کالم/بلاگ

حکومت کی دو سالہ مثالی کارکردگی

 

ابوذر معظم

 

حکومت نے دو سال میں بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے مثال قائم کی ہے ۔ اس سے پہلے جتنی بھی حکومتیں آئیں اگر موازنہ کیا جائے تو حالیہ حکومت کی کارکردگی سب سے بہتر ہے ۔حکومت کی طرف سے 92ہزار نئی سرکاری نوکریاں دی گئی ہیں اور 2ہزار غریب خاندانوں کونئے سرکاری گھر بھی الاٹ کیے گئے جبکہ مزید بے گھر افراد کے لیے بھی گھر بنائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے موسمیاتی تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے بہتر پلاننگ کرتے ہوئے 14کروڑ درخت لگائے ہیں اور نہریں دریا ندی نالے صاف کیے جارہے ہیں ۔ غریب عوام کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے کینسر ہسپتالوں میں جدید مشینری بھی خریدی گئی اور بیڈز میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، نئے ڈاکٹر اور نرسیں بھرتی کی گئی ہیں ۔ گھر گھر ڈاکٹر کی سہولت شروع کر دی گئی جس کے ذریعے بیمار اور لاچار مریض کو دیکھنے کے لیے ڈاکٹر گھر آکر علاج کرے گا اور وہ بھی سرکاری یا کم خرچ پر ۔ اس کے علاوہ دماغی امراض کے ہسپتالوں میں بھی جدید مشینری اور آلات مہیا کر دیے گئے ہیں ۔
مزدور کی کم از کم اجرت میں بھی بہترین اور تاریخی اضافہ کر دیا گیا ہے ۔صحت اور تعلیم کسی بھی حکومت کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے لہٰذا تعلیمی نظام میں بھی اصلاحات لائی گئی ہیں اور ایک لاکھ طالب علموں کے لیے نئے کلاس روم اور سہولیات میسر کر دی گئی ہیں ۔ بے روزگاری 10سالہ تاریخ کی کم ترین سطح پر آچکی ہے۔اس کے علاوہ تقریباً 4لاکھ خاندانوں کو فیملی پیکج سپورٹ کے تحت مستقل امداد دی جا رہی ہے۔ جبکہ نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے کے لیے مدد فراہم کی گئی ہے ۔ پولیس کا نظام بھی بہتر کرنے کے لیے بھرتیاں کی جا رہی ہیں ۔ سڑکوں کا جال بچھا کر ترقی کی منزلیں طے کی جا رہی ہیں ۔ ٹرانسپورٹ سسٹم میں بھی بہتری آچکی ہے جب کہ سائنس، آئی ٹی ریسرچ جیسے شعبوں پر مزید کام ہو رہا ہے۔ عوام پر پیسہ لگایا جار ہا ہے اور اس کی ایک بہترین مثال ہے کہ ہر بچے کے پیدا ہونے پر ماں باپ کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے 3لاکھ سالانہ دیا جائے گا ۔ غربت کی لکیر کے نیچے سے لوگوں کو باہر نکالا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ ٹیکس سسٹم میں بھی اصلاحات لائی جا رہی ہیں تا کہ ملک ترقی کی منزلیں طے کرتا جائے اور مجھے یقین ہے کہ اگر ’’ جسینڈرا آرڈن ‘‘ یونہی اپنی حکومت کو آگے لے کر چلیں تو نیوزی لینڈ جلد دنیا کے طاقتور ترین ممالک میں شمار ہو جائے گا ۔ جبکہ ہمارے ہاں دو 2سالہ حکومتی کارکردگی کا نوٹس لینے اور کارروائی کرنے کے حوالے سے ہمارے
ملک کے کپتان کی سنہری تاریخ پر اگر نظر ڈالیں تو جب سے خان صاحب حکومت میں آئے ہیں، ایک بات پر ہمیشہ سے قائم ہیں اور وہ ہے ’’تحقیقات ہونے دیں ذمہ داروں کا تعین ہونے دیں میں ایکشن لوں گا ‘‘ اب چاہے شہر یار آفریدی کے گھر کی سرکاری خزانے سے تزئین و آرائش ہو ، اعظم سواتی کا غریب افراد پر دھونس ہو ۔ سانحہ ساہیوال میں معصوموں کا قتل ہو ، ادویات سکینڈل میں عامر کیانی کے خلاف کارروائی ہو یار اس کے علاوہ بجلی کی قیمتوںمیں ہوش ربا اضافہ یا پھر گیس کی اوور بلنگ ہو ’’ ہر بار ایکشن لوں گا‘‘
آگے چلتے ہیں یوٹیلٹی سٹور زپر مہنگے داموں اشیاء کی فروخت ہو یا پھر ڈالر کی ذخیرہ اندوزی ہو ایکشن ہونا ابھی باقی ہے ۔ چینی آٹا کے بعد ا ب پٹرول کی قلت یہ سب بحران ایک کے بعد ایک آتے چلے گئے لیکن خان صاحب نے ایکشن لینے کے وعدے پر یو ٹرن نہیں لیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان سب معاملات پر ایکشن کب ہوتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن اب عوام تحقیقات ، کمیشن ، رپورٹ ، نیب(NAB)، ایف آئی اے (F.I.A)کی گردان سن سن کر تھک چکی ہے ۔ ذمہ داروں کا تعین ہو بھی جائے جیسا کہ حالیہ چینی آٹا کی رپورٹوں میں ہو چکا ہے لیکن معاملے کو طول دینے کے لیے NABکے حوالے کرنے سے عزائم واضح ہو رہے ہیں کیونکہ NABتو تمام حالیہ کیسز میں صرف ملزم کی ضمانت میں رکاوٹ ہی ڈالتا رہا ہے جبکہ اربوں روپے واپس لانے کے وعدے ابھی وفا ہونے میں وقت نظر آرہا ہے ۔ عوام کو تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین ہونے کے بعد اب ایکشن کا انتظار ہے اس کے علاوہ 22مئی 2020ء ، 28واں روزہ جوہوائی حادثہ پیش آیا جس میں ہمارے ادارے کے پروگرامنگ کے ہیڈ انصار علی نقوی 97مسافروں سمیت شہید ہو گئے ا سکی بھی تحقیقات ابھی جاری ہیں یہ بات واضح رہے کہ پاکستانی ائیر لائن کے گزشتہ دس سالوں میں ہونے والے حادثات میں یہ چوتھا حادثہ تھا اور اس سے پہلے بھی کسی حادثے میں ذمہ داروں کو سزا نہیں ملی اور شہدا ء کے ورثا ابھی بھی انصاف کے منتظر ہیں ۔ 28جولائی 2010ء ائیر بلیو، 152شہید ، 20اپریل 2012ء بوجا ائیر لائن 127شہید، 7دسمبر 2016ء پی آئی اے جنید جمشیدسمیت 48شہید اور اب ایک اور حادثہ ایک اور تحقیقاتی کمیشن ذمہ داروں کا تعین ، رپورٹ منظر عام پر لانے کا وعدہ اور ایکشن لینے کی گردان۔ ورثا انصاف کے منتظر ، لیکن اس بار ایسا نہیں ہوگا کہ ہم بھول جائیں۔ اب ہمیں ذمہ داروں کو جیل کے پیچھے دیکھنا ہے اور سزا ملتے دیکھنا ہے کیونکہ اب ہم ایسے قیمتی جانوں کا ضیاع برداشت نہیں کر سکتے ۔
اگر ماضی میں ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لے لیے گئے ہوتے تو آج ہم صرف رپورٹس منظر عام پر لانے پر ہی بغلیں نہ بجا رہے ہوتے بلکہ ذمہ داروں کو سزائیں دلوا کر انصاف کی مثال قائم کرتے ہوئے ایک بہترین معاشرہ ترتیب دے چکے ہوتے لیکن افسوس ایسا نہ ہوا ! اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں طاقتور کو کبھی سزا نہیں ملی اور غریب کو کبھی انصاف نہیں ملتا ۔ لیکن اب ہم انصاف لے کر رہیں گے اور پی آئی اے حادثے سمیت تمام ظلم اور جو نا انصافیاں عوام پر ڈھائی گئی ہیں ان کے ذمہ داروں کو جب تک سزا نہیں ہوتی ہم حکمرانوں کو اُن کے وعدے یاد کرواتے رہیں گے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button