کالم/بلاگ

مفتی تقی عثمانی: بااثر مسلم شخصیات، پہلا نمبر

رئیل اسلامک اسٹریٹیجک اسٹڈیز سینٹر، عمان، اُردن کے زیر اہتمام ’’دی مسلم 500‘‘ 2020ء کے نام سے ایک ریسرچ جرنل شائع ہوا، سروے میں 13 شعبوں پر ریسرچ کی گئی۔ ان شعبوں میں علمی، سیاسی خدمات، مذہبی امور کا انتظام و انصرام، مبلغین، روحانی رہنما، انسان دوستی، چیریٹی اور ترقی، معاشرتی مسائل، کاروبار، سائنس اور ٹیکنالوجی، فنون اور ثقافت، قرآن مجید، میڈیا، مشہور شخصیات، کھلاڑی اور انتہا پسند شامل تھے۔ ادارے نے سال 2020ء کے لیے سال کی سب سے بااثر شخصیات کا بھی انتخاب کیا ہے۔ ٹاپ 50 میں عالم اسلام کی عظیم شخصیت، نامور فقیہ اور سینکڑوں کتابوں کے مصنف جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی کو پہلا نمبر دیا گیا، جب کہ اس فہرست میں ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کو دوسرا، متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد زائد النہیان کو تیسرا، سعودی عرب کے شاہ سلمان کو چوتھا، ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کو چھٹا، مشہور داعی اور اسکالر شیخ سلمان العودہ کو گیارہواں، امیر قطر شیخ تمیم کو بارہواں، شیخ ازہر کو چودہواں، پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کو سولہواں، ولی عہد سعودی عرب محمد بن سلمان کو چوبیسواں نمبر دیا گیا۔ پاکستان تبلیغی جماعت کے امیر مولانا نذور الرحمن کو پچاسواں نمبر ملا۔ مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ، کی حیات و خدمات نذر قارئین ہیں۔
آپ کا شمارعالم اسلام کی چند چوٹی کی علمی شخصیات میں ہوتا ہے ۔ آپ1980ء سے 1982ء تک وفاقی شرعی عدالت اور 1982ء سے 2002ء تک عدالت عظمیٰ پاکستان کے شریعت ایپلیٹ بینچ کے جج رہے ہیں۔ آپ اسلامی فقہ اکیڈمی، جدہ کے نائب صدر اوردارالعلوم کراچی کے نائب مہتمم بھی ہیں۔ اس کے علاوہ آپ آٹھ اسلامی بینکوںمیں بحیثت مشیر کام کر رہے ہیں اور البلاغ جریدے کے مدیر بھی ہیں۔
مفتی محمد تقی احمد عثمانی تحریک پاکستان کے کارکن اور مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی کے سب سے چھوٹے فرزند اور موجودہ مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی کے چھوٹے بھائی ہیں۔ آپ کی پیدائش27 اکتوبر1943ء کوہندوستان کے صوبہ اترپردیش کے ضلع سہارنپورکے مشہور قصبہ دیوبندمیں ہوئی۔
آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم مرکزی جامع مسجد تھانوی جیکب لائن کراچی میں حضرت مولانااحتشام الحق تھانوی صاحب کے قائم کردہ مدرسہ اشرفیہ میں حاصل کی اور پھر آپ نے اپنے والد بزرگوار کی نگرانی میںدارالعلوم کراچی سے درس نظامی کی تعلیم مکمل کی جس کے بعد1961ء میں اسی ادارے سے ہی فقہ میں تخصص کیا۔ بعد ازاںجامعہ پنجاب میںعربی ادب میں ماسٹرز اورجامعہ کراچی سے وکالت کا امتحان نمایاں نمبروں سے پاس کیا۔
جنرل ضیاء الحق نے 1977ء میں1973ء کے دستورسنت کے مطابق ڈھالنے کے لیے 1973ء کے آئین کی روشنی میں ایک مشاورتی اکائی اسلامی نظریاتی کونسل کی بنیاد رکھی، مفتی تقی احمد عثمانی اس کونسل کے بانی ارکان میں سے تھے ۔ آپ نے قرآن مجیدمیں بیان کردہ اللہ کی حدود اور ان کی سزاؤں پر عملد درآمد کے لیے حدود آرڈینینس کی تیاری میں اہم کردا ر ادا کیا۔ آپ نے سودی نظام بینکاری کے خاتمے کے لیے بھی کئی سفارشات پیش کیں۔
مفتی تقی عثمانی جامعہ کراچی سے وکالت کی سند حاصل کرنے کے بعد طویل عرصے کے لیے پاکستان کے عدالتی نظام سے وابستہ ہو گئے ۔ آپ 1980ء سے 1982ء تک وفاقی شرعی عدالت اور 1982ء سے 2002ء تک سپریم کورٹ آف پاکستان کے شریعت ایپلیٹ بینچ کے جج رہے ہیں۔ آپ شریعت ایپلیٹ بینچ کے منصف اعظم اور پاکستان کے قائم مقام منصف اعظم بھی رہے۔ آپ نے بحثیت جج کئی اہم فیصلے کیے جن میںسودکو غیر اسلامی قرار دے کر اس پر پابندی کا فیصلہ سب سے مشہور ہے ۔ 2002ء میں اسی فیصلے کی پاداش میں سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے آپ کو آپ کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔
قرآن مجیدمیں اللہ تعالیٰ نے ربایعنی سود کوحرام قرار دیا ہے۔ ایسی صورت میں جب جدید معاشی نظام کی اساس جدید بینکنگ ہے جس کا پورا ڈھانچہ سود کی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ مسلمان ملکوں میں اللہ کی نافرمانی کی زد میں آئے بغیر معاشی سرگرمیوں کو جاری رکھنا ایک مستقل مسئلہ تھا، لیکن اب مفتی صاحب کی مجدادنہ کوششوں کی بدولت یہ مستقل طور پر حل ہوچکا ہے ۔ مفتی صاحب نے شریعت کے حدود میں رہ کر بینکاری کا ایسا نظام وضع کیا ہے جوعصر حاضرکے تمام معاشی تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ مفتی صاحب کے اس نظام کو اسلامی فقہ اکیڈمی کی منظوری کے بعد ساری دنیا میں نہایت تیزی سے اپنایا جا رہا ہے ۔
اس وقت مفتی تقی عثمانی صاحب کے اصولوں پر درجنوں اسلامی بینک کام کر رہے ہیں۔ کینیڈا کے کئی اسلامی بینکوں نے ایک سال نہایت کامیابی سے کام کرتے ہوئے دو سو فیصد سے زائد منافع کمایا ہے۔ مفتی صاحب خود آٹھ اسلامی بینکوں کے مشیر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ مفتی صاحب اسلامی مالیاتی اداروں کے اکاونٹینگ اور آڈیٹینگ اورگنائزیشن کے چیئرمین بھی ہیں۔
شیخ الاسلام سابق جسٹس مفتی تقی عثمانی مدظلہ العالی کو اپریل 2019ء کو روس میں اعزازی طور پر علمی خلعت زیب تن کرایا گیا جو روس کا بہت اعلیٰ علمی اعزاز ہے ۔ مفتی تقی عثمانی اپنی علمی خدمات کی بدولت دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف اعزازات اور ایوارڈز سے نوازے گئے ہیں۔ حال ہی میں حکومتِ پاکستان نے انہیں اعلیٰ ترین سول اعزاز 23 مارچ 2020ء کو دیا گیا۔
آپ کم و بیش 28 کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ جن میں مشہور یہ ہیں۔
آسان ترجمہ قرآن، المدونۃ الجامعۃ، جہاں دیدہ، دنیا مرے آگے، علوم القرآن، حضرت معاویہؓ اور تاریخی حقائق، عیسائیت کیا ہے، درس ترمذی، بائبل سے قرآن تک، تکملہ فتح ملھم ، اسلامی بینکاری کی تاریخ و پس منظر، غیر سودی بینکاری، دلی دعا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ مفتی صاحب کی حفاظت فرمائے۔ اور اس گوہر نایاب کی خدمات سے امت مسلمہ کو مستفیض فرمائے۔ (آمین)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button