کالم/بلاگ

جنتی شخص کی نشانی، گناہ پر استغفار

 

انسان فرشتہ نہیں ہے۔ غلطی اور گناہ ہو جانا یہ بشری خاصہ ہے۔ اس لیے انسان سے غلطی اور گناہ ہو جانا کوئی اچنبھہ کی بات نہیں۔ حسرت، تعجب و افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے کہ اگر کسی سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے اور اس پر ذرا برابر افسوس اور ندامت نہ ہو، یہ نقصان اور خسارے کا سودا ہے۔ اس سے آہستہ آہستہ دل سیاہ ہوتا جائے گا۔ ایسے لوگوں کی دنیا بھی خسارے والی ہے اور آخرت بھی۔ اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے۔
ہم میں سے بہت سے انسان بلکہ مسلمان اپنی نادانی اور بے بصیرتی کے سبب گناہ و نیکی کے درمیان فرق کو نہیں پہچانتے، بے پروائی اور بے فکری کے ساتھ دنیا کے گناہ آلودہ دھندوں میں لگے رہتے ہیں، حتیٰ کہ ان کی نگاہوں میں گناہ گناہ نہیں رہتا اور یہ سب کچھ اس لیے ہوتا ہے کہ وہ نیکی و بدی کے خود ساختہ پیمانوں اور معیاروں پر اپنے افعال و اعمال کو ناپتے اور جانچتے ہیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’الاثم ماحاک فی صدرک‘‘ گناہ وہ ہے جو تمہارے قلب میں کھٹک اور خلش پیدا کرے، لیکن ان لوگوں کے دل احساس گناہ سے خالی اور فکر آخرت سے بے پروا ہوتے ہیں، ندامت کا خیال تک دل میں نہیں آتا بلکہ روز بروز ان کا دامن گناہوں سے آلودہ تر ہوتا جاتا ہے۔ غالباً وہ یہ بات بھول چکے ہیں کہ موت اور بدلے کا دن ان کے تعاقب میں ہے اور وہ وقت بھی قریب ہے، جب گناہوں پر ندامت کے لیے ذرا بھی مہلت نہ ملے گی۔ چنانچہ جب دنیا منہ موڑے گی اور آخرت آشکار ہو جائے گی، تب وہ حسرت و یاس کے ساتھ کف افسوس ملیں گے اور کہیں گے کاش ہمیں ایک بار دنیا میں جانے کا موقع مل جائے تو ہم نیک کام کر دکھائیں لیکن وہ اس چیز کی آرزو کریں گے جس کا استحقاق انہوں نے پیدا نہیں کیا۔ ایسے لوگوں کے سامنے صرف ’’آج‘‘ ہوتا ہے وہ ’’کل‘‘ سے بے نیاز ’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘ کے قائل ہوتے ہیں۔
لیکن ہمارے درمیان ایسے بھی لوگ ہیں جو خدا سے ڈرتے ہیں اور گناہ سرزد ہو جانے پر اعتراف و ندامت کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں رجوع ہوتے ہیں اور اپنی غلطیوں، کوتاہیوں اور گناہوں پر نادم ہوکر توبہ و استغفار کرتے ہیں اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہد کرتے ہیں۔ اور اس عہد کی پابندی کا خیال بھی رکھتے ہیں اور اگر بہ تقاضائے بشریت پھر گناہ سر زد ہو جائے تو پھر نادم ہوکر اللہ کی بارگاہ میں معافی کے خواستگار ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ حق و مغفرت کے طلبگار ہوتے ہیں اور بالآخر گناہوں سے نجات اور آخرت کے لیے عمل صالح کا ذخیرہ جمع کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
اور یہ اللہ کا کس قدر عظیم احسان ہے کہ اس نے ہمیں زندگی عطا کی، صحت و عافیت بخشی، راحت و آسانی عطا کی، ارادہ و اختیار کی دولت عطا کی، کتاب ہدایت سے نوازا، رسول آخر الزمان کو بھیجا، گناہ سرزد ہو جانے پر توبہ کی تلقین اور مغفرت کا وعدہ فرمایا، غرض دنیا میں زندگی گزارنے اور عاقبت سنوارنے کے طریقے سکھائے اور مواقع سمجھائے اور یہ انسان کی کتنی بڑی شقاوت و بدنصیبی ہے کہ وہ صحت و عافیت اور خوشحالی و فراوانی کے ایام میں خدا کی ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے گناہوں میں مشغول اور رات دن خدا کی نافرمانیوں میں گزارے حتیٰ کہ خود کو گناہوں کے حوالے کردے۔ اس سے عمل خیر سرزد ہونا بند ہو جائے اور توبہ و ندامت کا خیال تک دل میں نہ آئے۔ قرآن و حدیث کی تنبیہوں کا اس پر کوئی اثر نہ ہو، روز مرہ پیش آنے والے واقعات سے کوئی عبرت نہ پکڑے۔
انسان کی انسانیت کا تقاضہ تو یہ ہے کہ وہ اپنی خطاؤں، غلطیوں اور گناہوں پر نادم و شرمندہ ہو اور اللہ تعالیٰ سے معافی کا خواستگار ہو۔ بلکہ گناہ ظاہر ہونے پر توبہ میں جلدی کرے، کیونکہ ڈھیل ڈالنے سے طبیعت میں سستی پیدا ہو جاتی ہے اور گناہ کا احساس بھی آہستہ آہستہ مٹ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ سے بندہ کی توبہ قبول فرما لیتے ہیں مگر توبہ و ندامت کا اظہار دل سے ہونا چاہیے اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم۔ حدیث میں آیا ہے کہ مومن وہ ہے جو خوف خدا کے سبب مطمئن نہ ہو۔ اور امید ثواب سے مایوس نہ ہو۔ حتیٰ کہ ایمان کو خوف و رجا کے درمیان فرمایا گیا ’’الایمان بین الخوف والرجا‘‘ خوف اس بات کا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ کیا معاملہ فرمائیں گے اور امید اس بات کی اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس کے گناہوں کو معاف فرما دیں گے۔ مگر رحمت کی امید پر گناہ کیے جانا، گناہوں پر شرمندہ نہ ہونا، بندہ کی شان کے خلاف ہے۔
احادیث نبوی میں گناہوں پر ندامت اور توبہ و استغفار کی بہت تاکید آئی ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص استغفار کی کثرت رکھتا ہے، حق تعالیٰ تنگی میں اس کے لیے راستہ نکال دیتے ہیں اور ہر غم سے چھٹکارا فرماتے ہیں اور اس طرح روزی بہم پہنچاتے ہیں کہ اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔ لہٰذا بندے کو چاہیے کہ وہ اپنے گناہوں پر شرمسار و نادم ہوکر معافی کا خواستگار رہے۔ کثرت کے ساتھ اللہ سے توبہ و استغفار کرتا رہے، اپنے گناہوں پر سچے دل اور زبان سے پختگی کے ساتھ توبہ کرے اور صرف یہی نہیں، بلکہ گناہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ اور عزم ہو، تاکہ اللہ کی رحمت کاملہ اس کی طرف متوجہ ہو اور صغیرہ و کبیرہ سب طرح کے گناہ معاف ہو جائیں۔ اس کے ساتھ ہی حقوق العباد کی ادائی کی کوشش بھی لازمی ہے کہ جس جس کا حق مارا ہے، جس کسی کو بے جا تکلیف و اذیت پہنچائی ہے جس کسی کے ساتھ ظلم کیا ہے، اس سے معافی مانگے اور اس کا حق واپس کرے۔ اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو پھر ان کے حق میں دعائے خیر و مغفرت کرتا رہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہماری زندگی کے جو دن باقی رہ گئے ہیں، ان میں پچھلی کوتاہیوں کی تلافی کرنے کا پختہ عزم کرلیں اور اپنے دل کو اس بات پر راضی کرلیں بلکہ اس کو اس بات پر اچھی طرح جما لیں کہ اپنے نفس کو بے لگام نہ چھوڑیں گے، شیطانی احکام پر نہ چلیں گے۔ پچھلے گناہوں پر خدا سے ندامت و توبہ اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عزم ورنہ خدا کے احکام پر عمل کرنے میں کوتاہی اور غفلت ہم پر مزید گناہوں کا بوجھ ڈال دے گی۔ گناہوں پر ندامت، استغفار اور تنہائی میں آنسو بہانا جنتی شخص کی نشانی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button