کالم/بلاگ

اسلام آباد مندر

محمد عزیر علی

یہ دَور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں، لَا اِلٰہَ اِلّاَ اللہ
اسلام اپنی ریاست میں دیگر مذاہب ماسواۓ کذابوں کے سب کو آزادی کے ساتھ اپنی مذہبی عبادات و رسومات ادا کرنے کی اجازت دیتا ہے لیکن مسلمانوں کو اسلام کے فروغ کا حکم ہے نہ کہ کافروں کے مذاہب کو فروغ دینے کا ؟
تاریخ بتاتی ہے کہ بت توڑے گۓ مندر ڈھاۓ گۓ اور یہ کام نبیوں کے ہاتھوں ہوۓ لیکن نہ جانے یہ کیسے منافق ہم پہ مسلط ہیں کہ خود مندر بنوا رہے ہیں اور ایسا عرب سمیت پوری دنیا میں خود مسلمانوں کے ہاتھوں ہو رہا ہے.
حسن اخلاق یہ ہے کہ کافر حسن سلوک سے متاثر ہو کر مسلمان ہوں یہ کونسا حسن اخلاق ہے کہ مسلمان کافروں کے مذہب کے فروغ اور تبلیغ میں لگ جائیں. ہندوؤں کو اگر ضرورت ہے تو مندر بنانے کی اجازت دی جا سکتی ہے لیکن بلا ضرورت خود مندر بنوا کر دیے جائیں یہ کونسا اسلام ہے ؟
یہ سیکولرازم یہ بین المذاہب ہم آہنگی اسلام کے خلاف سازش ہے . مسلمانوں کو فرقوں میں بانٹ کر بین المذاہب ہم آہنگی کی بات کرنے والے اصل میں اسلامی تشخص کو مٹانا چاہتے ہیں . عمران خان کا یہ پاکستان ہرگز ریاست مدینہ کی مثل نہیں ہے. اسلامی تاریخ پڑھیں تو معلوم ہو گا کہ اسلامی فوج میں کفار کو شامل نہیں کیا جاتا تھا بلکہ اگر اسلامی ریاست میں کفار ماتحت ہیں تو ان کی حفاظت کے لیے جزیہ لیا جاتا تھا اور اگر حفاظت ممکن نہ ہو تو لیا ہوا جزیہ بھی واپس کر دیا جاتا تھا کہ تم لوگ اپنی حفاظت خود کرو. اس سے بڑھ کر حسن اخلاق کوئی نہیں کہ کافر متاثر ہو کر کلمہ پڑھ لیں اور دوزخ سے بچ سکیں. اللہ رسول ﷺ کے احکامات سے بڑھ کر کسی چیز میں انسانیت اور حکمت نہیں , لیکن یہ ماڈرن ریاست مدینہ کے ٹھیکے دار اور دین سے پھرے ہوۓ لوگ اکثر اللہ کی حکمت کو بھی ظلم ٹھہرا دیتے ہیں. جیسے غیر مسلم کو ذکوات نہیں دی جا سکتی تو اس میں بھی اللہ کی حکمت پوشیدہ ہے. جو دین ہمیں اللہ رسول نے دیا ہمیں ان احکامات کی پیروی کرنی ہے اسی کو سمجھنا ہے لیکن سازشی اور جاہل نئی منطق اور نیا دین گھڑتے ہیں. ان ظالموں کا مسئلہ صرف یہ ہے کہ انہیں صرف دنیا کو راضی کرنے کی فکر کھاۓ جاتی ہے, ہر معاملے پر صرف یہ سوچتے ہیں کہ دنیا کیا کہے گی, رضاۓ الہی مقصود ہو تو معاملات بہت مختلف ہوں. یہ جہاد کو یکسر بھلا بیٹھے ہیں اور اسلامی جنگی تاریخ کو بھی نظر انداز کیے ہوۓ ہیں. اپنے آقاؤں کی منشا کے مطابق انہیں سزاۓ موت بھی ظلم لگنے لگی ہے اور انصاف یہاں طاقتور کی لونڈی کے سوا کچھ نہیں رہا.
صحیح بخاری میں عبداللہ بن مسعود کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کعبے کے بتوں پر (ہاتھ میں پکڑی ہوئی چھڑی سے ) ضرب لگا رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ

جآء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا (اور اعلان کر دو کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا، باطل تو مٹنے ہی والا ہے۔) (81:17)

جآء الحق ومایُبدءُ الباطل ومایُعید (کہو حق آگیا ہے اور اب باطل کے کیے کچھ نہیں ہو سکتا۔) (49:34)[8]

اور ہر ایک بت اوندھے منہ گر جاتا تھا۔[9]

ابو یعلیٰ میں ہے کہ ہم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مکہ میں آئے، بیت اللہ کے گرد 360 بت تھے جن کی پوجا کی جاتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فوراً حکم دیا کہ ان سب کو اوندھے منہ گرا دو اور پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔[10]

اللہ ہمیں پھر سے کوئی سلطان محمود غزنوی عطا کر اور ان منافق حکمرانوں کو ہدایت دے اور اگر ہدایت ان کے نصیب میں نہیں تو انہیں نشان عبرت بنا دے. آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button