کالم/بلاگ

مایوسی گناہ ، امید کا دامن تھامے رکھیں

ڈاکٹر تانیہ طیب

جب سے یہ سال شروع ہوا ہے اس میں عجیب معاملات رونما ہو رہے ہیں ،اس سال 2020نے دنیا کو ہلاکر رکھ دیا ہے اس کا آغاز ہی دنیا کے لیے جان لیوا اور متاثر کن ثابت ہوا جس میں چائینہ سب سے پہلے متاثر ہوا اس وقت کس کو پتا تھا کہ یہ وبا ایک شہر ایک ملک سے نکل کر پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے گی۔ یہ وبا اپنے آغاز سے ہی ہم سب کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے اس میں امیر غریب ،گورے کالے کی تمیز ختم کر کے رکھ دی ہے ۔
زیادہ متاثر ہونے والے بڑی عمر کے افراد ہیں مگر اس کا یہ مطلب یہ ہرگز نہیں کہ یہ نوجوانوں کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے گی ۔اس کا شکار وہی لوگ ہو رہے ہیں جو احتیاط نہیں کرتے ۔اس کے بچاﺅ کا واحد راستہ احتیاط ہے ،اس وقت ہمارا پیارا ملک پاکستان اس کا شکار ہے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد دیکھتے ہیں اور ڈاکٹرز پیرا میڈیکل سٹاف نرسز اور فرنٹ لائن افراد کو اس کا شکار ہوتا دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے جب ہمارے ڈاکٹرز ایک ڈیڑھ ماہ پہلے پریس کانفرنسز میں لوگوں کو محتاط رہنے کا کہتے تھے تولوگ اس کو مذاق سمجھ رہے تھے ۔آج بھی کئی ایسے افراد ہیں جو کہ کرونا کی حقیقت سے انکاری ہیں بلکہ سمجھتے ہیں کہ اس کا کوئی وجود ہی نہیں ،ایک تھیوری یہ بھی چل رہی ہے کہ جو ہسپتال گیا اس کو انجیکشن لگا کر مار دیا جاتا ہے کیونکہ ہسپتالوں کو کرونا کے مریضوں کی امداد کی مد میں بھاری رقم مل رہی ہے خدارا ایسا بلکل نہیں اپنی اس ہٹ دھرمی سے باہر نکلیں میں جب لوگوں کی اس ہٹ دھرمی اور لا پرواہی کو دیکھتی ہوں تو اب مجھے غصہ آتا ہے کہ لوگ اپنی جانوں کے خود دشمن بنے ہوئے ہیں ہمیں خود کو بھی بچاناہے اور دوسروں کی بھی حفاظت کرنی ہے خدارا ہوش کے ناخن لیں اپنے پیاروں کے لیے اپنی خاطر احتیاط بہت ضروری ہے۔یہی ایک واحد راستہ ہے جس سے اس وبا پر قابو پایا جا سکتا ہے۔اس بات کا اندازہ انہیں ہی ہوسکتا ہے جس اس مصیبت اور مشکل وقت سے گزر رہے ہیں میرے دادا جان اس وبا کی وجہ سے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں اور مجھے اس بات کا باخوبی اندازہ ہے کہ ہم تمام گھر والے کس اذیت سے گزرے ہیں اور مزید مشکلات کی وجہ سے پورا خاندان پریشان ہے۔
مزید یہ کہ احتیاط کے ساتھ ساتھ دعا کیجئے اور امید کا دامن مت چھوڑیں کیونکہ اندھیرے میں روشنی کی ایک کرن انسان کے لیے مشعل کا کام کرتی ہے اسی طرح مایوسیوں کے جھرمٹ میں امید ہی انسان کا سہارا بنتی ہے کیونکہ بقول شاعر
رات جتنی بھی سنگین ہوتی ہے
صبح اتنی ہی حسین ہوتی ہے
یاد رکھیں کے مصیبت جتنی بھی بڑی ہو اﷲ کی ذات سب سے بڑی ہے اور اﷲ اپنے بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا ،اس کا ایک بار ”کن“ کہنا ہے تو ہر کام تکمیل کو پہنچ جاتا ہے ،احتیاط کے ساتھ ساتھ امید کا دامن بلکہ ایمان کامل رکھیں کہ اﷲ تمام بنی نو انسان کواس مصیبت سے بچائے گا اور ہمیں دعا گو رہنا چاہئے ۔ مایوسی گناہ ہے ،آخر میں کہوں گی کہ احتیاط کیجئے دعا کیجئے ایک دوسرے کو الزام لگانے سے کچھ نہیں ہو گا معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا تب جا کر اس سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے گا۔
یہاں ایک مثال میرے ذہن میں آرہی ہے کہ جب ایک شخص کو پیاس لگتی ہے تو پانی اسی کو پینا پڑتا ہے تب وہ پیاس بجھتی ہے ہمیں سب کو اپنے لیے اپنے پیاروں کے لیے جستجو کرنی ہے اور اس میں ثابت قدم رہنا ہے کیونکہ ہمارے جسم یہ زندگی اﷲ کی امانت ہیں اور ہم سے آخرت کے روز اس کا سوال ہو گا کہ جب ایسا وقت تھا تو تم نے احتیاط کیوں نہ کی کیونکہ خودکشی اور قتل دونوں ہی اسلام میں حرام قرار دیئے گئے ہیں ،اﷲ کے نبی ﷺ کا فرمان عالی شان ہے جب کہیں وبا پھیلے تو وہاں مت جاﺅ اور وہاں موجود ہو تو وہاں سے باہر نہ نکلو ،یعنی کہیں اور مت جاﺅ ، آج ہم سب کو اس بات پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے اپنے گھروں میں رہیں تا کہ ہماری وجہ سے یا کسی کی وجہ سے ہم اس وبا کا شکار نہ ہو جائیں۔
اﷲ آپ سب کا حامی و ناصر ہو تحریر پڑھیں اور اس پر عمل کریں شاید ہم کسی ایک شخص کو بچانے کا سبب بن سکیں اور ہماری یہ کاوش ہماری ہمارے آباﺅ اجداد کی بخشش کا ذریعہ بن جائے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button