کالم/بلاگ

وبا کے دن اور ہماری لیبارٹریوں کا مکروہ دھندہ

محمد طیب ممتاز

یار ب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑپا دے
وطن عزیز پاکستان اس وقت بہت مشکل حالات سے گزر رہا ہے جس میں وبائی مرض کورونا اپنے عروج پر ہے اس کی وجہ سے بہت سارے لوگ اپنے پیاروں کو کھو چکے ہیں اور بہت سے افراد اس مرض میں مبتلا ہو کر تکلیفوں میں گھرے ہوئے ہیں اور طرح طرح کی اذیتوں سے گزر رہے ہیں ،میری دعا ہے کہ میرا رب پوری دنیا کے انسانوں کو اس موزی مرض سے جلد چھٹکارا عطا کرے اور اس وائرس سے ہم سب کو محفوظ رکھے ،میرے مالک یہ انسانی فعل ہے یا شیطانی یا کہ تیری طرف سے بھیجا ہوا کوئی عذاب اس کو اپنی جناب سے ختم کر دے تا کہ دنیا کے تمام لوگ سکون اور سکھ کا سانس لے سکیں۔
دیار غیر جسے ہمارے پاکستانی مسلمانوں کی اکثریت کافر ملک گردانتے ہیں میں انسانیت کی اہمیت ہے، نہ کہ مذہبی لسانی اور گروہی یہاں انسانوں کو ہر حقوق میسر ہیں اور کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ کسی دوسرے کا حق مارنے کی کوشش کرے یا اس وبائی دور میں ناجائز منافع خوری یا فراڈ کے ذریعے لوگوں سے رقم بٹورے ۔اور یہ ایک حقیقت ہے جسے ہم سب کو تسلم کرنا ہو گا کہ یہ غیر مسلم لوگ واقعی انسانیت کی اعلیٰ مثال ہیں۔
اس ساری تمہید کا مقصد کسی مغربی ایجنڈے کی تکمیل نہیں اور نہ ہی میں اپنے مسلم بھائیوں کی دل آزاری کرنا چاہتا ہوں ،مگر بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم صرف نام کے مسلمان ہیں ،رمضان شریف آئے تو اشیائے خوردونوش مہنگی ، عیدلاالضحی آئے تو قربانی کے جانور مہنگے ، اور اب اگر ایک وبا پاکستانیوں کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہے تو علاج معالجہ کی سہولیات کے علاوہ اس کے لیبارٹری ٹیسٹوں میںہیر پھیر کر کے لوگوں سے رقم بٹوری جا رہی ہے ، بہت دکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ جی یہ ساری باتیں ہمارے معاشرے میں ناسور کی طرح بھری پڑی ہیں۔
میرے والد گرامی کی وفات کے بعد ہمیں تمام گھر کے افراد کا ٹیسٹ کروانا ضروری ہو گیا تھا جس پر بھائی نے ایک معروف لیبارٹری جس کا نام ابھی میں یہاں مخفی رکھنا ضروری سمجھتا ہوں تا کہ ان کیخلاف قانونی چارہ جوئی کی جاسکے، مگر یہ ایک تلخ اور گھناﺅنی حقیقت ہے جو میں آپ سب سے شئیر کرنے جا رہا ہوں سے 5افراد کا کورونا ٹیسٹ کروائے جو کہ مقررہ دن کو ان تمام افراد کے ٹیسٹ کی رپورٹ بذریعہ واٹس اپ موصول ہوئی اور سب کے سب پازیٹو قرار دیئے گئے یہ خبر ہمارے لیے ایک بہت بڑی مصیبت کا باعث بنی ہر فرد کو ابتدائی طبی امداد اور کورنٹین کرنے کی ایک مہم ہمارے سر آ گئی ،اسی اثناءمیں باقی تمام افراد کی رپورٹ کروانا اور ضروری ہو گیا تھا جس کے لیے میرے کہنے پر بھائی نے جماعت اسلامی کے ہسپتال ثریا عظیم سے رابطہ کیا جہاں سے انہوں نے ہمیں بروقت اور تیز ترین رسپانس دیا اور گھر میں موجود تمام افراد کے کورونا ٹیسٹ کرنے کے لیے ان کی ٹیم کو بھجوایا اور 8افراد کا ٹیسٹ لیا گیا۔چونکہ میرے دل میں اس رپورٹ کے بارے میں شکوک و شبہات تھے اس لیے ان آٹھ افراد میں دو ایسے افراد کو شامل کیا گیا جن کو اس معروف لیبارٹری نے ایک دن پہلے مثبت قرار دیا تھا ۔آج جب ان سب کی رپورٹ موصول ہوئیں تو ہمارے لیے خوشی اور حیرت کی کیفیت تھی کہ ان تمام افراد کی الحمد اﷲ منفی رپورٹ آئیں تھیں ان میں دو افراد وہ بھی تھے جن کو ایک دن پہلے تک مثبت قرار دیا گیا تھا اور انہوں نے کوئی ایسی ادویات بھی استعمال نہیں کیں تھیں کہ یہ کہا جا سکے کہ اس کی وجہ سے یہ وائرس ختم ہو گیا ہے ،یہ سارا واقعہ اور ماجرا بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ بحیثیت قوم ، انسان اور مسلمان ہم پستی کی انتہا تک جا چکے ہیں کیونکہ ہم معمولی رقم ،منافع کی خاطر کسی انسان کی جان لینے کے درپہ ہو جاتے ہیں ایسے افراد ہمارے معاشرے کا بھیانک پہلو ہیں جو کہ ہر سو نظر آ رہے ہیں ،آج اقبال کی روح تڑپ اٹھی ہو گی جب وہ اس ملک خدادادکو جسے اسلام کے نام پر لیا گیا تھا کو ایسے منافع خوروں بدروحوں کے ہاتھوں کھلونا بنے دیکھتی ہو گی ۔
ایک بار پھر سب پاکستانیوں ،سب انسانوں کے لیے صحت کی دعا کے ساتھ اﷲ کے حضور دعا گو ہوں کہ یا اﷲ اس وبا سے تمام انسانوں کو محفوظ رکھ اور ہمیں واقعی ایسی روح عطا کر کہ وہ انسانیت کا درس دے سکیں اور اپنے چند ٹکوں کی خاطر لوگوں کی جانوں سے نہ کھیلیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button