اہم خبریںاہم خبریںشوبزشوبز

باوقار، با کردار، حسن کا پیکر، اداکاری کی معراج ۔۔۔ صبیحہ خانم

(16 اکتوبر 1935ء، گجرات – 13 جون 2020ء، ورجینیا، امریکہ)

لاہور(ویوز نیوز رپورٹ)لالی ووڈ کی سینئر اداکارہ صبیحہ خانم 85برس کی عمر میں امریکہ کی ریاست ورجینیا میں انتقال کرگئیں وہ طویل عرصہ سے گردوں کے عارضہ میں مبتلا تھیں۔صبیحہ خانم پرائڈ آف پرفارمنس حاصل کرنے والی فلمی صنعت کی پہلی خاتون تھیں ان کو یہ اعزاز 1986ء میں عطا کیا گیا تھا۔ صبیحہ خانم نے اپنے دور کے مشہور اداکار سنتوش کمار سے شادی کی تھی۔یاد رہے کہ سنتوش کمار کے چھوٹے بھائیوں درپن کانامور اداکاروں اور ایس سلیمان کا شمار لالی ووڈ کے معروف ڈائریکٹرز میں کیا جاتا ہے۔
پاکستان کی نامور فلمی اداکارہ صبیحہ خانم کا اصل نام مختار بیگم تھا وہ 16 اکتوبر1935ء کو گجرات میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے والد کا نام محمد علی ماہیا تھا جن کا تعلق دہلی سے تھا۔ والدہ اقبال بیگم (بالو) امرتسر سے تھیں۔ 1948ء میں سیالکوٹ میں ایک ثقافتی وفد نے ایک سینما کا دورہ کیا۔ اس وفد میں (مختار بیگم)صبیحہ خانم بھی شامل تھیں۔ انہوں نے وہاں ایک پنجابی گیت گایا ”کتھے گیا پردیسیا وے“ یہ فلم ”سسی پنوں“کا گیت تھا۔ ان کی اس کارکردگی کو خاصی پذیرائی ملی۔

 


جلد ہی محمد علی ماہیا نے اپنی بیٹی کا تعارف اس وقت کے معروف سٹیج ڈرامہ رائٹر اور شاعر نفیس خلیلی سے کرایا. جنھوں نے انہیں ایک ڈرامے ”بت شکن“ میں ایک کردار کی پیشکش کی۔ یہ نفیس خلیلی ہی تھے جنہوں نے مختار بیگم کا نام صبیحہ خانم رکھا۔نفیس خلیلی کی درخواست پر مسعود پرویز نے انہیں اپنی فلم ”بیلی“ میں کاسٹ کرلیااور یوں ”بیلی“ صبیحہ خانم کی پہلی فلم ثابت ہوئی، جو 1948ء میں ریلیز ہوئی۔ ”بیلی“ مسعود پرویز کی بطور ہدایتکار پہلی فلم تھی‘ اس کی کاسٹ میں سنتوش کمار، صبیحہ خانم اور شاہینہ شامل تھیں۔
اس کے بعد صبیحہ نے انور کمال پاشا کی سلور جوبلی فلم”دو آنسو“ میں نوری کا کردار ادا کیا۔ پھر اگلی فلم ”آغوش“ میں بھی انہوں نے لاجواب اداکاری کا مظاہرہ کیا۔اس فلم کی ہدایات مرتضیٰ جیلانی نے دیں اور فلم کی کاسٹ میں صبیحہ، سنتوش اور گلشن آراء شامل تھے۔1953ء میں انور کمال پاشا کی فلم”غلام“ میں بھی ان کی اداکاری نے سب کو چونکا کے رکھ دیا۔ اس کے بعد جس فلم میں صبیحہ خانم کی اداکاری کا نوٹس لیا گیا اس کا نام گمنام تھا۔ اس فلم کی ہدایات بھی انور کمال پاشا نے دی تھیں اوراس کی کاسٹ میں سیما، سدھیر اور صبیحہ خانم شامل تھے۔ ”دلا بھٹی“ میں بھی ان کا کردار ناقابل فراموش تھا بلکہ اس کردار کو ان کا امر کردار کہا جاتا ہے۔صبیحہ خانم کو اپنے زمانے کے تمام مشہور اداکاراؤں کے مقابل کاسٹ کیا گیا لیکن سنتوش کمار کے ساتھ ان کی فلموں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
صبیحہ خانم نے متعدد فلموں میں کیریکٹر ایکٹرس کی حیثیت سے بھی انمٹ نقوش ثبت کیے جن میں کنیز، دیور بھابی، پاک دامن، انجمن، محبت، تہذیب، اک گناہ اور سہی سر فہرست ہیں۔

صبیحہ خانم پاکستان کی جانی مانی اداکارہ تھیں انہوںنے اداکاری بت شکن ڈرامے سے شروع پھر پہلی بار ہدایت کار مسعود پرویز کی فلم بیلی(1950) میں اداکاری کرتے ہوئے فلمی میدان میں آئیں۔ ایک اندازے کے مطابق انہوں نے تقریباً202فلموں میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا جن میں یہ فلمیں شامل ہیں۔
‘بیلی، ‘دو آنسو، ‘ہماری بستی (1950)، ‘غیرت، ‘پنجرہ (1951)، ‘برکھا، ‘غلام، سیلاب، ‘آغوش (1953)، ‘گمنام، ‘رات کی بات، ‘سسی (1954)، ‘انتقام، ‘محفل، ‘قاتل، ‘شرارے، ‘سوہنی، ‘طوفان (1955)، ‘چھوٹی بیگم، ‘دلا بھٹی، ‘حمیدہ، ‘حاتم، ‘سرفروش (1956)، ‘بھولے خاں، ‘داتا، ‘عشق لیلی، ‘پاسبان، ‘سردار، ‘سات لاکھ، ‘وعدہ، ‘آنکھ کا نشہ، ‘آس پاس (1957)، ‘دربار، ‘دل میں تو، ‘حسرت، ‘مکھڑا، ‘شیخ چلی (1958)، ‘مسکراہٹ، ‘نغمۂ دل، ‘ناجی، ‘تیرے بغیر، ‘آج کل (1959)، ‘ایاز، ‘راہگزر، ‘سلطنت، ‘شام ڈھلے (1960)، ‘موسیقار (1962)، ‘دامن، ‘رشتہ، ‘شکوہ (1963)، ‘دیوانہ، ‘عشرت (1964)، ‘کنیز (1965)، ‘سوال، ‘تصویر (1966)، ‘دیور بھابھی، ‘ستم گر، ‘آگ (1967)، ‘کمانڈر، ‘ناہید، ‘شہنشاہ جہانگیر (1968)، ‘لاڈلا، ‘ماں بیٹا، ‘پاک دامن (1969)، ‘انجمن، ‘مترئی ماں، ‘محبت رنگ لائے گی، ‘سجناں دور دیا (1970)، ‘بندہ بشر، ‘بھین بھرا، ‘گرہستی، ‘جلتے سورج کے نیچے، ‘تہذیب، ‘یار دیس پنجاب دے (1971)، ‘اک رات، ‘محبت، ‘سر دا سائیں، ‘آؤ پیار کریں (1972)، ‘خواب اور زندگی، ‘شرابی (1973)، ‘دیدار، ‘مس ہیپی، ‘پیار دی نشانی، ‘قسمت، ‘رنگی، ‘سیو نی میرا ماہی (1974)، ‘بکھرے موتی، ‘دھن جگرا ماں دا، ‘فرض تے اولاد، ‘اک گناہ اور سہی، ‘ایثار، ‘نیکی بدی، ‘پہچان، ‘روشنی، ‘وطن ایمان، ‘زنجیر (1975)، ‘اولاد، ‘راستے کا پتھر، ‘واردات، ‘زبیدہ (1976)، ‘کالو، ‘میرے حضور، ‘آگ اور زندگی (1977)، ‘ابھی تو میں جوان ہوں، ‘حیدر علی، ‘شیرا، ‘تماش بین (1978)، ‘دو راستے، ‘راجہ کی آئے گی بارات، ‘وعدے کی زنجیر (1979)، ‘بدمعاشی بند، ‘رشتہ (1980)، ‘انوکھا داج، ‘چن سورج، ‘پرواہ نہیں (1981)، ‘سنگدل، ‘ووہٹی جی (1982)، ‘عشق نچاوے گلی گلی، ‘کامیابی (1984)، ‘دیوانے دو، ‘مہک (1985)، ‘محبت ہو تو ایسی (1989) تے سارنگا (1994)۔
انہوں نے زیادہ کام سنتوش کمار کے ساتھ کیا بعد میں دونوں نے شادی کردی۔ پنجاب فلموں میں سیدھر کے ساتھ ان کی فلم ’’دُلا بھٹی (1956) کا منور سلطانہ کا گایا گانا ’’واستہ ای رب دا توںجاویں وے کبوترا‘‘ اور ’’ فلم ‘مکھڑا‘‘ دا ‘دِلا ٹھہر جا یار دا نظارہ لین دے بہت مشہور ہوئے۔ ان کے مشہور اردو گانوں میں تُو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے (گمنام)، ‘نہ چھڑا سکو گے دامن (دامن)، ‘لٹ الجھی سلجھا جا رے بالم (سوال) تے ‘رقص میں ہے سارا جہاں (ایاز) بہت مشہور ہوئے۔انہوں نے ٹی وی ڈراموں میں بھی کام کیا ان کے مشہور ڈرامے ’احساس‘ اور ‘دشتہیں۔
اس کے علاوہ انہیں بہترین اداکارہ کی حیثیت سے کئی ایوارڈ ملے۔ صبیحہ خانم نے جوا ایوارڈ حاصل کئے ان کیقابل ذکر فلموں میں ”سات لاکھ“، ”شکوہ“”دیوربھابی“،”اک گناہ اور سہی“ اور ”سنگدل“ شامل ہیں۔صبیحہ خانم کی نواسی سحرش بھی شوبز سے وابستہ ہے۔

صبیحہ خانم نے اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری بھی کی۔ ان کے گائے ملی نغمے ’جُگ جُگ جئیے میرا پیارا وطن، تے ‘سوہنی دھرتی اللہ رکھے قدم قدم آباد تجھے آج بھی مشہور ہیں۔
صبیحہ خانم نے 6دفعہ نگار ایوارڈ، تاشقند فلم فیسٹیول میں بہترین اداکارہ کا ایورڈ اور 1986 میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی ملا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button