کالم/بلاگ

احتساب ہو گا کیسے؟

جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں ان کی ترقی کا راز’’ کرپشن فری ملک‘‘ہے ، ہمارا ملک اسلام کے نام پر بنا تھا اور اس ملک کو حاصل کرنے کے لئے ہمارے بڑوں نے قربانیاں دیں تب ہی ایک بڑی جدوجہد کے بعد یہ ملک معرض وجود میں آیا تھا ۔ ہمارے بانی قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا خواب تھا کہ پاکستان ایک فلاحی ریاست بنے جہاں پر انصاف کا بول بالا ہو اور ہر انسان آزادی کی سانس لے سکے ۔ اب ہمیں سوچنا یہ ہے کہ کیا ہم سب پاکستانی قائد اعظم محمد علی جناحؒکے خواب کو کس حد تک پورا کررہے ہیں ؟۔
ہمارے ملک کی تاریخ یہی رہی ہے کہ جمہوری حکومت کم ہی ٹک پائی زیادہ تر فوجی حکومت ہی چلتی رہی ۔ مشرف کے آٹھ سالہ دور کے بعد پہلی جمہوری حکومت جس نے پانچ سال پورے کئے وہ آصف زرداری کی حکومت تھی ، آصف زرداری کے دور میں بھی بہت زیادہ کرپشن کی آوازیں اٹھی اور علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے دھرنا دیا کہ یہ حکومت کرپشن کی حکومت اور نااہل حکومت ہے اس کے بعد میاں محمد نواز شریف کی دوبارہ تیسری بار حکومت بنی جس نے پانچ سال تو پورے کئے لیکن وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف پانچ سال پورے نہ کر سکے ۔ کیونکہ ان کے دور میں بھی کرپشن کی آوازیں اٹھیں اور عدالتوں میں مقدمے چلے اور اس کے بعد وزیر اعظم کو مدت پوری ہونے سے پہلے ہی گھر جانا پڑا ۔ میا ںمحمد نواز شریف نے پوری قوم کے آگے سوال بار بار رکھا کہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ ۔ جبکہ یہ بات عدالتوں سے پوچھنی تھی کہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘۔میاں محمد نواز شریف کے دور میں بہت زیادہ مضبوط اپوزیشن تحریک انصاف کی تھی جس نے 114دن کا مسلسلہ دھرنا دیا ۔ عمران خان کو دھرنے میں کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ہوا تو عدالتوں سے رابطہ کیا اور عدالتوں میں کافی عرصہ کیس چلا ،میاں محمد نوازشریف اپنی صفائی میں کوئی خاطر خواہ ثبوت پیش نہ کرسکے اور عدالتوں نے ان کو نااہل کر کے گھر واپس بھیج دیا ۔ شاہد خان عباسی کو موقع ملا بطور وزیر اعظم باقی مدت پوری کی ۔
قارئین! آج کی حکومت جو کہ تحریک انصاف کی ہے وزیراعظم عمران خان ہیں انہوں نے اپنے دھرنے میں عوام سے بارہا کہا کہ اگر میری حکومت آئی تو انصاف کی حکومت ہو گی ۔ ملک کو سب سے پہلے کرپشن سے پاک کیا جائے گا کیونکہ ملک تب ہی آگے چل سکتا ہے جب ملک میں کرپشن نہیں ہو گی تو عوام خوشحال ہو گی ۔ نوجوانوں کو نوکریاں دی جائیں گی ۔ وغیرہ وغیرہ ۔
تحریک انصاف کی حکومت کو دو سال سے اوپر ہو گئے لیکن کرپشن کو ختم کرنے میں کہیں بھی کامیاب نظر نہیں آرہی بلکہ لگ ایسے رہا ہے عمران خان اپنے وعدے کے مطابق پورا اتر نہیں پا رہے ۔ کرپشن کے نام پر میاں محمد نواز شریف ، میاں محمد شہباز شریف ، مریم نواز، کیپٹن صفدر اور آصف زرداری کو جیلوں میں ڈالا ۔ نتیجہ کیا نکال؟ میاں محمد نواز شریف آج لندن میں بیٹھے آرام کی زندگی گزار رہے ہیں ، میاں شہباز شریف بھی آزاد ہیںپہلے وہ لندن اپنے بھائی نواز شریف کے ساتھ تھے ، مریم نواز وہ بھی آزاد اپنے گھر میں زندگی گزار رہی ہے تو انصاف کا کیاہوا ؟ ۔عمران خان تو کہتے تھے ملک کو تباہ کرنے والے یہی لوگ ہیں میاں نواز شریف فیملی اور آصف زرداری ۔ اگر کسی غریب آدمی نے کوئی چھوٹی موٹی چوری کرتا ہے تو اسے فوری پکڑ کر جیل ڈال دیا جاتا ہے ۔ اپنی ضمانت کیلئے عدالتوں کے چکر لگا تا اور اس کو چوری پر سزا ہوتی ضمانت نہیں ملتی۔
یہ بات تو سچ ہے آج بھی نئے پاکستان میں غریب کے الگ قانون ہے اور امیر کے الگ قانون ۔ ثابت تو یہی ہوتا ہے کہ عمران خان اپنی پالیسی میں فیل ہو تے نظر آ رہے ہیں ، حکومت سے زیادہ طاقتور یہ کرپشن مافیا ہی ہیں ۔ کئی کرپشن کنگ عمران خان کے ساتھ میٹنگز میں بیٹھے ہوتے ہیں تو عمران خان کیسے انصاف کی بات کر سکتے ہیں ، پھر یہ بات کسی حد تک اپوزیشن کی درست ہے کہ وزیر اعظم عمران خان پہلے اپنی کابینہ سے کرپشن کا خاتمہ کریں ۔ تب ہی کرپشن فری ملک بن سکتا ہے ۔ ملک کے اندر ہر محکمے میں کرپشن آج تک ہے جس کا خمیازہ غریب عوام بھگت رہی ہے ۔ انصاف کے نام پر عوام نے عمران خان کو ووٹ دئیے تھے لیکن اس کا رزلٹ کچھ بھی نہیں نکلا ۔عوام کا کہنا پھر جائز ہے سیاست دان صرف سبز باغ دکھاتے ہیں اور جب اقتدار میں آتے ہیں تو اپنے وعدوں اور غریب عوام کی پریشانیوں کو بھول جاتے ہیں ۔
ہاں یہ بات مانی جا سکتی ہے کہ عمران خان کے دور اقتدار میں کرپشن مافیا بے نقاب ضرور ہوا ہے ۔ لیکن ابھی تک یہ کرپشن مافیا آزاد پھر رہا ہے وزیراعظم کافی حد تک مہنگائی کو کم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن کرپشن مافیا عوام کو سستی چیز دینے سے انکاری ہے ۔ وزیر اعظم کابینہ اجلاس میں نوٹس لے لیتے ہیں اور احکامات جاری کرتے ہیں لیکن عملدرآمد بالکل نہیں ہو پا رہا ہے ۔ عوام کو توقع تو وزیر اعظم عمران خان سے ہے کہ شائد یہ کچھ کریں گے ۔ لیکن ابھی تک مایوسی ہی ہوئی ۔ کیونکہ کرپشن مافیا بہت تگڑا ہو چکا ہے ان کو سزا دلوانا شائد بہت مشکل کام ہے ۔ جب تک جزا اور سزا کا قانون نہیں بنتا تب تک کچھ نہیں ہو سکتا ۔ اب اس بات سے اندازہ لگا لیں ۔ آٹا اور چینی پر کمیشن بنا اور رپورٹس آئیں جن کو پبلک بھی کیا گیا اورگناہ گارہوں کا تعین بھی کیا گیا لیکن سزا ابھی تک کسی کو نہیں ملی ۔ بس امید ہی کر سکتے ہیں کہ شائد کوئی کرشمہ ہو جائے اور جزا سزا کا قانون بن جائے جو کرپٹ ہے ان کو جیلوں میں ڈال کر عبرت ناک سزائیں ملیں تا کہ کوئی بھی دوبارہ کرپشن کا سوچ بھی نہ سکے تب ہی یہ ملک کرپشن فری ملک بنے گا ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button