کالم/بلاگ

بھارت کی ہٹ دھرمی

ہمیشہ غرور کا سر نیچا ہی رہا ہے۔ غرور اللہ اور نبی کریمؐ کو پسند نہیں ہے ۔ جو حالات آج بھارت کے پوری دنیا میں ہیں اس کی بنیادی وجہ یہی ہے ۔ ہمیشہ ہٹ دھرمی سے بھارت نے اپنی من مانی کی ! مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے اندر مسلمانوں پر تشدد ہوتا رہا ہے ۔ مودی سرکار سمجھتی ہے کہ شائد دنیا پاگل ہے جس کو بے وقوف بنایا جا سکتا ہے ۔ لیکن آج مودی سرکار کو پتہ چل چکا ہے کہ ایسا ہر گز نہیں ہے ۔ اگر دنیا خاموش ہے اس کو بزدلی یا پاگل پن نہ سمجھا جائے ۔ یہ بات مودی سرکار کو اس وقت پتہ چلی جب چین نے لداغ میں بھارتی فوجیوں کو ناکوں تلے چنے چبوائے اور خوب پٹائی کی ۔
بھارت اپنے غرور میں لداغ میں تعمیرات کرنے میں مصروف تھا کہیں سڑکیں بن رہی تھیں کہیں پل بنائے جا رہے تھے ۔ بھارت سمجھ رہا تھا کہ چین خاموش ہے اس نے کونسا کچھ کر لینا ہے ۔ یہ بات بھارت بھول گیا تھا کہ چین امن پسند ملک ہے لیکن اس کی خاموشی کو کمزوری سمجھنا نہایت ہی بے وقوفی ہے ۔ تو ایسا ہی ہوا ۔ چین نے جب دیکھا کہ بھارت اپنے حدود کو پار کررہا ہے تو چین نے بھارتی فوجیوں کی پکڑ کر خوب درگت بنائی ۔ کچھ کو پکڑ کر قید کر لیا اور کچھ کو جہنم واصل کیا ۔ چین کی فوج کا بھارتی فوج کو جواب تھا کہ تم لوگ بہت برے لوگ ہو غلطی کرنے پر معافی نہیں دیں گے ۔
بھارت کے اندر اپوزیشن نے خوب مودی سرکاری کی کلاس لی اور بھارتی میڈیا نے بھی اپنے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ۔ چین کے رد عمل نے پوری بھارت کو یہ بتا دیا ہے کہ بھارت جو غنڈہ گردی کر رہا تھا اس کو اب موثر جواب آنا شروع ہو گیا ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالثی کاکہا تو بھارت نے پھر ہٹ دھرمی دکھاتے ہوئے کہا ہم اس مسئلے کو خو د ہی حل کر لیں گے ۔ اس پیش کش کو ٹھکرا کر آج بھارت بری طرح پچھتا رہا ہے ۔
دوسری جانب مودی سرکار کی فوج مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر ظلم و ستم بڑھا رہی ہے ۔ آئے دن تلاشی کے دوران نوجوانوں کا قتل کیا جا رہا ہے ۔ آج تو بھارتی فوج نے کشمیر کے اندر ایک معصوم کشمیری بچے کو قتل کر دیا ۔ جس کا نتیجہ بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگ پڑی ہیں ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایوناش کمارمیدان میں آ گے ۔ ایوناش کمار نے انسانی تذلیل کی بدترین مثال دی ہے اور مودی سرکارکو آئینہ دیکھاتے ہوئے کہا کہ ظالم نہ بنو کہ بھارت دنیا میں ایک ظالم ملک کے طور پر جانا جائے ۔ مودی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج پوری دنیا یہ جان چکی ہے کہ بھارت کا کردار ظالمانہ ہے ۔ بھارت کے اندر اقلیتوں کے ساتھ بھی ظالمانہ سلوک کیا جاتا ہے ۔ کبھی کورونا کی آڑ میں مسلمانوں کا قتل کیا جاتا ہے اور انہیں ملک چھوڑ کر جانے کا کہا جاتا ہے ۔ اور کبھی پاکستانی سفارتکاروں کو بھارت کے اندر ڈرایا دھمکایا جاتا ہے ان کی سی آئی ڈی کی جاتی ہے اور ان کو راستے میں روک کر تلاشی لی جاتی ہے۔مودی سرکاری سوچتی ہے کہ پاکستان سفارتکار ڈر کے مارے ملک چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔
چین سے پٹائی ہونے پر بھارت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے پاکستان کے باڈر پر غیر قانونی اقدام کررہا ہے ۔ آئے روز سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رہائشی کالونیوں پر فائرنگ کر کے دنیا کو بتانا چاہتا ہے کہ بھارت بہت بہادر ملک ہے ۔ جبکہ مودی سرکار کے اس اقدام سے بھارت کا ظالمانہ روایہ مزید دنیا کے آگے آ رہا ہے ۔ اب تو دوسرے ممالک بھی کہنے پر مجبور ہیں کہ کشمیر کے مسئلہ کو حل کیا جانا چاہیے ۔ بھارت کشمیریوں پر ظلم کر رہا ہے اس کو روکا جانا چاہیے ۔
قارئین ! مجھے فخر ہے پاکستانی ہونے پر اور مجھے فخر ہے ہماری بہادر فوج پر جو نہ ڈرتے ہے اور نہ پیچھے ہٹتی ہے ۔ ہماری فوج نے اپنی قربانیاں دے کر اس ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جس کو بھارت کروا رہا تھا ۔ اب بھارت جو سیز فائر کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو ہماری فوج ان کو بھرپور جواب دے رہی ہے ہر بار بھارت کی فوج کو منہ کی کھانا پڑتی ہے ۔ بھارت کی فوج اور مودی سرکاری کو پتہ ہے کہ ہم جنگ نہیں کر سکتے ۔ صرف اپنے ہٹ دھرمی کو قائم رکھنے کیلئے بھارت ایسے اقدام کررہا ہے ۔
جب سے ہمارے ملک میں نئی حکومت عمران خان کی آئی ہے تب سے پچھلے ادوار کی نسبت بھارت کا ظالمانہ کردار مزید دنیا کے سامنے ابھر کر آیاہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے یہ تہایا کر رکھا ہے کہ ہر فورم میں پوری دنیا کو بھارت کو مکروہ چہرہ دیکھانا ہے ۔ اور آج یہی ہماری خارجی پالیسی کا حصہ بھی ہے ۔ مودی سرکار نے کہا کہ بھارت سے 50فیصد پاکستانی سفارتکاراپنے ملک کو واپس چلیں جائے تو پاکستان نے اس کا رد عمل دیتے ہوئے بھارت سرکار کو بتا دیا کہ اپنے سفارتکاروں کو بھی کہہ دیں کہ اپنا بوریاں بسترا لپیٹ لیں اور پاکستان سے نکل جائیں ۔ جیسا رویہ بھارت اپنائے گا ویسا ہی کرارہ جواب پاکستان کی طرف سے ملے گا ۔
مجھے امید ہے کہ جس نہج پر آج بھارت کھڑا ہے کہ وہ دن دور نہیں کہ کشمیر بہت جلد آزاد ہو جائے گا ۔ ایک چینی مبصر نے بھی بھارت کو دھمکی لگاتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا تو ہم کشمیر کا بھی رخ کر سکتے ہیں ۔
ہم سب کی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے مسلمان کشمیریوں بھائیوں کو آزادی کا دن نصیب کرے ، اور کشمیری خود فیصلہ کریں کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ۔ آج بھی کشمیر کے اندر نکلنے والے جلوسوں میں ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعرے لگائے جاتے ہیں ۔ انشاء اللہ یہ نعرہ کبھی تو سچ بن کر ہمارے سامنے آئے گا ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button