کالم/بلاگ

بڑے لوگوں کی دو نشانیاں، اولوالعزمی اور استقلال

 

اس دنیا میں کچھ لوگ آتے تو جانے کے لیے ہیں، لیکن ان کے آنے کا ایک مقصد ہوتا ہے۔ وہ آتے ہیں، راستہ، مشن، مقصد متعین کرتے ہیں، اس پر کام کرتے ہوئے ساری توانائیاں صرف کر دیتے ہیں۔ ان کے راستے میں جو رکاوٹیں، تکالیف، مصائب و آلام آتے ہیں، وہ ان سے الجھنے کی بجائے اپنے کام، مقصد اور مشن سے توجہ نہیں ہٹاتے اور جب وہ اس دنیا سے کوچ کرتے ہیں اور دنیا ان کے کام کا جائزہ لیتی ہے تو عش عش کر پکارتی ہے کہ یہ کام ایک شخص کا نہیں، ایک پوری جماعت کا ہے اور دنیا والے انہیں بہترین خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں کا نام اور کام طویل عرصہ تک دنیا میں یاد رکھا جاتا ہے۔ ان کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے صدقہ جاریہ ہوتی ہیں۔ ایسے لوگوں کی صفات تو زیادہ ہیں، مگر ہم آج صرف ان کی دو صفات نذر قارئین کررہے ہیں۔ ان میں سے ایک اولوالعزمی اور دوسری استقلال ہے۔
’’عزم‘‘ کے معنی پختہ ارادے اور ’’استقلال‘‘ کے معنی قائم رہنے کے ہیں، یعنی ایسا پختہ ارادہ جس پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہا جائے۔ عزم و استقلال انسان کی دو اہم اخلاقی صفات ہیں۔ ان صفات کا تقاضا ہے کہ پہلے معاملے کی اچھی طرح چھان بین کر لی جائے۔ اس کے ہر پہلو پر مناسب حد تک غور و خوض کر لینے کے بعد اس معاملے سے متعلق کوئی فیصلہ کر لیا جائے اور پھر اس فیصلے پر قائم رہا جائے۔ تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ عزم کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ’’مشاورۃ اہل الرائے و اتبا عہم‘‘ یعنی اہل الرائے اصحاب سے مشورہ اور پھر اس کا اتباع۔ مراد یہ ہے کہ اپنی اپنی رائے مت اختیار کرو بلکہ اہل الرائے افراد سے مشورہ کرکے ان کی متفقہ رائے پر عمل کرو، یہی عزم ہے۔
قرآن حکیم میں فرمایا گیا ہے ’’فاذا عزمت فتوکل علی اللہ‘‘ (آل عمران، آیت ۱۵۹) یعنی جب تم کسی کام کے کرنے کا پختہ ارادہ کر لو تو پھر اللہ پر بھروسہ رکھو۔ ہر کام کی ابتداء سوچ اور غور و فکر سے ہوتی ہے لیکن جب سوچ اور غور و فکر کی منزل گزر جائے اور عمل کی حد شروع ہو جائے تو پھر عمل ہی کرنا چاہیے۔ اسی لیے اس آیت میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب تم سوچ سمجھ کر کوئی فیصلہ کر لو تو اللہ کے بھروسے پر اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے پوری سعی کرو۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر یہ فرض عائد کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں جس کو عالم اسباب کہا گیا ہے، اسباب و ذرائع تلاش کریں۔ اسباب و ذرائع کے استعمال کے طریقے معلوم کریں اور پھر ان اسباب و ذرائع کو عمل میں لائیں لیکن سب کچھ اسباب و ذرائع ہی کو نہ جانیں۔ اصل قوت یا تاثیر اللہ کے قبضہ قدرت مین ہے۔ وہ چاہے گا تو ان اسباب و ذرائع کو ہمارے لیے مفید و موثر بنا دے گا۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ جو کچھ تم سے بن سکے کر گزرو اور پھر اللہ پر توکل یعنی بھروسہ کرو۔ جو شخص ایک نیک مقصد کے حصول کے لیے کمر بستہ ہوتا ہے، اس نیک مقصد کے حصول کے لیے مناسب و جائز اسباب و ذرائع فراہم کرتا ہے اور پھراللہ پر بھروسہ کرتا ہے وہ بالآخر کامیاب و کامران ہوتا ہے، کیونکہ اس نے اللہ کی مدد کو اپنی قوت بازو کے ساتھ شامل کرلیا، اور جس کے ساتھ اللہ کی مدد و نصرت ہو جائے اسے دنیا کی کوئی طاقت نیچا نہیں دکھا سکتی۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’فاذا عزم الامر فلو صدقو اللہ لکان خیرالھم ‘‘ (سورۃ محمد ، آیت ۲۱) پھر جب کسی معاملے میں عزم یعنی پختہ ارادہ ہو، پس اگر وہ سچے رہیں، اللہ سے تو ان کا بھلا ہے۔ یعنی عزم کے ساتھ اللہ کے ساتھ بھی معاملہ درست رکھنا چاہیے۔ جب ہی اللہ کی نصرت و حمایت افراد کے ساتھ ہوتی ہے۔ ہمیں صبر و استقلال کے ساتھ اپنے فیصلے پر قائم رہنا چاہیے۔ قرآن پاک میں فرمایا گیا ہے ’’واصبر علی ما اصابک ان ذلک من عزم الامور‘‘ (سورۃ لقمان، آیت ۱۷) کہ جو مصیبت بھی تم پر آئے اس پر صبر کرو، بے شک یہ صبر و استقامت بڑے امور میں سے ہے، یعنی دنیا میں جو سختیاں پیش آئیں ان کو تحمل اور اولو العزمی سے برداشت کرنا چاہیے۔ مشکلات سے گھبرا کر ہمت ہار دینا، حوصلہ مندوں کا کام نہیں۔ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ان تستقیموا تفلحوا‘‘ اگر تم ثابت قدم رہے تو کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔ ارشاد خداوندی ہے ’’فاصبر کما صبر اولو العزم من الرسل‘‘ (سورۃ احقاف، آیت ۳۵) کہ اسی طرح صبر و استقامت سے کام لو، جس طرح اولو العزم رسولوں نے صبر و استقامت سے کام لیا ہے۔
مسلمانوں کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کی عزم و ہمت سے بھرپور حیات طیبہ سدا روشن رہنے والی ایک ایسی قندیل ہے جس کی روشنی زندگی کے راستے میں ہمیشہ مشعل کا کام دیتی رہے گی اور ہماری تاریخ میں ایسے بہت سے واقعات ہیں کہ عزم و استقلال سے کام لے کر باہمت لوگوں نے حالات کے رخ کو موڑ دیا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایک مثال پر اکتفا کرتا ہوں جب مسلمانوں کی تعداد انتالیس (۳۹)تک پہنچی تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے علی الاعلان تبلیغ کی اجازت چاہی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اول انکار فرمایا۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق کے اصرار پر اجازت عطا فرما دی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ چند احباب کو ساتھ لے کر حرم کعبہ تشریف لے گئے اور تبلیغی خطبہ شروع کیا۔ یہ سب سے پہلا خطبہ ہے جو اسلام میں پڑھا گیا۔ خطبہ شروع ہونا تھا کہ چاروں طرف سے مشرکین مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے اور اتنا مارا کہ تمام چہرہ مبارک خون سے بھر گیا۔ ناک کان سب لہولہان ہو گئے۔ پہچانے نہ جاتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق بے ہوش ہو گئے، اس حملہ میں کسی کو تردد نہ تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق اس وحشیانہ حملے میں زندہ بچ سکیں گے۔ شام کو جب ہوش آیا تو سب سے پہلا جملہ یہ تھا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ سارا دن موت کے منہ میں رہنے کے باوجود جب ہوش آیا تو اس ہی کا پوچھا، جس کے سبب یہ نوبت آئی۔ اسے کہتے ہیں جو راستہ متعین کرلیا، پھر اس پر مال، جان، عزت و آبرو سب قربان ہے۔ وہ قومیں جو مشکل حالات میں عزم و استقلال کا دامن مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہتی ہیں، دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ بالآخر فتح و کامرانی ان ہی کے مقدر کا ستارہ بن کر چمکتی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button