کالم/بلاگ

نفس امّارہ، لوامّہ، مطمئنّہ اور عرفان نفس

 

نفس اور انسان کی لڑائی روز اول سے تاقیامت جاری رہے گی۔ کچھ خوش قسمت لوگ ابتداء ہی سے اپنے نفس کو راہ راست پر لے آتے ہیں۔ نفس کی پہچان دراصل اللہ کی شناخت ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد ہے ’’من عرف نفسہ فقد عرف ربہ‘‘ کہ جس کسی نے اپنے نفس کو پہچان لیا، پس تحقیق اس نے اپنے رب، پالنے والے کو پہچان لیا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ قول اس لحاظ سے بہت اہمیت رکھتا ہے کہ صنعت کی معرفت صانع کی دلیل ہے، جب تک کوئی شخص صنعت کی معرفت حاصل نہ کرے گا، اپنے صانع، اپنے رب اپنے آقا کو کیسے پہچانے گا۔ اور جب تک پہچانے گا نہیں تو اس وقت تک ان حقوق کی ادائیگی کی طرف کیسے متوجہ ہوگا اور ان فرائض کو کیسے پورا کرے گا جو اس کے پالنے والے کی طرف سے اس کے ذمے عائد ہیں لیکن بات کو آگے بڑھانے سے پہلے نفس کے بارے میں کچھ عرض کرنا ضروری ہے۔ نفس عربی زبان کا لفظ ہے، اس کے اصل معنی ’’جان‘‘ کے ہیں۔ اس کے دوسرے معنی ذات کے آتے ہیں۔ اس کے ایک اور معنی سانس کے بھی آتے ہیں۔ قرآن حکیم نفس کے سلسلے میں تین اصطلاحیں استعمال کرتا ہے۔
۱۔ نفس امّارہ ۲۔ نفس لوامّہ ۳۔ نفس مطمئنّہ
درحقیقت ہر آدمی کا نفس ایک ہی ہے لیکن اس نفس کی تین حالتوں کے اعتبار سے اس کے تین نام ہو گئے ہیں، چنانچہ نفس اگر عالم علوی کی جانب مائل ہو اور اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں اس کو مسرت اور خوشی حاصل ہوتی ہو اور شریعت کی پیروی میں اس کو سکون و چین محسوس ہوتا ہو، تو اس نفس کو نفس مطمئنہ کہتے ہیں۔ ’’یَا أَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ارْجِعِي إِلَی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَرْضِیَّۃً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي‘‘ یعنی اے نفس مطمئنہ! اپنے رب کی طرف رجوع ہو تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی ہوا۔ پھر شامل ہو جا میرے بندوں میں اور داخل ہو جا میری جنت میں۔
اور اگر نفس عالم سفلی کی طرف جھک پڑا اور دنیا کی لذتوں اور خواہشوں میں پھنس کر بدی کی طرف راغب ہوا اور شریعت کی پیروی سے بھاگا تو اس کو نفس امارہ کہتے ہیں کیونکہ وہ انسان کو برائی اور بری باتوں کا حکم دیتا ہے اور اگر کبھی عالم سفلی کی طرف جھکتا ہے اور کبھی عالم علوی کی طرف مائل ہوتا ہے اور برائیوں سے گھبرا کر ان سے دور بھاگتا ہے اور ان کی طرف آگے بڑھنے سے ہچکچاتا ہے ان کو برا جانتا ہے اور اپنی کوتاہیوں اور گناہوں پر دل سے شرمندہ ہوتا ہے اور اپنے آپ کو ملامت کرتا ہے تو اس کو نفس لوامہ کہتے ہیں۔ قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے:
’’ان النفس لامارۃ بالسوء‘‘ کہ نفس برائی سکھلاتا ہے۔
نفس امارہ کا کام ہی شیطان کی پیروی اور اللہ سے روگردانی ہے، اور یہ محض اللہ کی رحمت و اعانت ہی ہوتی ہے کہ نفس انسانی برائی سے رک جائے۔ چنانچہ نفس امارہ جب توبہ کرکے لوامہ بن جائے اور اپنی سابقہ تقصیرات پر شرمندہ ہو تو خدا اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور پھر نفس انسانی آہستہ آہستہ ترقی کرکے نفس مطمئنہ کے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔
گناہوں سے بچنے اور نفس مطمئنہ حاصل کرنے کے لیے بنیادی چیز ’’عرفان نفس‘‘ ہے، کہ انسان اپنی ذات کو پہچانے اور جونہی وہ اپنے نفس کی حقیقت سے واقف ہو جاتا ہے تو اسی لمحے وہ عارف باللہ ہو جاتا ہے وہ یقین کی قوت کے ساتھ اللہ ہی کو اللہ جانتا ہے اور غیر اللہ سے اپنے دل کو خالی کر لیتا ہے۔ عرفان نفس کا یہ درجہ بالآخر قرب الٰہی کا موجب ہوتا ہے، جونہی وہ عرفان نفس کے نتیجے میں نفس کی بے چارگی اور مسکنت سے واقف ہوتا ہے، اسی لمحے وہ اللہ کو قادر حقیقی مانتا ہے۔ اسی سے نفع و ضرر کی توقع اور خوف رکھتا ہے، وہ ماسوا اللہ سے کٹ کر صرف اللہ سے رشتہ جوڑ لیتا ہے۔
جس شخص کو عرفان نفس حاصل ہو جائے یا دوسرے لفظوں میں وہ خودی کو پا لے اور نفس مطمئنہ کے درجے پر فائز ہو جائے اس کو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں شامل فرما لیتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جو لوگ نفس امارہ پر قابو پاکر نفس مطمئنہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، وہی لوگ حقیقی معنی میں اللہ کے بندے ہیں اور ان ہی کے لیے جنت کی خوشخبری ہے۔
نفس امارہ کے داؤ پیچ سے بچنے اور نفس مطمئنہ کے درجے تک پہنچنے کے لیے یہ بات بنیادی اہمیت کی حامل ہے کہ بندے کو اس امر کا کامل اعتراف اور عین الیقین حاصل ہو کہ اس کو مرنے کے بعد اللہ کے روبرو جانا ہے اور اپنے تمام اعمال و افعال کے لیے اس کے سامنے جوابدہ ہونا ہے اور اس کو یہ حقیقت اپنے پیش نظر رکھنی ہے کہ ’’من عمل صالحاً فلنفسہ و من اساء فعلیھا‘‘ کہ جس نے عمل صالح کیا تو اس کا فائدہ اس کے نفس اور اس کی ذات کے لیے ہے اور جس نے برا کیا تو اس کی برائی خود اسی پر پڑے گی۔ اللہ کے سامنے جوابدہی کے اس تصور اور اس کے نتیجے کے بارے میں قرآن حکیم بشارت دیتا ہے۔ ’’وامامن خاف مقام ربہ و نہی النفس عن الھوی فان الجنۃ ھی المادیٰ‘‘ کہ جو اس بات کا خیال کرکے ڈرا کہ مجھے اللہ کے سامنے حساب کے لیے کھڑا ہونا ہے اور اسی ڈر سے اپنے نفس کی خواہش پر نہ چلا، بلکہ اسے روک کر اپنے قابو میں رکھا اور احکام الٰہی کے تابع بنایا، تو اس کا ٹھکانہ بہشت ہے۔
عرفان نفس دراصل انسان کے روحانی عروج اور ذاتی ارتقاء کا نام ہے جس کا مقصد عمل اور تزکیہ نفس ہے، کہ یہی حیات انسانی کا کمال ہے۔
صوفیاء نے عرفان نفس کے تین مراحل یا درجے بیان کیے ہیں۔ پہلا درجہ اطاعت کا ہے، اس میں دینی فرائض کی پابندی کے ساتھ ادائیگی شامل ہے۔ مثلاً روزہ، حج، زکوٰۃ۔ دوسرا درجہ ضبط نفس ہے کہ انسان کو اپنے نفس پر اتنا قابو ہو جائے کہ وہ اپنے نفس کو کسی برے فعل کا ارتکاب سے روک سکے۔ اس مرحلے میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی داخل ہے، اس کا ابتدائی درجہ حرام اور ممنوع چیزوں سے اجتناب اور انتہائی درجہ مکروہات اور مشتبہات سے دور رہنا ہے۔ اور عرفان نفس کا تیسرا درجہ نیابت الٰہی ہے کہ انسان کو یہ عرفان حاصل ہو جائے کہ وہ خدا کا نائب ہے اور اس کو اپنی تمام تر زندگی اللہ کے نائب کی حیثیت سے معروفات کے پھیلانے اور منکرات کے روکنے میں صرف کرنی ہے۔
عرفان نفس کی بدولت بالآخر انسان معرفت کا اعلیٰ مقام حاصل کر لیتا ہے اور وہ صحیح معنی میں اللہ کا بندہ بن کر اپنی زندگی اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق گزارنے لگتا ہے، جس کو قرآنی الفاظ میں ’’ان صلوٰتی و نسکی محیایی و مماتی للہ رب العالمین‘‘ کہا گیا ہے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔
اللہ تعالیٰ نفس کی خواہشات سے ہماری حفاظت فرمائے۔ (آمین)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button