کالم/بلاگ

کھیلوں میں فکسنگ ،حقائق اور اندرون خانہ کہانیاں 3

 

 

حافظ شہبازعلی

میچ فکسنگ اسکینڈل میں ان دنوں عمرا کمل اور سلیم ملک کا معاملہ گرم ہے عمراکمل نے پی سی بی ڈسپلنری پینل کی پابندی کے خلاف اپیل کردی ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ نے سابق کپتان سلیم ملک کو سوالنامہ بھجوادیا ہے جس پر سلیم ملک کا کہنا ہے کہ وہ اپنے وکلا کے ذریعے سوالنامے کاجواب دیں گے ۔گزشتہ ہفتے انہی سطروں میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی تمام تر کوششوں کے باوجود فکسنگ کے معاملات نہ رکنے کے حوالے سے بات کی گئی تھی جس میں ہم نے چند مثالیں بھی دی تھیں جن سے کچھ دوستوںنے اتفاق کیا اور ایک دو دوستوں نے اس معاملے پر اختلاف رائے بھی کیا ۔ہم ایک جمہوری ملک میں رہتے ہیں جہاں ہر کسی کو اپنی بات کہنے اور رائے دینے کا حق ہے اس لئے جن دوستوںنے میری رائے سے اختلاف کیا ان کا اختلاف رائے سر آنکھوں پر ہے ۔بات کھلاڑیوں مسلسل فکسنگ میںملوث ہونے کی چل رہی تھی تو ہم آج کھلاڑیوں کے فکسنگ میں ملوث ہونے کے حوالے سے مزیداہم باتیں سامنے لانے کی کوشش کریں گے۔
کیوں کہ فکسنگ دنیا کے تمام کھیلوں میں ہوتی ہے اور اس کی روک تھام کے لئے بھی اقدامات کئے جاتے ہیں مگر ان اقدامات کے باوجود فکسنگ کا جن قابومیں نہیں آرہا ۔دنیا کے دیگر کھیلوں میں فکسنگ کے حوالے سے زندگی رہی تو آنے والے دنوںمیں بات کریں گے تاہم یہاں ہم کرکٹ میں فکسنگ کے حوالے سے بات آگے بڑھاتے ہیں ۔اگر دیکھا جائے تو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا میںکرکٹ کھیلنے والے تمام ہی ممالک میں فکسنگ یا جوا عام ہے ۔ان ممالک میں جوااور میچ فکسنگ انٹر نیشنل میچوں تک محدود نہیں بلکہ ڈومیسٹک اور پھر بالکل گراس روٹ لیول یعنی کلب کی سطح تک ہونے والے ٹورنامنٹس میںجوا اور فکسنگ عام ہے ۔
اگر ہم کھلاڑیوں کے بکیز کے ساتھ رابطوں کے حوالے سے بات کریں تو دنیا بھر میں تقریباََ ہرایک کا طریقہ کار ہے جو بکیز کھلاڑیوں کے ساتھ رابطوں کے لئے اختیار کرتے ہیں ۔یہاں ہم گراس روٹ لیول سے فکسنگ کی بات کررہے ہیں تو ایک بات بہت اہم ہے کہ پاکستان میںہونے والے بہت سے کلب کرکٹ کے ٹورنامنٹ خاص طور پر رمضان میں ہونے والے کرکٹ ٹورنامنٹس تو باقاعدہ جواریوں اور بکیز کی آماجگاہ ہوتے ہیں ۔اس سے ایک قدم آگے ہمارے ہاں ٹیپ بال کرکٹ میں اب پریکٹس یا انجوائے منٹ کے لئے کھیلنے کا رجحان ختم ہوچکا ہے بلکہ اب ٹیپ بال کرکٹ باقاعدہ جوئے کی انڈسٹری بن چکی ہے ۔بات کلب کی سطح سے جوئے کے حوالے سے چلی تو بتاتے چلیں کہ پاکستان میں گراس روٹ کر کٹ پر جوئے کاآغاز 80کی دہائی کے وسط میں ہواجہاں لاہور شہر میںرمضان المبارک کے مہینے میںہونے والے ٹورنامنٹس میں جوا شروع ہوااور پھر یہ 90کی دہائی میں اپنے عروج پر تھا۔مختلف ٹورنامنٹس میں ہونے والا یہ جوا اصل میں سپاٹ فکسنگ تھی جس میں کلب کی سطح پر ہونے والے میچز کی ہر گیند پر 80اور 90کی دہائی میں لاکھوں روپے کا جوا ہوتا تھا ۔ایک گیند پر سو روپے سے لے کر 70 ہزار روپے تک کا جوا ہوتا تھا ۔ان میچز کے دوران کھیلتے ہوئے کئی مرتبہ محسوس ہوتا کہ شاید سٹاک مارکیٹ میں شیئرز یا پھر سبزی منڈی میں آڑھتی سبزیوں کاریٹ لگا رہے ہیں۔میچ کی پہلی گیند پر بے انتہا شرطیں لگائی جاتیں اور یہ سلسلہ آج انٹرنیشنل کرکٹ میں جاری وساری ہے ۔کہا جاتا ہے کہ سپاٹ فکسنگ یا فینسی فکسنگ میںمیچ کی پہلی گیند اور پھر دوسری اننگ کی
پہلی گیند پر سب سے زیادہ جوا ہوتا ہے اور اگر ان دو گیندوں کے لئے کسی بکی کے باﺅلر یا بلے بازکے ساتھ کسی بھی طرح معاملات طے پاجائیںتواس کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں۔
اگر ہم لاہور کی بات کریں تو لاہور میںاسلامیہ ہائی سکول ،میاں میر بارہ دری گراﺅنڈ ،مجیٹھیہ ہال (جہاں آج کل حاجی کیمپ ہے)،ڈونگی گراﺅنڈ پر ہونے والے رمضان ٹورنامنٹس جواریوں کی آماجگاہ ہو ا کرتے تھے، کلب کرکٹ ٹورنامنٹس میں 80اور 90کی دہائی کے تمام ٹاپ کرکٹرز ایکشن میں دکھائی دیتے تھے،لاہور کے بعد جب کراچی اور دیگر شہروں میں رمضان کرکٹ عام ہوئی تو وہاں بھی یہ سلسلہ بام عروج پر پہنچا ،بلکہ گزشتہ برس کراچی میں رمضان کرکٹ کے دوران تو جوئے اور فکسنگ کی اطلاعات زبان زدعام آئیں۔یہاں ذہنوں میں ایک سوال آئے گا کہ اس سارے معاملے سے کھلاڑیوں کا کیا تعلق اور یہ تو کلب کی سطح کی بات ہے اس کا بین الاقوامی کرکٹ سے کیا لینا دینا ۔جی یہی وہ مقام ہے جہاں سے کھلاڑیوںکے فکسرز کے ساتھ تعلقات استوار ہوتے ہیں ۔ان میچز کے لئے بکیز مہینوں پہلے تیاریاں شروع کرتے تھے ،میچز سے قبل بکیز کھلاڑیوں کا انتخاب کرتے کہ کس کلب میں کس کس کھلاڑی کی شمولیت یقینی ہے اس سے رابطہ کر کے معاملات طے کئے جاتے تھے ۔ کھلاڑی میچز کے دوران بکیز کو مختلف اشارے دیتے ،مثال کے طور پر اگر بلے باز نے گیند کھیلنے سے پہلے اپنی شرٹ کا بایاں بازو اوپر فولڈ کیا تو یہ سگنل ہو گا کہ وہ اس گیند کوڈاٹ بال کھیلے گا ،اگر باﺅلر گیند کرنے سے پہلے اپنے ٹراﺅزر کی بائیں جیب میں ہاتھ ڈالے گا تو وہ وائیڈ بال کرے گا ،اگر بلے باز اپنے پیڈ دائیں پیڈ کو دو مرتبہ ہلائے گا تو مطلب ہو گا کہ ہر حال میں سنگل کرے گا اسی طرح اگر باﺅلر اوور شروع کرنے سے پہلے سویٹر الٹا پہنے گا تو وہ اوور میں دو ،تین یا چار وائیڈ بال کرے گا کلب یا ڈومیسٹک کرکٹ کی سطح پر یہ تمام معاملات کھلاڑی اور ایک مخصوص بکی کے درمیان میچ سے کم از کم 24 سے 48گھنٹے پہلے طے پاجاتے ہیں۔اب یہاں ایک اور اہم بات کہ بکی کھلاڑیوں سے ملاقات کیسے کرتے ہیں ،اگر ہم 80اور 90کی دہائی کی بات کریں تو اُس وقت کیوں کہ رابطے کے ذرائع محدود تھے تو اُن دنوں میں بکیز کھلاڑیوں سے ان کے کلب گراﺅنڈز کے باہر ،محلوں یا گھروں میں جاکر ملتے اور معاملات طے کرلیتے ،اس میںکھلاڑی کے ساتھ جو معاملہ طے پاتا اس کی ایک مخصوص رقم اسے ایڈوانس کے طور پر دی جاتی اور وہیں پر اشارے کنائے طے پاتے تھے ۔بکی کھلاڑی کو یہ بھی بتاتا تھا کہ وہ یا اُس کا نمائندہ میچ میں کس جگہ بیٹھا ہوگا ،جب کسی کھلاڑی کا کام چل نکلتا تو پھر کئی کھلاڑی خود بکیز کے ساتھ رابطے کرلیتے اور ان سے معاملات طے کرلیتے ۔جب سے رابطوں کے جدید ذرائع آئے ہیں تو اس وقت سے بکیز نے بھی معاملات طے کرنے کے جدید طریقے اختیار کئے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 90کی دہائی میں ایک اچھی کلب کی نمائندگی کرنے والا کھلاڑی جو کہ اپنے کلب کی طرف سے ہر میچ کا حصہ ہوتا تھا کم ازکم 20سے 25ہزار روپے کمالیتا تھا اور کچھ اچھے کرکٹرز کی تو کمائی لاکھوں میں بھی ہوجاتی تھی ۔ان میچز کے دوران کئی مرتبہ ٹیسٹ اور انٹر نیشنل کرکٹرز کے نام بھی آتے کہ وہ کسی مشکوک سرگرمی میںملوث ہیں اور کئی ایسے میچز ہوجاتے کہ دیکھنے والا شخص میچ کا نتیجہ دیکھ کر حیران و پریشان ہوجاتا۔اب سوال یہ ہے کہ جو کھلاڑی کلب کی سطح پر چند سو روپے کی خاطر اپنی نیچرل گیم نہیں کھیلتا تو اسی کھلاڑی کو جب انٹر نیشنل کرکٹ میں ایک گیند کسی بکی کی مرضی کے مطابق کھیلنے پر لاکھوں کروڑوں روپے ملتے ہوں تو وہ کیسے چھوڑے گا ۔ایک بات اور کلب کی سطح پرچند سو روپے سے شروع ہونے والا معاملہ اب لاکھوں میں پہنچ چکا ہے اور یہ بڑھتا ہی جارہا ہے ہم نے اوپر حالیہ برسوں میں رمضان اور دیگر ٹورنامنٹس میں سپاٹ فکسنگ ،فینسی فکسنگ اورمیچ فکسنگ کی بات کی تو آئندہ دنوں میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ کلب کی سطح پر ہونے والے ان ٹورنامنٹس کے آرگنائزرز کون ہوتے ہیں ان کے کیا معاملات ہوتے ہیں اور پھر یہ معاملات ڈومیسٹک اور انٹر نیشنل کرکٹ تک کس طرح پہنچتے ہیں اور یہ کہ انٹر نیشنل کرکٹ میں فکسرز کے باہمی روابط کا ذریعہ کیا ہے۔

(جاری ہے)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button