کالم/بلاگ

خواب ہی ضرورت ہیں

نقش صبا

صبا ممتاز بانو

خواب تمنائوں اور ضرورتوںکی کو کھ سے جنم لیتے ہیں۔انسان کے پاس خواب نہ ہوتے تو آج دنیا کے یہ رنگ ڈھنگ بھی نہ ہوتے ۔خوابوں نے اسے کہاں سے کہاں پہنچادیا ۔ اس نے اپنے لیے آسائشات کے ساتھ ساتھ مشکلات پیدا بھی کیں اورپھر ان سے نجات کی راہیں بھی دریافت کیں۔ کروناکی طرح کتنی ہی بیماریاں ہیں جنہوںنے انسان کو بے بس کر کے رکھ دیا تھا مگر انسان نے ان کا علاج دریافت کر ہی لیا ۔ اب کرونا پر فتح مندی کے خواب دیکھنے والے بھی جستجو کے دھارے پر چلتے ہوئے کامیاب ہو جائیں گے ۔ اس وقت تک کتنے انسان اس بیماری کی بھینٹ چڑھ چکے ہوں گے ، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ کرونا نے دنیا کی آبادی کو متوازن بنانے کے ساتھ ساتھ اس دنیا کی آلودگی کو کم کرکے انسان کے دس سالوںکو خوشگوار بنا دیا ہے۔ایک طرف بہت سے پیارے ہم سے کھو جائیں گے اور دوسری طرف بہت سے پیارے ماحول کی تابناکیوںکے اثرات سے محفوظ رہنے کی وجہ سے بچ جائیں گے ۔ان کی صحت مند عمر میں اضافہ ہو جائے گا۔ابھی انسان اس بیماری سے نبرد آزما ہے اور اس سے بچائو کے خواب دیکھ رہا ہے لیکن وہ اس سے ضرور بچ جائے گا کیونکہ انسان اشرف المخلوقات ہے ۔وہ وبائوں اور بلائوں پر قابو پانا جانتا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ یہ وبا بھی شیطانی طاقتوں کی ہی بھیجی ہوئی ہو تو پھر وہ اپنے وقت پر اس پر قابو پاہی لے گا۔ اس کا وقت کب آئے گا ، یہ تو اس وباکے بنانے والے ہی فیصلہ کریں گے لیکن دنیا کے سچے اور اچھے انسان تو کرونا سے نجات کے خواب دیکھتے ہوئے انسانوںکو بچانے کی کو شش میں ہیں۔
خواب دیکھنا اور تمنائیں پالنا انسان کی سرشت میں شامل ہے ۔اسی لیے تو وہ خوابوں کاتاج سر پر سجائے رکھتا ہے اور اس کے پائوں میں تمنائوں کی بیڑیاں پڑی رہتی ہیں ۔ یہی کہانی ہے انسان کے ترقی کے سفر کی۔ ابن سینا ہو یا ذکریا رازی،آئن سٹائن تھا یا نیوٹن ، سب نے خواب دیکھے اور پھر سچ کر دکھایا ۔ ان کے اب اس ما دیت پرستی کے دور میں جب لو گ کہتے ہیں کہ خو اب نگر کی بستی اب ویران ہو ئی ۔ اب تو روبوٹ انسان کی جگہ لیں گے اور انسان کے سب کام کر لیں گے ۔ وہ محاذ پر دشمن سے لڑیں گے ۔ وہ فضا میں گو لے برسائیں گے ۔ وہ چائے بنانے سے لے کر ہوائی جہاز بنانے تک انسان کو پیچھے چھوڑ دیں گے تو روبوٹ خالی آنکھوں اور تہی جذبات کے ساتھ یہ سب کام تو کر لیں گے مگر یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ جس دن خواب نہ رہے ۔انسان کا اس دنیا میں زندہ رہنا مشکل ہو جائے گا۔خواب اس کے جینے کی تحریک ہیں۔ ان کی وجہ سے ہی توانسان جستجو کے دوست ہیں اور کوشش کے پجاری ہیں۔ کبھی ان لو گوں کو دیکھا ہے جن آنکھوںمیں خواب نہیں ہوتے اورجن کے دلوں میں مردہ خواہشیں دفن ہوتی ہیں۔ روبوٹ بھی ایسے ہی مردہ انسان ہوں گے کیونکہ روبوٹ خواب تو نہیں دیکھ سکتے ۔کیا کوئی روبوٹ ایسا بھی ہوگا جو جذبات کی وجہ سے کوئی فیصلہ کرے گا۔ کبھی کبھی جذبات کے فیصلے ہی بقا کا باعث بنتے ہیں۔ میدان جنگ میں شہادتیں جذبات سے ہوتی ہیں۔ پائلٹ دوسروںکی جانیں بچانے کے لیے اپنے طیارے کا رخ زمین کی جانب جذبات کی وجہ سے ہی مو ڑتا ہے۔
روبوٹ انسان کی جگہ لے لیں گے مگر روبوٹ تمنائوں کو تکمیلی شکل دینے کے لیے دن رات ایک تو نہیں کر سکتے ۔روبوٹ خوابوں کو سچ کرنے کی دوڑ میں تو شریک نہیں ہو سکتے ۔ روبوٹ تو وہی کریںگے جو ان میں فیڈ کیا جائے گا۔ ترقی کے لیے انسان کا دماغ ہی کام کرے گا۔ اس کی خواہشیں ہی فلک پر ناچتی پھریں گی ۔ اس کے خواب ہی فضائوں میں گیت گائیں گے ۔ کمپیوٹر روبوٹ صرف اس وقت تک دوست ہو ں گے جب تک انسان ان کو کنٹرول کرنے کی اہلیت رکھے گا ۔جب وہ یہ اہلیت کھو دے گا یہی دوست روبوٹ اس کے دشمن بن جائیں گے۔
بہترین دماغ وہی ہوتے ہیں جو دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیںیاپھر جو سوچتے ہیں اور پھر سچ کردکھاتے ہیں۔ ابھی چند دن پہلے کی بات ہے کہ میرے باس نے اپنے کچھڑی زدہ بالوں میں انگلی سی پھیرتے ہوئے کہا کہ اب انسان کا کام تمام ہوا۔ اب ہمارے دفاتر ، ہمارے اداروں میں انسان کی جگہ کمپیوٹر لے لیں گے ۔ا ب جنگوں میں فوجی نہیں ، روبوٹ کام آئیں گے ۔ جب ہمارا روبوٹ دشمن طیارے کومار گرائے گا تو ہمارے آئی ٹی روم میں بیٹھے ہو ئے فوجی جوان یا ماہر جوان نعرہ حق بلند کرتے ہوئے کہیں گے کہ دشمن طیارے کے ساتھ ساتھ اس کے روبوٹ پائلٹ کو بھی مار گرایا گیا ۔اب مو بائل سے سب کچھ کنٹرول کیا جائے گا۔ سب سے بڑا ہتھیار موبائل ہوگا۔
میرے باس نے یہ سب کچھ کیوں کہا ۔اس لیے کہ اس دن انٹر ویومیں د ولڑکیاں ہم نے بلائی تھیں۔ آفس اسسٹنٹ کی اس جاب کے لیے وہ دونو ں لڑکیاں پر جوش تھیں مگر کسی ایک کو بھی کمپیوٹر کا بنیادی استعمال یا معلومات نہیں تھیں۔
ہم یہ سوچ رہے تھے کہ روبوٹ کو انسان بنانے کا وقت آگیا ہے اور ہماری نو جوان نسل ابھی کمپیوٹر کے بنیادی استعمال سے ہی واقف نہیں۔ ہم پہلے بھی ترقی یافتہ ممالک سے بہت پیچھے ہیں اور ابھی تک ہم اپنی نوجوان نسل کو کمپیوٹر کی طرف راغب نہیں کر سکے۔ نوجوان نسل جب تک تکنیک کی دنیا میں قدم نہیں رکھے گی تو ملک میں دشمن کے روبوٹ ناچتے پھریں گے ۔ جس ملک کے انسان مشینوں سے دوستی کریں گے ، ان کا ہی دنیا پر تسلط ہو گا۔ وہ امریکی انسان بھی ہو سکتے ہیں اور چینی بھی لیکن پاکستانی کیوں نہیں ؟ اس لیے کہ ہمارے ارباب اختیار واقتدار یہ سمجھ ہی نہیں پارہے کہ ہمیں اپنے تمام اداروںمیں ابتدائی مراحل پر ہی کمپیوٹر کی تعلیم کو لازمی کرنا ہو گا ۔ہمیں کتابوں سے زیادہ عملی مضامین پر توجہ دینا ہوگی ۔
یہ جو ہم ایک پنکھا لے کر مکینک کے پاس چلے جاتے ہیںیا ایک گھڑی کا سیل نہیں بدل سکتے یا پھر ایک معمولی استری ٹھیک نہیں کر سکتے تو بڑے بڑے خواب کیسے دیکھ سکتے ہیں۔جب جاپان اور دیگر کئی ممالک میں عملی تعلیم ابتدائی مراحل میںہی دی جارہی ہے تو ہمیں کیا مسئلہ ہے ۔
ڈاکٹر عطا الرحمن کے دور میں یہ تو ہوا کہ ملک میں پولی ٹیکنیک اور ووکیشنل اداروںکا جال بچھ گیا لیکن ان میں طلبہ کی ایک مخصوص تعداد ہی داخلہ لیتی ہے ۔ہمارے طلبا کی اکثریت اب بھی عملی جاہل اور نابلد ہے ۔روبوٹ سے کام لینے کے لیے ہمیں روبوٹ سے زیادہ تیز ترین اذہان چاہیے جو کہ ان کو اپنے اشاروں پر چلا سکیں۔
روبوٹ وہی کام کریں گے جن کا خواب انسان نے دیکھا ہوگا۔ انسان کی آنکھوںمیں تو خوابوں کے دئیے جلتے ہی رہیں گے ۔ یہ دئیے جلیں گے تو ایک سے ایک بڑھ کر مشین اس دنیا میں آئے گی اور انسان کو ہی پچھاڑ کر رکھ دے گی مگر انسان پھر بھی ان پر غالب رہے گا۔ جس دن انسان نے اپنے خواب اور تمنائیں پالنے کی سرشت روبوٹ کو سونپ دی تو اس دن انسان کا وجود بے کار محض بن کررہہ جائے گا ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button