کالم/بلاگ

وہ وعدہ ہی کیا جو وفا نہ ہوا

 

2013ء کے دھرنے میں عمران خان اور علامہ محمد ڈاکٹر طاہر القادری میں انصاف کے لئے اکٹھے ہوئے تھے ۔ عمران خان کا مقصد دھاندلی سے بنائی گئی حکومت کو گرانا تھا اور دوسرا علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کا مقصد سانحہ ماڈل ٹائون میں پنجاب حکومت نے جودن دیہاڑے قتل کئے تھے ان کا انصاف لینا تھا ۔ یہ دونوں سیاسی بھائی ایک ہی کنٹینر پر کھڑے ہو کر تقریر کرتے تھے ۔ اس میں کوئی شک نہیں دونوں نے عوام کو نکالنے میں جو جدوجہد کی تھی اس میں کافی حد تک کامیاب رہے ۔ 114دن کا دھرنے نے حکومت کو کافی حد تک پریشان کیا اگر اس وقت کی اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی حکومت کا ساتھ نہ دیتی تو حکومت ختم ہونے کے قریب قریب تھی آخری سسکیاں لی رہی تھی ۔
قارئین! دونوں کے الزامات درست تھے ۔ دھاندلی کے ساتھ نواز حکومت معرض وجود میں آئی ‘پانچ سال تو پورے کئے لیکن عوام کے لئے کچھ نہ کر پائی سوائے کرپشن کے اور میگا پراجیکٹس کے ، جن میں سڑکیں ، میٹرو بس اور میٹرو ٹرین وغیرہ ان میں کتنی کرپشن ہوئی وہ ایک الگ ایشو ہے جو ابھی چل رہا ہے ۔ 2013ء میں ن لیگ کی حکومت نے سانحہ ماڈل ٹائون کو رچا ۔ صرف اس لئے کہ ڈاکٹر علامہ طاہر القادری کو اس دھرنے سے روکا جائے ۔ میاں شہباز شریف خادم اعلیٰ پنجاب اور اس وقت کے صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے بیریر ہٹانے کے بہانے ماڈل ٹائون میں ڈاکٹر علامہ طاہر القادری کی رہائش گاہ اور مدرسہ پر پولیس کے ذریعے حملہ کیا اور پوری قوم نے دیکھا سارا دن وہ قیامت خیز منظر کہ وہ پولیس جوعوام کے ٹیکسوں پر چلتی ہے اسی پولیس نے عوام کے اوپر سیدھے فائر کر کے ان کو قتل کیا ۔ کئی نمازی بزرگوں کو ان کے کپڑوں سے پکڑ کر سڑکوں پر گھسیٹااور ان کو قتل کیا ۔ کئی نوجوانوں کو گولیوں سے چھلنی کر کے زخمی کر دیا اور سب سے زیادہ جو افسوس ناک بات ہے کہ اس میں عورتوں کا بھی تقدس پامال کیا گیا ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی کربلا کر منظر چل رہا ہے ۔ یزدی حکومت نے حملہ کر دیا ہو اور عورتوں کے منہ میں بندوق کے ساتھ فائر کر کے قتل کیا گیا حاملہ عورتوں کو بھی نہیں بخشا ۔ 14افراد کوقتل کیا گیا اور 100سے زائد افراد کو بری طرح زخمی کیا ، صرف اس لئے کہ اس دھرنے کو رکا جائے لیکن دھرنا پھر بھی نہیں رکا۔
اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم سو رہے تھے جب وہ اپنی نیند سے اٹھے اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف جو کہ آج وہ کورونا کی بیماری میں مبتلا ہیں اور ساتھ میں کینسر کے مریض ہیں وہ میڈیا پر آئے اور کہا کہ اس پر انکوائری کمیٹی بنا دی ہے اگر میرا جرم ثابت ہو گیا تو میں استعفیٰ دے دوں گا ۔ کیسی منطق کی بات کی تھی وزیر اعلیٰ نے ۔ جناب ! حکمران ایسے ہوتے ہیں جیسے حضرت عمر فاروق ؓ راتوں کو اٹھ اٹھ کر روتے تھے اور ہر گھر کو چیک کرتے تھے اور کہتے تھے اگر دریائے دجلہ کے کنارے کوئی کتا بھی مر گیا تو میں اللہ کو کیا منہ دکھائوں گا ۔ اور آج کے حکمرانوں کیسی سفاکی سے مکر جاتے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کیسے حکمران ہے ان کے اسٹیٹ کی پولیس اور ان کی عوام کو دن دیہاڑے قتل کررہی ہے اور ان کو پتہ نہیں ۔کم از کم اس بات پر ہی استعفیٰ دے کر عوام کی عدالت میں پیش ہو جاتے شائد اس امر سے عوام ان کو سچا مان لیتی ۔ہاں یہ بات کی جا سکتی ہے کہ اگر شہباز شریف لندن میں ہوتے تو پھر کہہ سکتے تھے کہ وہ ملک سے باہر ہیں ۔
اللہ کی لاٹھی بڑی بے آواز ہے۔ اللہ فرماتا ہے اگر کسی نے ایک انسان کو قتل کیا تو اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا یہاں پر تو 14افراد کا قتل ہوا کسی حکمران کو اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ انصاف کے لئے بات کرے ۔ ہم لوگ مسلمان کیسے ہیں جو خود اپنی عوام کو قتل کروارہے ہیں کیسے بخشے جائیں گے؟ میرے اس کالم کولکھنے کا مقصد یہ تھا کہ موجودہ وزیر اعظم عمران خان جنہوں نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر کہتے تھے کہ سانحہ ماڈل ٹائون میں ظلم ہوا اور اگر میں وزیر اعظم بنا تو ایک ایک کو سزا دوں گا ۔ تو جناب وزیر اعظم عمران خان آج آپ وزیر اعظم ہیں اور کیا بنا اس وعدے کا آج تو آپ کسی پریس کانفرنس یا کسی جلسے میں سانحہ ماڈل ٹائون کے شہداء کو انصاف دلانے کی بات تک نہیں کرتے ۔ حضور! مسلمان وہی ہے جو اپنی زبان کا پکا ہو ۔آپ نے جو قوم سے وعدہ کیا تھا اس کو پورا کریں اس پر یو ٹرن مت لیں ۔ ورنہ اگلی بار شائد عوام آپ پر بھی اعتماد نہ کریں اور ووٹ نہ دے ۔ سانحہ ماڈل ٹائون کے شہداء کا خون آپ سے انصاف مانگ رہا ہے ان کو انصاف دیں ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button