کالم/بلاگ

والد محترم کی وفات ،کورونا موجود ہے ،خدارا احتیاط کیجئے

محمد طیب ممتاز
+16477183910

دیار غیر میں خوشیاں تو پچھلے چار سال سے دیکھ رہا تھا جس پر بہت احساس ہوتا تھا کہ اپنوں سے دور ہیں مگر مصیبت اور تکلیف کے وقت اپنے ملک گھر اور اپنوں کا پاس نہ ہونا کتنا تکلیف دہ اور جاں بلب ہوتا ہے اس کا احساس چار دن پہلے اس وقت ہوا جب مجھے رات 12بجے کے قریب میری بہن نے کال کر کے بتایا کہ ابو کی طبیعیت بہت خراب ہے اور ان کی حالت بگڑتی جا رہی ہے ۔یہ لمحہ ایسا تھا کہ جیسے اگر میرے پاس پر ہوں تو اڑ کر ان کے پاس پہنچ جاﺅ مگر ایسا ممکن نہیں تھا۔ فوراً کال کی اور ویڈیو کال پر ان سے بات کی جیسے ہی ان کے کانوں میں میری آواز پہنچی ان کے چہرے پر ایک رونق اور چمک محسوس ہوئی جس کی خوشی بھی تھی اور اپنے بے بس ہونے کا احساس اور بڑھ گیا۔
تین دن تک اسی حالت میں آکسیجن کے ساتھ سانس میں بہتری کی کوشش کے ساتھ ساتھ ہر فرد اپنی تئیں کوشش کرتا رہا ،لاہور کے پرائیویٹ ہسپتالوں سے لیکر گورنمنٹ کے تمام اداروں میں کوشش کے باوجود کوئی ایک بیڈ ملنا مشکل تھا بہت مشکل کے ساتھ سروسز ہسپتال لاہور میں ایک بیڈ کا انتظام ہوا جہاں ان کو ابتدائی طبی امداد دی گئی اور ہسپتال میں داخل کر لیا گیا ۔ اسی دوران ان کا آکسیجن لیول 30فیصد تک رہ گیا تھا جب کہ ایک انسان کے لیے خود سانس لینے کی آخری حد 90فیصد ہونی چاہئے اس دوران ہر طرف وینٹی لیٹر کی کوشش کی جاتی رہی ،ہر فرد بندوبست کرنے میں لگارہا یہاں دیار غیر میں بیٹھے جن دوست احباب سے فون پر رابطہ کر کے مدد کی ہلکی سی روشنی نظر آتی وہیں رابطہ کرتا رہا مگر کسی ہسپتال میں وینٹی لیٹر کا بندوبست نہ ہو سکا ہر طرف سے ایک ہی جواب ملتا کہ کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ ہسپتال اس وقت فل ہیں ۔
آخر ایک وقت ایسا کہ ان کی حالت کافی بہتری کی طرف گامزن ہوئی جس پر سب نے اللہ پاک کا شکر ادا کیا مگر شاید اللہ رب العزت کو منظورنہ تھا کہ ان کو مزید مہلت دیتا اور ان کا وقت مقرر آ چکا تھا جس پر وہ اس جان لیوا بیماری جو کہ چند دن پر محیط رہی کی وجہ سے خالق حقیقی سا جا ملے اور ابدی نیند سو گئے ہیں ۔انا للہ و انا علیہ راجعون۔
اللہ ان کو جوار رحمت میں جگہ عطا کرے اور ان کے درجات بلند کرے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔
تمام بہن بھائیوں ، دوست احباب رشتہ داروں ساتھیوں اور قارئین کرام سے التماس ہے کہ ان کی مغفرت کے لیے دعا گو رہیں اور ہم سب کے پیارے جو بھی اس فانی دنیا سے جا چکے ہیں ان کے درجات بلند کرے اور حضور نبی اکرم ﷺ کی شفاعت سے بہرمند فرمائے ۔تمام دوستوں اور ساتھیوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس مشکل وقت میں میرا اور میری فیملی کا ساتھ دیااور حوصلہ کا باعث بنے۔
دوسری طرف اب بھی ہمارے بہت سے دوست ساتھی اور جاننے والے اس گومگو کا شکار ہیں کہ واقعی کورونا ہے تو میں آپ کو یہ کہوں گا کہ یہ واقعی موجود ہے اس وقت دنیا اور خصوصی طور پر پاکستان اور مزید احتیاط کے طور پر لاہور کراچی پشاور اسلام آباد یہ ایسے شہر ہیں جو کہ بہت برے حالات میں ہیں ۔ہر شخص ایک بم پر بیٹھا ہے اور ہر فرد کے ہاتھ میں ایک ماچس کی سلائی موجود ہے اور وہ بھی جلتی ہوئی جس سے وہ پورے گھر علاقے اور شہر کو اس بم سے اڑا سکتا ہے ،خدارا اپنا اپنے چاہنے والوں کااپنے احباب بیوی بچوں پر رحم کریں اور اپنے اپنے گھروں میں موجود رہیں ایک دوسرے سے ایسے ڈریں جیسے دوسرا آپ کو یا آپ دوسرے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں کیونکہ ہمیں خود کو دوسروں سے بچانا ہے اور دوسروں کو اپنے سے بچانا ہے اگر آج ہم اس بات پر عمل پیرا ہو جائیں تو شاید ہم اس وبا سے بچ سکیں ۔حکومتوں کے لیے آپ ایک گنتی ہیں جبکہ اپنے چاہنے والوں کے لیے آپ ایک فرد،ایک خاندان اور آپ کی فیملی آپ کی زندگی ہیں ،اس ساری تحریر کا مقصد سب کو ڈرانا نہیں محتاط کرنا ہے آپ کی زندگی ہے تو سب کچھ ہے ،اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور اپنی حفاظت میں رکھے ۔
ایک بار پھر آپ سے درخواست کروں گا کہ اپنا اپنے پیاروں کا خیال کریں اور اس وبا کے دنوں میں اپنے گھروں تک محدود رہیں تا کہ ہم کسی سے یا کوئی ہمارے سے متاثر ہو کر کسی تکلیف میں مبتلا نہ ہو جائے ۔آپ سے ایک مرتبہ پھر اپنے والد گرامی کی بخشش اور بلندی درجات کی دعا کی اپیل ہے دعاﺅں میں یاد رکھیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button