کالم/بلاگ

حد، قصاص، تعزیر، اہمیت، حکمت، فوائد

 

اس کائنات میں اللہ تعالیٰ نے خیر بھی پیدا فرمایا ہے اور شر بھی۔ خیر پر عمل پیرا دینوی و اخروی سکون و کامیابی کے حق دار ہوتے ہیں جبکہ شر کے خوگر اخروی بربادی اور دنیاوی سزا و جزا کے حامل قرار پاتے ہیں۔ بنیادی طور پر اسلامی سزاﺅں کی تین اقسام ہیں۔ ایک ”حد“ جس کی جمع حدود ہیں۔ دوسری ”قصاص“ اور تیسری ”تعزیر“ ہے۔
لفظ ”حد“ کا اطلاق ان سزاﺅں پر کیا جاتا ہے جو حق اللہ کی خلاف ورزی کے جرم میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے متعین ہیں۔ جس میں کمی بیشی یا رد و بدل کا کسی کو حق و اختیار نہیں۔
دوسری قسم ”قصاص“ سے ممکن اور مساوی بدلہ مراد ہے۔ جسے جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، دانت کے بدلے دانت، کان کے بدلے کان اور ایسی ضربات جن کا قصاص ممکن ہو۔
تیسری قسم ”تعزیر“ کہلاتی ہے، جس میں ان تمام جرائم کی سزائیں شامل ہیں جو حدود اور قصاص نہ ہوں۔ تعزیر دینا یا نہ دینا، یا یہ کہ کس قسم کی تعزیر دی جائے اس کا تعین جرم کی نوعیت اور پیش آمدہ حالات کے تحت خود حاکم عدالت کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
ماہر سماجیات کے نزدیک یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ معاشرہ کے مصالح کے حصول اور معاشرہ سے فساد کو دفع کرنے کے لیے مصلحت عامہ کے حصول کا تقاضہ ہے کہ جرائم کے ارتکاب پر سزائیں دی جائیں اور سزا¶ں کو نافذ کیا جائے کیونکہ مجرم اپنے جرم کے ارتکاب سے انسانی معاشرہ کے افراد کے حق میں اذیت پہنچانے کا سبب ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک قاتل، زانی، ڈاکو، چور، اپنے فعل قتل، زنا، ڈاکہ زنی اور چوری کے ذریعے پورے معاشرے کو بالواسطہ اذیت میں مبتلا کرنے کا سبب ہو جاتا ہے اور ہر اس شخص کی براہ راست اذیت کا باعث ہوتا ہے جو اس قتل، زنا، ڈاکہ زنی اور چوری سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔ اب اگر مجرم کو بغیر مناسب سزا کے آزاد چھوڑ دیا جائے تو ان جرائم کا سلسلہ پھیلتا جائے گا۔ چنانچہ یہ اصول سب کے نزدیک مسلم ہے کہ مجرم کو اس کے جرم کی مناسب سزا ضرور ملنی چاہئے۔
شریعت اسلام کے تحت سزا¶ں میں یہ حکمت رکھی گئی ہے کہ وہ سزائیں معاشرہ سے فساد کو دفع اور مصالح کے حصول کا ذریعہ بنیں۔ اسلام میں سزا¶ں کی ترتیب یا فرق مراتب جرائم کے فرق مراتب پر مبنی ہے۔ اگر جرم اللہ یا دوسرے لفظوں میں معاشرہ کی مجموعی بہبود و مصلحت کے خلاف ہے تو سزا سخت ہے اور اگر کسی فرد کے حق کا معاملہ ہے تو سزا میں نرمی اختیار کی جا سکتی ہے۔ جس میں اس فرد یا اس کے اہل خاندان کی مرضی سے صلح یا معافی بھی داخل ہے۔
دراصل اسلامی شریعت میں قصاص یعنی بدلہ سزا¶ں کی بنیاد ہے۔ لہٰذا جو شخص کسی کو ناحق قتل کرے گا، قتل کیا جائے گا اور جو کسی کی آنکھ کو ضائع کرے گا، اس کی آنکھ ضائع کر دی جائے گی، جو کسی کو ناجائز ضرب پہنچائے گا، اس کو ویسی ہی ضرب پہنچائی جائے گی۔ یہ اصول ان حقوق سے متعلق ہوگا جو شخصی یا انفرادی ہیں لیکن جو حقوق معاشرہ کے ہیں ان کی خلاف ورزی پر سزا کا پیمانہ مختلف ہے۔ چنانچہ ایسے جرائم میں جرم کی مقدار نہیں دیکھی جاتی بلکہ جرم کی شدت اور معاشرہ پر اس کے اثرات کے تحت ان کی سزائیں مقرر کی جاتی ہیں۔
اسلامی نقطہ نظر سے شرعی سزا¶ں میں انسانوں کی حقیقی مصلحت پیش نظر رکھی گئی ہے۔ یہ مصلحت حیات انسانی کے پانچ اصولوں کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
۱۔ دین کی حفاظت ۲۔ نفس یعنی جان کی حفاظت ۳۔ مال کی حفاظت ۴۔ نسل کی حفاظت ۵۔ عقل کی حفاظت
یہ وہ پانچ امور ہیں جن کی حفاظت کے مدعی دیگر مذاہب بھی رہے ہیں لیکن جس انداز سے اسلام ان کی حفاظت کرتا ہے وہ دوسرے ادیان و مذاہب یا نظام ہائے قوانین کے مقابلے میں نہایت جامع اور موثر ہے۔
چنانچہ جو مسلمان اسلام سے منکر ہوکر مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ ہو جائیں اور عام مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور دین اسلام میں فتنہ و فساد برپا کرنے کے در پے ہوں ان کو قتل کر دینے کا حکم ہے۔ کیونکہ وہ دین سلام کی بنیاد کو منہدم کرنے کے در پے ہیں۔ قتل عمد میں قصاص کا اس لیے حکم ہے کہ انسانی جانیں ظلم و تعدی سے محفوظ رہیں اور سزا کے ذریعہ انسانی جان کی حرمت کا احساس عام ہو جائے۔ شراب نوشی پر اس لیے سزا ہے کہ وہ عقل انسانی کو مغلوب و مفلوج کرنے کا ذریعہ ہے۔ زنا کی حرمت اس لیے ہے کہ اولاد کا نسب خلط ملط نہ ہو جس کی حیثیت خاندانی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی سی ہے اور چور پر حد اس لیے جاری کی جاتی ہے کہ وہ خفیہ طور پر لوگوں کے زیر حفاظت مال چرا لیتا ہے جس سے علاقے میں عدم تحفظ مال کا احساس عام ہو جاتا ہے۔ انہیں امن و سکون کے ساتھ راتوں کو سونے نہیں دیتا۔ چنانچہ ذرا غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ مندرجہ بالا پانچ اصول دراصل پانچ انسانی مصلحتیں ہیں جن کا حصول ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ ان پر یا ان میں سے کسی ایک پر دست اندازی کو سزا کے ذریعے روکنا عین مصلحت ہے۔
شریعت کی نگاہ میں جرائم کے تعلق سے مصالح کی دو قسمیں ہیں۔ ایک حقیقی یا دائمی اور دوسری اضافی شریعت جن جرائم مثلاً زنا، تہمت زنا، چوری، ڈاکہ زنی پر حد یعنی مقررہ سزا جاری کرنے کا حکم کرتی ہے، وہ انسانوں کی حقیقی اور مستقل و دائمی مصلحتوں کے حصول کی حکمت کے پیش نظر ہے جو ہر زمانہ اور ہر اسلامی ملک کے لیے ہیں۔ ان کے اجراءمیں دار اسلام کے رہنے والے مسلم و غیر مسلم شہری کی بھی تخصیص نہیں یعنی ان حدود کا اطلاق تمام شہریوں کے لیے بلا تخصیص مذہب و ملت کیا جاتا ہے۔ اس لیے قرآن پاک میں ان جرائم کی سزا¶ں کا تعین کردیا گیا ہے۔ جن کو شریعت کی اصطلاح میں ”حدود“ کہا جاتا ہے اور جو مصلحتیں اضافی ہیں، یعنی جو زبان و مکان کے اعتبار سے بدلتی رہتی ہیں ان کے حصول کے لیے تعزیر کی اصطلاح استعمال کی ہے، جس کی نوعیت اور مقدار کا فیصلہ جرم کی نوعیت اور پیش آمدہ حالات کی روشنی میں عدالت اپنی صوابدید سے خود کرے گی۔ البتہ بعض جرائم ایسے ہیں جن کی سزا¶ں کا تعین احادیث نبوی اور آثار صحابہؓ کی روشنی میں اجماعاً ثابت ہے۔ ان کو بھی فقہا امت نے حقیقی مصالح سے تعبیر کیا ہے، جیسے حد خمر (شراب نوشی کی سزا میں ۸۰ درے) کیونکہ ان کی بنیاد وہ منفعت ہے جو جماعت مسلمین کی حقیقی مصلحت کی حمایت کرتی ہیں اور دائمی طور پر خیر کا ذریعہ بنتی ہیں۔
اسلام سزا کے سلسلہ میں جس منفعت انسانی کو پیش نظر رکھتا ہے، وہ مادی و معنوی دونوں قسم کی منفعتیں ہیں۔ ان کی بنیاد حکمران کی ذاتی خواہش، میلان طبع یا نفرت و بیزاری کی بنا پر نہیں بلکہ عام انسانی ضرورت، منفعت اور عدل و انصاف پر مبنی ہے جو نہ صرف مجرم کے ارتکاب کردہ جرم سے مطابقت رکھتی ہیں بلکہ خود اس کو یا دوسرے انسانوں کو جرم سے باز رکھنے کا موجب بھی ہوتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ شر سے حفاظت فرمائے۔ نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also

Close
Back to top button