کالم/بلاگ

اس حکومت کے بعد

ہر شعبے میں مسلسل بڑھتے ہوئے مسائل اور تیزی سے گھٹتے ہوئے وسائل کے باعت ہا ہا کار میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔اب تو خود اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوگ بھی کھلے عام کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ آگے بھی اندھیرا ہے۔ مقامی و عالمی ماہرین اور اداروں کی رپورٹس سے واضح ہے کہ زوال کایہ سفر مستقبل قریب میں رکنے والا نہیں۔پاکستان میں کیا جانے والا’’ ایک پیج ‘‘کا تجربہ صرف نا کام نہیں ہوابلکہ بری طرح سے پٹ چکا ہے۔اس تجربے کی منصوبہ بندی کرنے والوں سے لے کر اس میں استعمال ہونے والے تمام کرداروں نے ملک کو جو نقصان پہنچایا ہے اس کا حساب تو شاید نہ ہو سکے مگر اس کی انتہائی بھاری قیمت پہلے سے جبر کے حالات کی چکی میں پسے مظلو م عوام کو چکانا ہو گی۔نظام حکومت کے حوالے سے مختلف طریقے آزمانے والوں نے اس ملک کو تجریہ گاہ بنادیا ہے۔ہر تجربے کی ناکامی پر مختلف شخصیات کو مورد الزام ٹھہرا کر نئے بت تراشے جاتے ہیں اور قوم کو پھر سے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے۔یہی سب سے بڑا مغالطہ ہے۔پاکستان قائم ہوئے73سال ہونے کو ہیں ۔دیکھنا ہوگا کہ اس تمام عرصے میں حقیقی اقتدار کس کے پاس رہا ۔پاس، فیل کا فیصلہ اس نکتہ کو سامنے رکھے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔اصل حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میںافراد یا شخصیات نہیں ادارے فیل ہو چکے ہیں۔ان کی تیار کردہ پالیسیاں اور منصوبے جو نتائج دے رہے ہیں ا س کا ایک بہت بڑا نمونہ موجود ہ پی ٹی آئی حکومت کی نا کامی کی صورت میں پوری دنیا کے سامنے آ رہا ہے۔یہ کہنے میں کوئی ہر ج نہیں کہ اگر اداروں کے حوالے سے پر فارمنس آڈٹ کرایا جائے اور خود ان کے اصل کا موں کے حوالے سے ان کی کارکردگی کاجائزہ لیا جائے توملکی تاریخ میں بننے والی مختلف حکومتوں کی کار کردگی اس سے بہتر ہو گی ۔ حتیٰ کہ انتہائی برے طریقے سے ساکھ کھوتی ہوئی موجودہ عمران حکومت کو بھی شاید زیادہ نمبر مل جائیں۔کسی کو اچھا لگے یا برا،حالات اب اس نہج پر آ چکے ہیں کہ جہاں اداروں کے اندر اصلاحات سے کوئی فائدہ نہیںہوگا۔ملک کو آگے چلانا ہے تو اداروں کی تنظیم نو کرنا پڑیگی۔یہ بھی اٹل حقیقت ہے کہ اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ خود اداروں نے ہی کرنا ہے کیونکہ پاکستان میں عوام کی کوئی وقعت نہیں۔عام آدمی اپنے مسائل کا حل چاہتا ہے ۔روز گار خوراک،صاف پانی،تعلیم ،انصاف ،علاج ،رہائش سڑکیں،پل اور تفریحی مواقع، سب کی خواہش ہی نہیں بنیادی ضرورت ہیں۔اسی مقصد کیلئے جب کبھی انہیں موقع ملتا ہے تو ووٹ کی پرچی سے اپنے نمائندے منتخب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔کبھی منتخب نمائندے ڈاج کرا جاتے ہیں اور کبھی کوئی ان نمائندوں کو گھما کر رکھ دیتا ہے۔یہ بھی سچ ہے کہ عوام میں اپنے حقوق کے حصول کیلئے شعور پیدا کرنے کیلئے سیاسی جماعتوں نے بطور ادارہ بہت کم کام کیا ۔بڑے بڑے سیاسی رہنما شارٹ کٹ دھونڈنے کے چکر میں نہ صرف خود رسوا ہو گئے بلکہ اپنے حامیوں کے لیے بھی شرمندگی کا سبب بنے۔یہ کھیل ایک عرصے سے جاری ہے اب وفاقی وزیر فواد چودھری کے اس انکشاف کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے اپنے قریبی ساتھیوں اور وزراء کو آگاہ کردیا ہے کہ اس حکومت کے پاس کارکردگی دکھانے کیلئے تقریباً ساڑھے پانچ ماہ ہیں۔یہ حکومت اس دوران بھی ڈلیور نہ کرسکی تو پھر معاملہ دوسر ی طرف چلا جائے گا۔(یعنی حکومت تبدیل ہو جائے گی)۔ یہ سب کیسے ہوگا۔ابھی اس کا خاکہ واضح نہیں لیکن ہمارے ہاں حکومتوں کی آنیاںجانیاں کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ اگر نیا سیٹ اپ بھی انوکھا یا نئی نوعیت کا بن جائے تو کسی کو حیرانی نہیں ہوگی۔اس وقت شاید اصل مسئلہ یہ نہیں کہ اس حکومت کو جانا ہے،بڑامسئلہ تو یہ ہے کہ انکی جگہ جو آئیں گے وہ قوم کو کیا دے پائیں گے۔زیرک سیاستدان اور پی ٹی آئی حکومت کے اتحادی چودھری شجاعت حسین نے کئی مہینے پہلے کہہ دیا تھا کہ وہ وقت جلد آنے والا ہے جب کوئی وزیر ا عظم بننے پر تیار نہیںہوگا۔قومی اسمبلی کے جاری اجلاس میں مسلم لیگ ن کے خواجہ سعد رفیق نے بھی اب یہ بات کھل کر کہہ دی ہے کہ ہمیں یا پیپلز پارٹی کو آپ کے خلاف کسی مہم جوئی کی ضرورت نہیں۔ہمارا دماغ خراب نہیں کہ حکومت لے کر دن رات محنت کریں پھر ہمیںچلتا کیا جائے جیلوں میں ڈال دیا جائے اور ہماری جگہ آنے والے سارے کیے کرائے پر پانی پھیر دیں۔یہ تو وثوق سے نہیں کہا جا سکتا ہے کہ تبدیلی کا نعرہ لگا کر آنے والی اس حکومت کی تبدیلی کب ہوگی،مگریہ محسوس ہورہا ہے کہ اب اس کی ہوا اکھڑ چکی ہے۔جمعرات کو قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کی تقریر کا انداز اور باڈی لینگوئج اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ اب وہ پہلے والا ماحول نہیں رہا۔حیرت انگیز طور پر پچھلے کچھ عرصے سے ایک پیج کی بات بھی نہیں کی جا رہی ۔یوں تو ملکی سیاست میں ا داروں کی مداخلت ایک عرصے سے جاری ہے مگر کپتان کی خاطر تو گویا سب کچھ دائو پر لگا دیا گیا۔منصوبہ سازوں کو یقین تھا کہ ایک تو یہ اتنا احسان مند رہے گا کہ آنکھ تک اٹھا کر نہیں دیکھے گا۔دوسر ا یہ کہ اس کے اور اس کی ٹیم کے آ جانے کے بعد کا روبار مملکت تو آسانی سے چلے گا ہی ،مالی معاملات بھی بہترہو جائیں گے۔ایماندار قیادت کا ڈھکوسلہ کھڑا کر کے بڑی پارٹیوں سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو آئوٹ کردیا جائے گا۔لیکن یہ آرزو پوری نہ ہو سکی۔اس حکومت کی کارکردگی روز اول سے ہی ناقص تھی جس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید ابتری آتی گئی۔صر ف غریب نہیں ،امیر بھی پریشان ہو گئے۔منصوبہ سازوں نے یہی لائن دی کہ جب تک معاملات کنٹرول میں نہیں آتے سب کچھ پچھلی حکومتوں پر ڈالتے جائو،اگر پی ٹی آئی حکومت کی کوئی اپنی پالیسی اپنی سوچ یا ویژن ہوتا تو ممکن تھا کہ کچھ عرصے تک یہ دائو چل جاتا مگر گفتار کے غازیوں کاکھیل ٹائیں ٹائیں فش ہو کر ہی رہا ۔اس دوران ادارے حکومت کی سپورٹ میں اتنا آگے نکل گئے کہ خود عوامی تنقید کی زد میں آ گئے۔آج ملک کا کوئی حصہ ایسا نہیں جہاں اس حکومت کے ساتھ اس کو لانے والوں کو بھی کو سا نہ جا رہا ہو۔اداروں کا وقار ان کے اپنے کام کیساتھ منسلک ہوتا ہے جب وہ غیر متعلقہ کا موں پر پڑ جائیں تو پھر وہی ہوتا ہے جو مشرف دور میں ہوا تھا۔ عمران خان حکومت کو لانے اور چلانے کیلئے اسٹیبلشمنٹ نے سر توڑ کوشش کی۔ اعلیٰ عدلیہ کے ثاقب نثار اور کھوسہ جیسے ’’میزائل‘‘ بھی اپوزیشن پر پھینکے۔میڈیا کو نشانہ بنانے کے بعد مطیع کیا گیا۔ان تمام چالوں سے بازی جیتنا تو خیر کیا تھی،الٹی پڑنے لگی۔یقیناً ا س حکومت کا ساتھ دینے والوں کیلئے اب یہ ایک بوجھ ہے۔نہیں کہہ سکتے کہ یہ کو ئی منصوبہ تھا یا محض نادانی۔عمران خان نے وزیر اعظم بننے کے بعد دنیا بھر میں ملک کو بدنام کیا۔جہاں کہیں بھی گئے بتاتے رہے کہ ہمارے ملک میں کرپشن بہت زیادہ ہے۔خود پی ٹی آئی حکومت کا اپنا حال یہ ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق کرپشن پچھلے ادوار سے تین گنا زیاد ہ بڑھ چکی ہے ۔مافیا دندناتے پھرر ہے ہیں ،کبھی پٹرول غائب ہے تو کبھی آٹا ،چینی مہنگے،بڑے بڑے سرکاری ٹھیکوں اور نجکاری کے معاملات پر بدعنوانی کے گہرے سائے ہیں۔ایسے میں ہر جگہ لوٹ مار آخر کیوں نہ ہو۔ ایک عربی کہاوت ہے کہ عوام اپنے حکمرانوں کے دین پر چلتے ہیں۔شیخ سعدی نے فرمایا کہ اگربادشاہ کسی سے ایک انڈہ بھی زبردستی لے لے تو لشکری ہزاروں مرغ ہڑپ کرجاتے ہیں۔دوہر ی نیشنلٹی کے مشکوک افراد حکومت میں نہ صرف شامل ہیںبلکہ ان کا اثرور سوخ منتخب وزراء سے کہیں زیادہ ہے۔صرف کورونا کے پھیلائو کے حوالے سے ہی تحقیقات کرلی جائیں تو کھرا اس مجرم تک جا پہنچے گا۔جس نے وباکے دوران تفتان بارڈر کھولنے کا حکم دیا۔ہرکام،ہر پالیسی میں گھپلے ہیں۔بجٹ میں جعلی اعداد وشمار دیئے گئے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اسکے بعد کم از کم 4منی بجٹ اور آئیں گے۔پی ٹی آئی حکومت نے ایک طرف تو کاروبای اور تجارتی مواقع محدود کر دئیے ہیں اور دوسری جانب اتنی تیزی سے ریکارڈ مقدار میںغیر ملکی قرضے لے رہی کہ آئندہ آنے والی کسی اور حکومت کے لیے کام چلانا تو دور کی بات وقت گزارنا بھی امتحان ہوگا۔عدم شفافیت کایہ عالم ہے کہ کورونا کے سلسلے میں چین سے آنے والی بھاری امداد اور سامان کا کسی کو پتہ نہیں۔زمین نگل گئی یاآسمان نے اٹھا لیا۔ہسپتالوں میں مریض دھڑادھڑ مر رہے ہیں ۔کوئی ریکارڈ ہے نہ اعدادو شمار،میڈیکل اور پیرا میڈیکل سٹاف ضروری سامان نہ ہونے کے باعث خودبراہ راست خطرے کی زد میں ہے۔ہرشعبے میں تباہی مچانے کے بعد کرپشن کے واقعات اس تسلسل سے سامنے آ رہے ہیںکہ سپریم کورٹ باربارریمارکس دینے پر مجبور ہو گئی۔ادھر عدالت عظمیٰ کا اپنا یہ حال ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس ختم کرکے معاملہ ایف بی آر کو بھجوائے جانے کے فیصلے پر طرح طرح کے تبصرے ہو رہے ہیں۔اسٹیبلشمنٹ تو پہلے ہی سے عوام کی معمول کی گفتگو کا موضوع بن چکی ہے۔اگریہ کوئی ایجنڈا تھاتو پورا ہو چکا ،اکانومی برباد،مقبوضہ کشمیر ہاتھ سے گیا۔سیاسی محاذآرائی عروج پر ،اداروں پرتنقید،بھلا کوئی دشمن اور کیا چاہے گا۔ایسے میں ان ٹائوٹوں کو بھی شرم آنی چاہیے جو ہر حق بات کرنے والے کو گلا پھاڑ کر غدار غدار قراردینے کی ڈیوٹی پر لگے ہو ئے ہیں۔اس تمام بحران کا کوئی آسان حل نہیں اور سب یہ بھی جان لیں کہ یہ ساری بربادی کورونا وبا سے بہت پہلے ہی ہو چکی تھی۔’’پنڈی بوائے‘‘شیخ رشید ایک ٹی وی انٹرویو میں تسلیم کرچکے ہیں کہ کورونا نے ہمیں فیس سیونگ دیدی ورنہ ہم تو پہلے ہی ملک کو دیوالیہ کر چکے تھے۔فیس سیونگ کی بات خوش فہمی یا خواہش تو ہو سکتی ہے۔حقیقت نہیں ،کیونکہ اگلے کئی سال عوام پر بھاری ہیں،کیا سارابوجھ عام لوگوں نے ہی اٹھانا ہے؟اس پرانے سوال کا جواب آنے میں شاید اب زیادہ دیر نہیں۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button