کالم/بلاگ

ادھورے لاک ڈاؤن , ادھوری احتیاط

محمد عزیر علی شاہ

عمران خان کرونا لاک ڈاؤن اور سختی کے حوالے سے ہمیشہ انڈیا سے موازنہ کرتے ہیں حالانکہ نیوزی لینڈ, چائنہ اور سعودی عرب کی مثالیں بھی موجود ہیں
جبکہ تقریروں میں جمہوریت اور نظام کا موازنہ ہمیشہ برطانیہ اور یورپ سے کرتے ہیں. آج تو خان صاحب نے قوم کو بالکل واضح پیغام دے دیا کہ حکومت کرونا پھیلنے سے نہیں روک سکتی اور انہیں پہلے ہی معلوم تھا کہ لاک ڈاؤن کھولنے کے بعد کرونا پھیلے گا اور حکومت کی ساری حکمت عملی اور ایس او پیز صرف اور صرف کرونا کے پھیلاؤ کی رفتار آہستہ کرنے کے لیے ہے تاکہ بقول ان کے ہسپتالوں پر بوجھ نہ پڑے. یعنی حکومت کی حکمت عملی کے مطابق کرونا ہر پاکستانی کو ہو کر رہے گا بس سارے اکٹھے ہسپتال نہ آؤ باری باری آنا.
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ صورت حال میں ہسپتالوں میں صرف کرونا مریض ہی رہ گۓ ہیں باقی تمام بوجھ ختم ہو چکا ہے لوگ ڈر کے مارے دیگر بیماریوں کو لے کر ہسپتال ہی نہیں جا رہے کہ ہسپتال والے کرونا وارڈ میں نہ ڈال دیں.
حال ہی میں حکومت نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ صرف لاہور میں ہی کرونا کے 30 لاکھ مریض ہونے کا اندیشہ ہے اگر اسے تسلیم کر لیں تو پورے پاکستان میں ایک کروڑ کرونا مریض ہونا تو معمولی بات ہے اب ایک کروڑ مریض اور 4 ماہ میں کل اموات 1838 ہیں جس میں سے ذیادہ تر کا کہنا ہے کہ ہمارے مریض کو کرونا نہیں کوئی اور مرض تھا. بحرحال ہم انہیں کرونا سے اموات ہی تسلیم کرتے ہیں پھر بھی ایک کروڑ مریض اور 1838 اموات ہوں تو شرح اموات اعشاریہ 2 فیصد بھی نہیں بنتی.
یہاں ذکر کریں گے حکومتی اندازوں , بیانات اور تخمینے کا کہ وزیراعظم سمیت حکومت کی جانب سے کیسے بیان سننے کو ملتے رہے. یاسمین راشد نے کہا کہ 98 فیصد مریض پیناڈول سے ٹھیک ہو جائیں گے. 190 مریض مرنے تھے صرف 90 مرے ہیں عمران خان , انشااللہ اگلے ہفتے 15000 مریض ہوں گے عمران خان , پاکستانیوں کا امیونٹی سسٹم بہت سٹرونگ ہے عمران خان, کرونا مریضوں کی تعداد و اموات ہمارے تخمینے سے بہت کم ہیں شبلی فراز, ہم نے جتنی اموات کا سوچا تھا اتنی نہیں ہوئی عمران خان
مطلب کرونا پاکستانیوں کے لیے اتنا خطرناک ثابت نہیں ہوا یہ میں نہیں حکومت کہتی رہی ہے جبکہ اعداد و شمار بھی یہی کہتے ہیں. دوسری جانب ذاتی مشاہدہ بتاتا چلوں کہ میرے دوست کے والد جن کی عمر 75 سال ہے انہیں کینسر بھی ہے ان کا شوکت خانم سے کرونا ٹیسٹ کروایا پازیٹو آیا لیکن وہ بغیر کسی مسئلے کے کرونا پازیٹو سے کرونا نیگٹو ہوۓ. اس کے علاوہ 50 , 60 اور ستر سال کے بابے کرونا پازیٹو سے کرونا نیگیٹو ہوۓ ان سب میں ایک بات مشترک تھی کہ وہ اپنے گھر میں ہی قرنطینہ ہوۓ لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہسپتالوں میں جوان بھی مر رہے ہیں اس کی وجہ مجھے سمجھ نہیں آئی . بلکہ سروسز ہسپتال لاہور کے ڈاکٹرز سے بھی یہ معاملہ پوچھا تو جواب نہ مل سکا . بحرحال ڈاکٹرز کی اموات کی ایک وجہ جو مجھے سمجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ جو خلائی لباس پہن کر لمبی ڈیوٹی کر رہے ہیں ان کو آکسیجن نہیں مل رہی . جس ماسک اور لباس کو پہن کر ان کے چہرے گل جاتے ہیں تو اس میں ان کے اندرونی حالات کیا ہوں گے؟ کیا ہسپتال میں لوگ کرونا + آکسیجن کی کمی + ڈپریشن کی وجہ سے تو نہیں مر رہے ؟ ریسرچ ہونی چاہیے یا نہیں ؟ آپکے جتنے وزیر گھروں میں قرنطینہ ہوۓ ٹھیک رہے جو ہسپتال داخل ہوۓ اکثر مر گۓ اس کی کیا وجہ ہے ؟
خیال رہے کہ کرونا وائرس اور بیماری سے کوئی انکار نہیں , احتیاط لازم ہے اور اپنی حفاظت ہر شخص نے خود کرنی ہے میں بس یہ اندازہ لگانے کی کوشش میں ہوں کہ کرونا کس جگہ کتنا خطرناک ہے . یہ کیسے ہو رہا ہے کہ 75 سال کینسر کا مریض تو کرونا سے بچ نکلے لیکن ایک صحت مند نوجوان کی موت واقع ہو جاۓ ؟ جسے میری بات پہ شک ہو اسکو تصدیق کروا دوں گا کہ جو لکھ رہا ہوں حقیقت ہے.
دوسرا اہم مسئلہ اور یہ ڈاکٹرز سے سوال بھی ہے کہ کرونا , پولیو اور دیگر بیماریوں کا سبب کیا ہمارا سیورج ملا پانی نہیں ہو سکتا کیونکہ ہمارے اکثر علاقوں میں یہ شکایت ہے کہ پینے کے پانی میں سیوریج کا پانی شامل ہوتا ہے .
باقی رہی حکومت کی بات تو وہ ٹک ٹاک سٹارز سے سائنسی مشورے کر رہے ہیں کہ کرونا کیسے ختم ہو گا .
ایک اور اہم مسئلہ فیس ماسک کا ہے . ڈبلیو ایچ او کے مطابق ہر شخص کا ماسک پہننا لازم نہیں ہے صرف ان کے لیے لازم ہے جن میں کرونا کی کوئی علامات ہوں یا وہ جو کرونا مریضوں کے قریب ہوں یا دیکھ بھال کرتے ہوں . آپ سب کے لیے ماسک لازم بھی کر دیں تو ڈبلیو ایچ او نے ماسک کی کوالٹی اتارنے اور پہننے کا طریقہ اور ڈسکارٹ کرنے کا طریقہ واضح بتایا ہے اور ماسک پہنے ہوۓ ماسک پہ ہاتھ لگانے سے بھی منع کیا ہے , جبکہ فیس ماسک ڈاکٹری سرجیکل ماسک ہو اور ایسا ہو کہ چہرے اور ماسک کے درمیان فاصلہ بالکل نہ ہو . ہمارے ہاں جس قسم کے ماسک دستیاب ہے کیا وہ ڈبلیو ایچ او کے سٹینڈرڈ پہ پورا اترتے ہیں ؟ کیا مارکیٹ میں بکنے والا ہر ماسک کرونا روکنے کے لیے کارگر ہے ؟ آجکل جگہ جگہ ماسک تیار کرنے کی مشینیں لگی ہوئی ہے وہ کس ماحول میں کیسے ہاتھوں سے کس معیار کے ماسک تیار کر رہے ہیں یہ کون چیک کرے گا ؟ آپ لوگوں کو ماسک تو پہنا دو گے لیکن کیا پورے قوائدو ضوابط کے ساتھ ماسک کا استعمال سمجھا سکو گے ؟ اگر کسی کو شک ہے تو جاۓ ڈبلیو ایچ او کی ویب سائیٹ پہ ماسک کی معلومات لے لے.حکومت ماسک پہنانے کے لیے سزائیں اور جرمانے کر رہی ہے ماسک چاہے جیسا بھی ہو اس سے کرونا رکے نہ رکے بس منہ پر ماسک ہونا چاہیے.جبکہ اکثر مقامات پر خود حکومتی وزیر و مشیر بشمول عثمان بزدار بغیر ماسک کے دکھائی دیتے ہیں. یہ ادھورے لاک ڈاؤن , ادھورا علم, ادھوری کیمپین ادھوری احتیاط کرونا کو روک نہیں سکتی البتہ عوام کی پریشانیوں میں دن بدن اضافہ ضرور ہو رہا ہے .
ہیلمٹ اور ماسک معیاری اور کارگر ہو نہ ہو بس پہنا ہوا دکھائی دینا چاہیے باقی سب خیر ہے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button