کالم/بلاگ

کھیلوں میں فکسنگ ،حقائق اور اندرون خانہ کہانیاں(1)

حافظ شہباز علی
hafee23@gmail.com

ان دنوں پاکستان کرکٹ میں فکسنگ کی گونج ایک مرتبہ پھر اپنے عروج پر ہے۔پی سی بی ڈسپلنری پینل نے عمر اکمل کے کرکٹ کھیلنے پر تین سال کی پابندی عائد کردی ہے تو 1999ء ورلڈ کپ کے بعد جسٹس قیوم رپورٹ کی روشنی میں تاحیات پابندی کا شکار سابق کپتان سلیم ملک بھی اچانک میدان میں آگئے ہیں اورانہوں نے 20سال بعد شائقین کرکٹ سے معافی مانگتے ہوئے پی سی بی اور آئی سی سی سے مکمل تعاون کا اعلان کردیا۔سلیم ملک کہتے ہیں کہ اگر فکسنگ کے بعد محمد عامر انٹر نیشنل کرکٹ جبکہ سلمان بٹ ،محمد آصف اور شرجیل خان کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے اور فکسنگ میں نام آنے والے کئی کرکٹرز کو مختلف حیثیتوں میں کرکٹ کے ساتھ منسلک ہیں اس لئے ان کا بھی حق بنتا ہے کہ ان کو بھی کرکٹ میں کام کرنے کا موقع ملنا چاہئیے ۔
سلیم ملک کے ویڈیو بیان میڈیا میںآنے کے بعد جیسے ہر طرف ہلچل سے مچ گئی ہو اور پھر 20برس پرانی فکسنگ کی کہانیاں ایک دفعہ پھر منظر عام پر آرہی ہیںسابق چیئرمین خالدمحمود،سابق کپتان وسیم اکرم ،سابق کرکٹرز عاقب جاوید ،راشد لطیف ، شعیب اختر ،عطا الرحمن سبھی اپنے اپنے انداز میں اس معاملے پربات کررہے ہیں۔دنیا میں کھیلوں کے حلقے بالعموم اور پاکستان کرکٹ کے حلقے حیران ہیں کہ آخر 20برس بعد اس فکسنگ کہانی کو کیا حاصل کرنے کے لئے دہرائی جارہی ہے ،اگر دیکھا جائے توموجودہ حالات میں کرکٹ اور فکسنگ کاچولی دامن کا ساتھ ہے ۔ 1978-79ء میں پاک بھارت سیریز کے بعد سے کرکٹ کے میدانوں سے وقفے وقفے سے کسی نہ کسی صورت فکسنگ کی آوازیں آتی رہی ہیںاگر کھیلوں کی دنیا میں فکسنگ کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہ تقریباً 130سے 140 سال پرانی ہے ،آنے والے دنوں میں ہم کوشش کریں گے کہ اپنے قارئین کو کھیلو ں میں فکسنگ کیسے،کہاں ،کیوں اور کس لئے ہوتی ہے اور اس لعنت کو روکنے کے لئے کیا اقدامات کئے گئے ہیںیا پھر کیا ہونا چاہئے کے بارے میں تفصیلاً بتایا جائے ۔ کیوںکہ اگر بغور دیکھا جائے تو فکسنگ موجودہ دور میں ڈوپنگ کی طرح کھیلوں کے لئے زہر قاتل ہے۔ابتدائی طور پر ہم حالیہ معاملات اور عمر اکمل کی سزا پر بات کرتے ہیں آنے والے دنوں میں ہم فکسنگ کے پھیلا ئو کے حوالے سے بہت سے ایسے حقائق سامنے لائیں گے جو کہ اب تک یا توبالکل سامنے آئے نہیں اور اگر سامنے آئے بھی تو بس سرسری سے انداز میں سامنے آئے ۔
اگر حالیہ معاملات پر بات کریں تو عمر اکمل پرلگنے والی تین سالہ پابندی کو لے کر کرکٹ حلقوں میں دو خیالات پائے جاتے ہیں ایک خیال یہ ہے کہ عمر اکمل کو زیادہ سزا دی گئی تو دوسری سوچ یہ ہے کہ عمر اکمل کو کم سزا دی گئی ۔اگر عمر اکمل کے حوالے سے بات کی جائے تو عمر اکمل جس دھماکے دار انداز سے کرکٹ میںآئے اس کودیکھ کر لگتا تھا کہ عمر اکمل دنیا کے ٹاپ بلے باز بن جائیں گے مگر کچھ ہی عرصے کے بعدعمر اکمل پٹری سے اتر گئے اور پھر پاکستان کرکٹ کا یہ بگڑا شہزادہ کارکردگی کی بجائے تنازعات اور کرکٹ فیلڈ سے ہٹ کراپنی سرگرمیوں کی وجہ سے میڈیا پر شہ سرخیوں کا حصہ بن گیا ۔عمر اکمل کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو 2009ء میں اپنے انٹر نیشنل کرکٹ کیرئیر کا آغاز کرنے والے 30سالہ عمراکمل 11سال میں محض 16ٹیسٹ ،121ون ڈے اور 84ٹی ٹونٹی میچز ہی کھیل پائے اپنی اولین ٹیسٹ اننگز میں نیو زی لینڈ کے خلاف 129رنز بنانے والے عمر اکمل کرکٹ میں آنے کے بعد ان کے ایک کے بعد ایک تنازعات سامنے آئے ،کبھی ڈانس پارٹی میں جانے پر عمر اکمل کے خلاف کارروائی کی گئی تو کبھی موصوف ٹریفک وارڈن سے الجھے اسی طرح کے ان گنت کارنامے ہیں جوکہ شہ سرخیوں کا حصہ بنے ایسی بہت سی کہانیاں ہیں جو زبان زد عام ہیں،اگر عمر اکمل کے حوالے سے بات کی جائے تو 2012ء کے آغاز میں پہلی مرتبہ عمراکمل کا نام مشکوک سرگرمیوں میں آیا تاہم اس معاملے میںسے کچھ بھی سامنے نہ آسکا ۔
اگر حالیہ فکسنگ اسکینڈل میں عمر اکمل کی پابندی کے حوالے سے بات کی جائے تو یہ معاملہ تقریباً دوسال سے چل رہا تھا ،واقفان حال جانتے ہیں کہ آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ بھی پچھلے کافی عرصے سے عمر اکمل پر نظر رکھے ہوئے بلکہ اس معاملے میں ان سے کچھ پوچھ گچھ بھی کی گئی اسی طرح ایک غیر ملکی لیگ کے دوران بھی ایک اسکینڈل میں عمر اکمل کا نام آیا تاہم وہاں انہوں نے بروقت بورڈ حکام کو آگاہ کردیا اس اسکینڈل میں سابق ٹیسٹ کرکٹر منصور اختر کا نام بھی آیا ۔آئی سی سی اور پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ مسلسل عمر اکمل پر نظر رکھے ہوئے تھے اور اسی معاملے میں اس مرتبہ پی ایس ایل فائیو کے آغاز سے ایک روز قبل عمر اکمل کواس سارے معاملے میں شواہد دکھائے گئے اور پھر ان کو معطل کردیا گیا ،جس کے بعد معاملہ ڈسپلنری پینل تک پہنچنے کے بعد عمر اکمل پر تین سال کی پابندی لگ چکی ہے ۔عمر اکمل پر لگنے والی پابندی کو سابق ٹیسٹ فاسٹ باولر شعیب اختر نے ناانصافی قرار دیتے ہوئے پی سی بی کے نظام اور لیگل ٹیم پر کئی سوالات اٹھا دئیے ،ادھر سابق وکٹ کیپر ذوالقرنین حیدر نے عمر اکمل پر تین سالہ پابندی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان پر تاحیات پابندی لگاکر ان کی تمام جائیداد بھی ضبط کی جائے ۔اگر دیکھا جائے تو عمر اکمل کو یہاں تک پہنچانے میں ان کی اپنے غیر سنجیدگی کے ساتھ ساتھ سب سے بڑا ہاتھ ہمارے کرکٹ سسٹم کاہے ۔جو ایک عام کھلاڑی کو اس کی ایک یا دو اچھی پر فارمنسز پرزمین سے اٹھا کر آسمان پر بٹھا دیتے ہیں ۔یہی کچھ عمر اکمل کے ساتھ ہوا ان کی اولین انٹر نیشنل سیریز کے بعد پاکستان کرکٹ کے ناخدائوں نے اسے فوری ویرات کوہلی اورمائیکل کلارک سے ملانا شروع کردیا اور سونے پہ سہاگے کاکام ہم میڈیا والوں نے انجام دے دیا ۔اس اچانک شہر ت کا نتیجہ یہ نکلا کہ عمر اکمل بے لگام گھوڑے کی صورت اختیار کرنے لگے ،عمر اکمل شہر ت کی چکا چوند میں ایسے کھوئے کہ قواعد وضوابط کو ہوامیں اُڑانا ان کا معمول بن گیا جب عمر اکمل ہاتھوں سے نکل رہے تھے ایسے وقت میں کسی نے بھی ان کو کنٹرول کرنے کی کوشش نہیں کی اور اگر کسی نے ان کو سمجھانے کی کوشش کی بھی تو عمر اکمل نے اس کی ایسی درگت بنائی کہ وہ دوبارہ ان کو سمجھانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکا ۔ایک بات واضح ہے کہ عمر اکمل جیسے خداداد صلاحیتوں کے حامل کرکٹرز سپیشل ہوتے ہیں ان کو کنٹرول کرنے کے لئے بھی سپیشل طریقہ کاراختیار کیا جاتا ہے کیوں کہ ہماری کرکٹ کا نظام ابھی ایسا نہیںہے کہ جہاں سے کرکٹرز یہ سیکھ کر آئیں کہ انہوں نے لوگوں کو کس طرح ڈیل کرنا ہے اور پھر تھوڑی اچھی کرکٹ کھیلنے کے بعد آنے ملنے والی اچھی خاصی رقم کو کس طرح خرچ کرنا ہے،یہی نہیں کم تعلیم یافتہ ہونا اور پھر تیزی سے دولت کمانے کی ہوس ان کھلاڑیوں کو مشکوک افراد کے قریب لانے کا سبب بنتی ہے ۔عمر اکمل اور ان جیسے کرکٹرز کیسے بکیز کے ہاتھ چڑھتے ہیں کس سطح سے فکسنگ شروع ہوتی ہے اور کون لوگ ان کھلاڑیوں کو فکسنگ میں الجھاتے ہیں ا س سب کی تفصیلات آئندہ آنے والے دنوں میں آپ تک پہنچائیں گے ۔
(جاری ہے)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button