کالم/بلاگ

گیند عدلیہ کی کورٹ میں

نوید چودھری

رفتہ رفتہ تمام اندرونی محاذوں پر مخالفین کو پچھاڑنے کے بعد اب18ویں آئینی ترمیم کو بھی علانیہ ٹارگٹ کر لیا گیا ہے۔اس نظام حکومت میں کسی کو اس بات پر شبہ نہیں کہ سب ایک پیج پر ہیں پھر بھی اداروں کا نام لے کر اگلی منصوبہ بندی کی نشا ندہی کرنا ملکی استحکام و ہم آہنگی کیلئے کسی طور مناسب نہیں۔ویسے ایک راستہ تو یہ بھی ہے کہ 18ویں ترمیم میں مطلوبہ تبدیلی کیلئے نیب وغیرہ کو متحرک کردیا جائے جو کہ ہو بھی چکا ہے۔دوسرا طریقہ وہی ہے جو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے وقت اختیار کیا گیا یعنی دھونس یا لالچ دے کر ارکان پارلیمنٹ کے ضمیر خرید لیے جائیں۔چونکہ آئینی ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہے اس لیے اب تک تو یہی لگتا ہے کہ مطلوبہ تعداد کے حوالے سے مشکل پیش آ رہی ہے۔تیسرا طریقہ کیا ہوگا،وہ خود حکومت نے واضح کردیا ہے۔فرزند راولپنڈی وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے وارننگ دی ہے کہ اگر اپوزیشن سیاسی جماعتوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو پھر سپریم کورٹ حرکت میں آئے گی۔اس بیان کے بعد ایک کارندے صحافی نے لکھا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان اس معاملے پر زیادہ دیر تک خاموش نہیں بیٹھ سکتے،گویا یہ کہا جا رہا ہے کہ آئینی ترمیم میں مطلوبہ تبدیلی کا حکم عدالت عظمیٰ جاری کریگی۔ارکان پارلیمنٹ اپنی پارٹی لائن کے مطابق کوئی فیصلہ نہیں کر سکیں گے۔یہ علیحدہ سے ایک موضوع ہے کہ آیا پارلیمنٹ کے سوا کسی ادارے خواہ وہ سپریم کورٹ ہی کیوں نہ ہو کو آئین میں ترمیم کا اختیار حاصل ہے؟ غیر جمہوری ادوار کی بات اور ہے۔جنرل مشرف کے لیے تو اس وقت کے چیف جسٹس ارشاد حسن خان نے باقاعدہ حکم جاری کرکے آئین میں کسی بھی قسم کی ترمیم اور تنسیخ کے دروازے کھول دئیے تھے۔ موصوف اپنا منہ چھپا کر گوشہ نشین ہونے کی بجائے آج کل ایک اخبار میں کالم لکھ کر قوم کی ’’رہنمائی‘‘ کا گرانقدرفریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔2014ء کے عمرانی وقادری دھرنوں کے بعد سے اب تک جاری کھیل میں عدلیہ کے کردار کے حوالے سے متنازعہ باتیں بار بار سامنے آ رہی ہیں۔دھرنوں کے عین عروج میں جاوید ہاشمی نے عوام کو بتایا کہ عمران خان کہہ رہے ہیں کہ ا نہیں دھرنا دینے کا کہنے والوں نے یہ یقین دہانی کرا رکھی ہے کہ نواز حکومت کو عدلیہ رخصت کرے گی۔یہ بھی بتایا گیا کہ اس وقت کے چیف جسٹس تصدق جیلانی جن کی ریٹائر منٹ قریب تھی کے جانے کے بعد جو اگلے جج آئیں گے یہ تاریخی کا رنامہ انکے حصے میں آئیگا۔اگلے چیف جسٹس ناصر الملک آئے مگر حکومت رخصت نہ ہو سکی۔کیا دلچسپ اتفاق ہے کہ حکومت گئی اور عدالت کے ذریعے ہی گئی۔مگر یہ سب کچھ چند سال کے بعد ممکن ہو سکا۔ آج ملک جس حالات سے دوچار ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپانہیں۔معیشت کا کباڑہ ،بد انتظامی،سیاسی خلفشار،میڈ یا پر بد ترین دور ،عدلیہ کے حوالے سے متنازعہ چیزیں اور اس کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر درپیش چیلنجز اپنی جگہ موجود ہیں،ایسے میں ہونا تو یہ چاہیے کہ پاکستانی عدلیہ آگے بڑھ کر مضبوطی کے ساتھ فیصلے کرے۔ملک میں جاری افراتفری ختم کرنے کیلئے اپنابھر پور کردار ادا کرے۔یہ تاثر دور بلکہ ختم کیا جائے کہ عدلیہ ہر دور میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل جاتی ہے۔کوئی مانے یا نہ مانے یہ حقیقت ہے کہ اگر عدلیہ ڈٹ جائے تو پاکستان کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں لاناممکن ہے۔یہ تو طے ہو چکا کہ سیاستدان کمزور اور مصلحت کے مارے ہیں۔ ملک میں نظام کی تبدیلی تو کیا وہ خود کوانتقامی ہتھکنڈوں سے بچانے کیلئے بھی کچھ نہیں کر سکتے۔میڈیا جس حد تک زور لگا سکتا تھا لگا چکا،اب اسے بھی کنارے لگایا جا رہا ہے۔ایسے میں عدلیہ کے دونوں پہیے بنچ اور بار انصاف فراہم کرانے کیلئے اپنا بھرپور کردار اداکرنے پر آمادہ ہو جائیں تو تیزی سے بڑھتے ہوئے بحران کے آگے بندباندھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ ہماری تاریخ اس حوالے سے تاریک ہے۔جسٹس منیر نے جو کچھ کیا وہ سیاہ باب ہے۔وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو فوجی آمر جنرل ضیاء کے حکم پر پھانسی کی سزا دینے کے کئی سال بعد چیف جسٹس نسیم حسن شاہ اعتراف کرتے رہے کہ سپریم کورٹ پر دبائوتھا۔انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ا کثر جج حضرات انصاف فراہم کرنے کی بجائے اپنی نوکریاں بچانے کو ترجیح دیتے ہیں۔آصف زرداری ،نواز شریف وغیرہ کے کیس ہوں تو عدلیہ کی پھرتیاں دیکھنے والی ہوتی ہیں۔اگر کرپٹ فوجی آمر کا کیس اس کی فراغت کے بعد بھی آ جائے تو چراغوں میں روشنی نہیںرہتی۔جنرل مشرف غداری کیس میں جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔اب تازہ ترین معاملہ ہی دیکھ لیں۔مشرف کو قصہ پارینہ ہو کر فرار ہوئے مدت گزر گئی مگر ہیبت کا یہ عالم ہے کہ باورچی سمیت اپنے سول خد مت گاروں کو 800ایکڑ قیمتی سرکاری اراضی انعام کے طور پر دی،شہباز شریف نے وزیر ا علیٰ بن کر یہ الاٹمنٹ کینسل کردی۔بزدار سرکار آئی تو جنرل مشرف کا حکم پھر سے بحال کردیا۔مجال ہے جو کسی نے نوٹس لینے کا تردد کیا ہو۔ثاقب نثار کے دور میں عدالتوں کے نام پر تماشا ہوتا رہا۔باہر بیٹھے افسر پہلے ہی بتا دیتے تھے کہ کون نا اہل ہوگا ،کون جیل جانے والا ہے۔کھوسہ چیف جسٹس بنے تو اپوزیشن جماعتوں کایہ عالم تھا کہ عدالت عظمیٰ سے رجوع کر نے سے گریز کیا جانے لگا۔ماضی قریب میں ایسا مشرف دور میں ہواتھا جب اس وقت کے صدر سپریم کورٹ بار حامد خان ایڈووکیٹ نے اعلان کیا تھا کہ کسی آئینی درخواست کیلئے عدالت سے رجوع نہیںکریں گے۔کیونکہ خدشہ ہے کہ جج صاحبان الٹا اپنی مہر لگا کر غیر قانونی کو بھی قانونی بنا دیںگے۔مگر۔احتساب کا کھیل اس بھونڈے طریقے سے کھیلا جارہا تھا کہ کھوسہ جیسے جج کو بھی کہنا پڑا یکطرفہ احتساب کا تاثر نظام انصاف اور معاشرے کے لیے تباہ کن ہے ۔ثاقب نثار نے اپنے دور میں ازخود نوٹسوں کے ذریعے خوب نام کمایا۔یہ الگ بات ہے کہ انکی ہر حرکت کے نتیجے میں نقصان صرف اسٹیبلشمنٹ کے ناپسندیدہ عناصر کو ہی پہنچا۔باقی نوٹس ٹی وی اور اخبارات کی چیختی چنگھاڑتی خبریں بن کرٹائیں ٹائیں فش ہوگئے۔اب کئی حیرت انگیز واقعات ہو رہے ہیں مگر کوئی نوٹس لینے والانہیں، ثاقب نثار کے دور میں راولپنڈی سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے والے حنیف عباسی کو آدھی رات کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تو مقصد واضح تھا۔کسی نے عدلیہ سے توقع بھی نہیں رکھی۔سیاسی مقدمات کا تو ذکر ہی کیا ،سانحہ ساہیوا ل ہوا جس میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے شادی پرجانے والے خاندان کو بلا وجہ گولیوں سے چھلنی کردیا۔یہ بہت سنگین جرم تھا۔گاڑی سے زخمی بچوں کو نکالا گیا تو تین چھوٹے بچوں کو قریبی پٹرول پمپ پرچھوڑ کر ان کی بارہ سالہ بہن کو یہ کہہ کر دوبا رہ گاڑی میں ڈالا گیا کہ یہ زندہ رہے گی تو سب کو سچ بتا دے گی،اس کے بعد گاڑی پر ایک بار پھرسے گولیوں کی بوچھاڑ کردی گئی،رانا ثناء اللہ کی گاڑی سے ہیروئن برآمد ہونے کا کلاسیکل واقعہ بھی اس امر کی مثال ہے کہ ملک میں سیاسی حریفوں کے ساتھ کیا سلوک ہو رہاہے۔ویسے کمال نہیں کہ ایک طرف تو450سے زائد افراد کا قاتل،بیرون ملک کرپشن کی بے پناہ دولت رکھنے والا ایس ایس پی رائو انوار اپنے گھر میں نام نہاد قید کاٹنے کے بعد با عزت بری ہو جا تا ہے،دوسری جانب سب سے بڑے میڈیا ہائوس کے مالک کو ایک انتہائی بودے مقدمے میں نیب کے ہاتھوں گرفتارکرا کے جیل میں پھینک دیا جاتاہے۔آٹا ،چینی سکینڈل آتا ہے،کھربوں کے فراڈ کا انکشاف ہوتا ہے پھر معاملہ دبتا چلا جا تاہے،ادویات کا گھپلا پکڑا تو کوئی ٹس سے مس نہ ہوا۔بی آر ٹی میں کرپشن کا معاملہ تو انٹرنیشنل میڈیا میں بھی آپکا مگر سب کی آنکھیں بند ہیں آئی پی پیز کا معاملہ اٹھا تو سب کو سانپ سونگھ گیا۔چلیں کوئی ہمیں ہی بتا دے کہ آخر قابل اعتراض ویڈیو آنے کے بعد یک طرفہ احتساب کے علمبردارچیئر مین اپنے عہدے سے کیوں چمٹے ہوئے ہیں،اس کا نوٹس کسی عالمی ادارے نے لینا ہے کیا؟ نواز شریف کو سزا سنانے والا جج اعتراف جرم اور ویڈیوز کے باوجود آزاد گھوم رہا ہے ،خود حکومت کا یہ حال ہے کہ عدالتی نظام پراعتماد ہی نہیں کرتی ،پنجاب اور کے پی کے میں جعلی پولیس مقابلے اس امر کا ثبوت ہیں کہ موجودہ حکمرانوں کو یہ اعتماد ہی نہیںکہ مجرموں کو عدالتوں کے ذریعے کیفر کردار تک پہنچایا جا سکتا ہے۔یہ تمام صورتحال شدید مایوسی پھیلانے کا سبب بن رہی ہے،یہ توقع تقریباً ختم ہو چکی کہ ملک میں کوئی خوشگوار تبدیلی اور یگانگت اداروں کے ذریعے آئے گی۔سیاسی جماعتوں نے بھی اس حوالے سے کوتاہی برتی ،انہیں وکلاء￿ برادری کے اندر زیادہ سے زیادہ کام کرنا چاہیے تھا تاکہ عدلیہ پر نا دیدہ قوتوں کا دبائو کم ہوتا اور ملک میں انصاف کی فراہمی کو ممکن بنایا جاسکتا۔آج حالات یہ ہیں کہ سپر یم کورٹ کے ایک فاضل جج بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیںکہ ملک میں نظام عدل ختم ہوتا جا رہاہے۔اگر چہ انہوں نے یہ بات ضمانت قبل از گرفتاری کے قانون کے حوالے سے کہی ہے مگر یہ پہلوبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ جس ملک میں سیاسی انتقام والی پالیسی ہو ،امیروں کو غریبوں پر رعب جمانے کا شوق ہو ،طاقت ور عناصر کمزوروں کو کچلنا مشغلہ بنا لیں وہا ںجعلی مقدما ت کا اندراج معمول بن جاتاہے۔توہین عدالت کی تلوار کو ایک طرف رکھ کر اعلیٰ عدلیہ کو ملکی مسائل کے حوالے سے سب سے رائے حاصل کر کے فیصلہ کن اقدامات کرنا ہونگے۔پاکستانی عدلیہ پر اس وقت تاریخ کی سب سے بڑی ذمہ داری آن پڑی ہے،آئین اور قانون کی بالا دستی کو یقینی نہ بنایا گیا تو جو کچھ آگے ہونے جا رہا ہے وہ قلم لکھ نہیں سکتا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button