کالم/بلاگ

کھیلوں میں فکسنگ ،حقائق اور اندرون خانہ کہانیاں2

شہبازعلی
hafee23@gmail.com

 

پاکستان کرکٹ میں فکسنگ کی کہانیاں اس وقت عروج پر ہیں،پی سی بی ڈسپلنری پینل کی طرف سے تین سال کی پابندی لگنے کے بعد عمر اکمل نے اس پابندی کے خلاف پی سی بی ڈسپلنری پینل میں اپیل کردی ہے ،اب معاملہ ایڈجیوڈیکیٹر کے پاس جائے گا اور ایڈجیوڈیکٹر ایک ماہ کے اندر اندر کیس کا فیصلہ سنائے گا ۔ہم اس سے قبل عمر اکمل کا ذکر کرچکے ہیں کہ عمر اکمل یا ان جیسے کھلاڑی سپیشل ہوتے ہیں اور سپیشل کھلاڑیوں کو کنٹرول کرنے کے لئے طریقہ کار بھی سپیشل اختیار کیا جاتا ہے ،مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں کرکٹ کاایسا سسٹم بن ہی نہیںسکا جس سے ہمارے کھلاڑیوں کو یہ معلوم ہوسکے کہ انہوں نے زندگی کیسے گزارنی ہے اوراپنے پاس آنے والی رقم کو کس طرح خرچ کرنا ہے ۔
بات عمر اکمل کے حالیہ معاملے کی چل رہی ہے اس لئے ہم اسی معاملے کو آگے بڑھائیںگے مئی 2000ءمیں جسٹس قیوم رپورٹ آنے کے بعد پی سی بی کے فیصلوں کے بعد کافی عرصہ تک پاکستان کرکٹ سے فکسنگ کے معاملات دور رہے۔ گو کہ گاہے بگاہے اس معاملے کی آوازیں ضرور اُٹھتی رہیں مگر کبھی کوئی معاملہ کھل کر سامنے نہ آیا ۔ پھر 2009ءکے اختتام پر پاکستان کرکٹ ٹیم کے دورہ آسٹریلیا میں ایک مرتبہ پھر قومی ٹیم کے ڈریسنگ روم سے میچ فکسنگ کی آوازیں اٹھیں ،دورہ آسٹریلیا میں فکسنگ کی بات چلی تو آسٹریلیا اور پاکستان کرکٹ میں فکسنگ کی اپنی ایک کہانی ہے1994-95ءمیں مارک ٹیلر کی قیادت میں آسٹریلو ی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیااس سیریز میں کینگروز کو پاکستان کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرناپڑا۔سلیم ملک الیون کے ہاتھوں شکست کھاکر آسٹریلوی ٹیم اپنے وطن واپس پہنچی تو سابق آسٹریلوی کرکٹرز مارک واہ ،ٹم مے اور شین وارن نے پاکستانی کپتان سلیم ملک پر فکسنگ کی پیش کش کے الزامات لگائے 27سال بعد ان واقعات کا یہاں ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان دنوں جہاں عمر اکمل پر پابندی کا معاملہ گرم ہے وہیں پر سلیم ملک بھی میدان میں ہیں۔ سلیم ملک کا موقف ہے کہ اگر کرکٹ فکسنگ میں جرمانے ادا کرنے اور سزائیں کاٹنے والے کھلاڑی بورڈ میں نوکریاں کرسکتے ہیں اور کرکٹ کھیل سکتے ہیںتو ان کا بھی حق بنتا ہے کہ ان کو پاکستان کرکٹ کے لئے کچھ کرنے کا موقع دیا جائے ۔بات 1994-95کے آسٹریلیا کے دورہ پاکستان کی چلی توجب آسٹریلو ی کرکٹرز نے پاکستانی کپتان سلیم ملک پر فکسنگ کی پیش کش کرنے کے الزامات لگائے تو اُس وقت دنیائے کرکٹ میں ایک کہرام برپا ہوگیا۔ آسٹریلوی کھلاڑیوں نے کہا کہ سلیم ملک نے ان کو میچ میں خراب کارکردگی دکھانے کے عوض بھاری رقم کی پیش کش کی جس کو انہوں نے ٹھکرادیا اس معاملے پر جسٹس فخر الدین جی ابراہیم کی سربراہی میںانکوائر ی کمیشن بنایاگیا آسٹریلوی کھلاڑیوں نے شواہد فراہم کرنے کیلئے پاکستان آنے سے انکار کیا تو کمیشن نے آسٹریلیا جاکر انکوائری کی مگر آسٹریلو ی کرکٹرز اپنے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہے ،اس معاملے کے کچھ ہی عرصے بعد قومی ٹیم کے دورہ جنوبی افریقہ اور زمبابوے کے دوران وکٹ کیپر راشد لطیف اور مڈل آرڈر بلے باز باسط علی نے تہلکہ خیز انکشافات کئے اور انہوں نے کپتان سلیم ملک سمیت ٹیم کے اہم کھلاڑیوں پر فکسنگ کے الزامات عائد کئے ۔یہ الزامات ٹور کے دوران لگائے گئے اور پھر دنیائے کرکٹ میںایک تھرتھلی مچ گئی ۔اس معاملے میں بھی پی سی بی نے انکوائری کی اور سٹار کھلاڑیوں کو بچا لیا گیا ۔اور پھر الزام لگانے والے کھلاڑی اور ملزم کھلاڑی کچھ ہی عرصہ بعد ایک ساتھ کھیلتے دکھائی دئیے ۔اس واقعے کے بعد آج تک 1996 ءورلڈکپ میں بھارت کے خلاف سیمی فائنل میں وسیم اکرم کے نہ کھیلنے پر سوالات اٹھائے جاتے ہیںاسی طرح 1999ءورلڈکپ میںبھی پاکستان کی بھارت اور بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست کے ساتھ ساتھ ورلڈکپ فائنل میںگرین شرٹس شکست پر آج بھی سوالیہ نشان موجود ہیں ۔اس معاملے میں جو کچھ ہوا اس پر ماضی میں بھی بہت بات ہوچکی ہے ہر واقعے کے بعد کسی نہ کسی مصلحت کے تحت معاملات کو دبادیا گیا ۔یہاں تک کہ 16اگست 1998کو جاری ہونے والی جسٹس اعجاز یوسف انکوائری کمیشن رپورٹ میںدوٹوک انداز میں کہا گیا کہ ٹیم کے بہت سے کھلاڑی فکسنگ جیسی مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور کمیشن نے باقاعدہ وسیم اکرم سمیت تین اہم کھلاڑیوں کو دوبارہ ٹیم میں منتخب نہ کرنے کا کہا مگر ہوا اس کے الٹ کہ 1999ئ کے دورہ بھارت سے قبل وسیم اکرم کو دوبارہ قومی ٹیم کا کپتان بنادیا گیا اور دیگر دو کھلاڑی بھی ٹیم میں شامل کر لئے گئے اُس وقت کے چیئرمین پی سی بی خالد محمود اور بورڈ کے اعلیٰ حکام کا موقف تھا کہ یہ کھلاڑی بہت بڑے ہیں اس لئے ان کو ٹیم سے ڈراپ کرنا نقصا ن کاباعث ہو گا ۔دوسری جانب جب جسٹس قیوم کمیشن قائم کیا گیا تو اس میں جسٹس اعجاز یوسف کمیشن کی رپورٹConsider ہی نہیںکیا گیا بلکہ اس انکوائری کو abandoned کردیا گیا ۔جسٹس قیوم کمیشن رپورٹ میں بھی جسٹس اعجاز یوسف کمیشن رپورٹ کا ذکر ہے ۔جسٹس اعجاز یوسف کی رپورٹ ہو یا جسٹس قیوم کمیشن رپورٹ ،یا اس سے پہلے پیش آنے والے واقعات ہوں بورڈ حکام نے ہر جگہ مصلحت سے کام لیا۔اسی مصلحت نے پاکستان کرکٹ میں ایک کے بعد ایک بدنامی کے داغ دئیے ۔جو قومیں بروقت اور حقیقت پسندانہ فیصلہ کرنے کی بجائے مصلحتوں سے کام لیں وہاں ایک کے بعد ایک خرابی سامنے آتی ہے اور یہی کچھ پاکستان کرکٹ میں ہوتا ہوا دکھائی دیا ۔
اسی لئے اگر بغور جائزہ لیا جائے تو 2009-2010ءکرکٹ سیز ن میں سامنے آنے والے واقعات کے تانے بانے 2000ئمیں ہونے والے واقعات سے اس لئے ملتے ہیں کہ 2007ئکے بعد جسٹس قیوم رپورٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے اس رپورٹ کے تمام مرکزی کردار ہمیں پاکستان کرکٹ میں مختلف ذمہ داریاں نبھاتے دکھائی دئیے ۔ہمارے ہاں آج تک یہی بحث چل رہی ہے کہ جسٹس قیوم کمیشن رپورٹ میں فلاں کھلاڑی کو ذمہ داری دینے کے لئے کہا گیا ہے اور فلاں کھلاڑی کو نوکری دینے سے منع کیا گیا ہے ،معاملہ کسی کھلاڑی کو نوکری دینے یا نہ دینے کانہیں ہے معاملہ پاکستان کرکٹ کے عزت ووقار کا ہے جب داغدار ماضی کے حامل کھلاڑی مستقبل کے کھلاڑیوں کی ٹریننگ کریں گے تو وہ ان کو کیا سکھائیں گے ،کیوں کہ جب بھی مشکوک ماضی کے حامل کھلاڑی فیلڈ میں آتے ہیں تو ساتھ ہی ان کے ماضی کے مشکوک تعلقات بھی متحرک ہوجاتے ہیں اور پھریہی ماضی کے تعلقات نئے کیسز جنم دیتے ہیں اگر 2010ءفکسنگ کیس یا پھر اس کے بعد پی ایس ایل فکسنگ اسکینڈل کا جائزہ لیا جائے تو یہ تانے بانے انہی پرانے تعلقات سے جاکر ملتے ہیں۔کیوںکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے 90ءکی دہائی میں بڑے کھلاڑیوں کو سپر سٹار قرار دے کر مصلحت کا راستہ اختیار کیا اور ان کو سزا نہ دی اور ان کو کسی نہ کسی حیثیت میں پاکستان کرکٹ سے منسلک رہنے دیا۔ سونے پہ سہاگہ یہ 2010ءفکسنگ اسکینڈل کے مرکزی کردار محمد عامر کو پانچ سال بعد پوری شان و شوکت کے ساتھ بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کا موقع دیا گیا ،محمد عامر کی انٹر نیشنل کرکٹ میں واپسی سے جہاں نئے کھلاڑیوں کا خوف ختم ہوا وہیں پر ان میں یہ احساس بھی بیدار ہو اکہ اگر کسی موقع پر مشکوک سرگرمی میں پکڑے بھی گئے تو ایک مخصوص سزاکاٹ کر واپس آجائیں گے،اسی عمل کی تازہ مثال شرجیل خان کی صورت میں سامنے آئی ہے جو کہ پی ایس ایل ٹو کے افتتاحی میچ سے قبل فکسنگ اسکینڈل کی زد میں آئے اور پھر اڑھائی سال کی پابندی کا سامنا کر نے کے بعد دھڑلے کے ساتھ پی ایس ایل فائیو میں ایکشن میں دکھائی دئیے ،بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ اگر غور کریں تو جب پی ایس ایل ٹو میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی نمائندگی کرنے والے شرجیل خان فکسنگ کی زد میںآئے تو اُس وقت وسیم اکر م اور ڈین جونز یونائیٹڈ کے تھینک ٹینک کا حصہ تھے اور اب جب شرجیل خان کی کراچی کنگز کے ذریعے پی ایس ایل میں واپسی ہوئی تو اس کو حُسن اتفاق کہیں یاپھر کچھ اور سمجھیں کہ اب وسیم اکرم اورڈین جونز نے کراچی کنگز کے پلیٹ فارم پر شرجیل خان کو خوش آمد ید کہا،اس سے بڑھ کر ایک اور بات جو ہم سب سنتے آئے وہ یہ کہ شرجیل خان جیسا ٹیلنٹ ضائع ہوجائے گا اس کو بچایا جائے ایسا ہی کچھ محمد عامر کے بارے میں کہا گیا یہ وہی لوگ ہیںجو پہلے کھلاڑیوں کو مشکوک سرگرمیوں میں الجھاتے ہیں اور پھر ان کی واپسی کے لئے ان کو معصوم بناکر پیش کیا جاتا ہے ۔پاکستان کرکٹ کے حلقوں میں شرجیل خان کی قومی ٹیم میں واپسی کے حوالے سے راہ ہموار کی جارہی ہے مگر کسی کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی ہے کہ ہم ایک کے بعد ایک غلط مثال قائم کررہے ہیں ۔آئندہ آنے والے دنوں میں کھلاڑیوں کی بکیزسے ملاقات اور معاملات کس طرح طے کئے جاتے ہیں اس حوالے سے اہم انکشافات کئے جائیں گے ۔
(جاری ہے )

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button