ میں آ گئی کہ مریض کرونا پازیٹو تھا. ایک اور ویڈیو دیکھنے کو ملی جس میں ایک شخص رو رہا ہے اور بتا رہا ہے کہ ڈیڑھ اور تین سال کے بچوں کو کرونا پازیٹو قرار دے دیا جبکہ ان کی ماں جس کی گود میں ہر وقت میں بچے رہتے ہیں اسے کرونا نیگیٹو قرار دیا, ایک صاحب جن کی بیوی نیشنل ہسپتال لاہور میں قید تھی اس کا بیان آیا کہ شوکت خانم لیبارٹری نے میری بیوی کو کرونا پازیٹو قرار دیا جبکہ باقی 6 لیبارٹریز سے ٹیسٹ کرواۓ سب نے کرونا نیگیٹو کی رپورٹ دی , نیشنل ہسپتال نے نوے ہزار کی دوائیں منگوا لیں اور دس لاکھ کا بل بنا دیا غرض جگہ جگہ سے یہ خبر ملنے لگی کہ مریض کی موت کسی اور مرض سے ہوئی اور کرونا میں ڈال دیا. پھر وزیراعظم نے کہا پاکستانیوں کا امیونٹی سسٹم بہت اچھا ہے 190 لوگ مرنے چاہیے تھے 90 مرے ہیں گھبرانا نہیں. مختلف معروف شخصیات کو کرونا ہونے اور بغیر کسی تکلیف کے ٹھیک ہو جانے کی خبریں ملتی رہی ,احتجاجوں اور کرونا سے انکاریوں کے بیانات تسلسل سے ملتے رہے لیکن ان لوگوں کہ کوئی بیانات سامنے نہیں آۓ کہ جو کرونا کی تکلیف برداشت کر رہے ہیں یا ان لواحقین کو سامنے نہیں لایا گیا جن کے اپنے کرونا سے جان گنوا بیٹھے. حکومت کی نااہلی , غیر زمہ دارانہ پالیسی , امدادی کاموں میں تاخیر , ڈرنا نہیں لڑنا کے نعرے , کرونا سے انکاری عوامی تجربات و تاثرات کے سامنے آنے کے واقعات اور کرونا متاثرین کی منظر عام سے غیر حاضری عوام میں کرونا کہ بارے غیر یقینی میں اضافہ کرتے گۓ. آج پاکستانیوں کی اکثریت کرونا کو ڈرامہ قرار دے رہی ہے , یہ سوچ بڑھتی جا رہی ہے کہ موت آئی ہو گی تو کوئی نہیں ٹال سکتا کاروبار کرنے دو , کرونا سے نہیں مریں گے تو بھوک سے مر جائیں گے , حکومت فنڈ کھانے کے چکر میں کرونا کا ڈرامہ کر رہی ہے , ٹیسٹ کٹس غیر معیاری ہیں اور ٹیسٹوں کا اعتبار ہی نہیں, انڈیا نے نے چائنہ کی جو کرونا ٹیسٹ کٹس ریجیکٹ کی وہ پاکستان نے لے لیں, باہر سے آنے والے پاکستانیوں کو ان کے ذاتی خرچ پہ ٹیسٹ اور مہنگے ہوٹلوں میں رہائش کا واویلہ , کچھ نے اسے مذہب پہ حملہ اور عبادات سے روکنے کے لیے سازش قرار دیا دنیا کی اکثریت اسے معاشی جنگ اور تیسری جنگ عظیم کا پیش خیمہ قرار دیتی ہے. آج جگہ جگہ لوگوں کہ لاپرواہ ہجوم دکھائی دے رہے ہیں لوگ پوچھ رہے ہیں کہ کتھے ہے کرونا , سب ڈرامہ ہے کہ گردان چل رہی ہے مجھے نہیں معلوم کہ یہ سوچ اور سلسلہ آنے والے وقت میں کیا صورت اختیار کرے لیکن حقیقت یہی ہے کہ شروع سے اب تک کرونا سے کل اموات 1197 ہیں اور اس میں بھی اکثریت کا یہ دعوی ہے کہ ہمارے مریض کو کرونا نہیں دیگر امراض تھے, یعنی ڈیتھ ریٹ نہ ہونے کہ برابر ہے. فرق پڑا ہے تو صرف اتنا کہ کرونا مریضوں سے سلوک کو دیکھتے ہوۓ دیگر بیماروں نے بھی ہسپتال جانا چھوڑ دیا ہے کہ کہیں ہمیں بھی پکڑ کر قید نہ کر دیں. دوسری طرف محکمہ پولیس جس کو شاباشیں مل رہی تھی وہ آج کل زبردست موج میں ہے 500, 1000 اور کاروباری کی حیثیت کے مطابق ان سے پیسے لے کر ان کے کاروبار بغیر کسی پریشانی کے دن رات چلوانے میں مصروف ہے.
کاش کہ وزیراعظم نے پہلے 20 دن کرفیو لگا دیا ہوتا تو آج صورت حال مختلف ہوتی یہ ادھورا لاک ڈاؤن نہ کرونا ختم ہونے دے گا نہ غریب عوام کی زندگی آسان ہو گی. عوام تو حالات واقعات دیکھتی ہے کرونا کو مذاق حکومت نے خود بنایا . اگر حکومت واقعی کرونا کو خطرناک سمجھتی ہے اور چاہتی ہے کہ لوگ احتیاط کریں اور پولیس کو رشوتیں دے کر ساری پابندیوں کو جوتے کی نوک پر نہ رکھیں اور کرونا کو مذاق نہ سمجھیں تو زرا اپنے گریبان میں جھانک لیں اور کم از کم میڈیا پر ان لواحقین کو لے کر آئیں جن کے پیارے کرونا کے سبب دنیا سے چلے گۓ ورنہ کرونا سازش ہے , مذاق ہے , فنڈ کھانے کا بہانہ ہے. اللہ اس ملک کو ہر سازش اور آفت سے محفوظ رکھے . آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button