اہم خبریںاہم خبریںپاکستاندلچسپ و عجیب

پاکستان میں موجود ’’کھوجک ٹنل‘‘ دنیا کی انسانی ہاتھ سے تعمیر ہونے والی لمبی ترین ریلوے سرنگ

لاہور(ویوز نیوز رپورٹ)کوئٹہ سے ایک سو تیرہ کلو میٹر دور ایک پہاڑی سلسلہ ہے جسے خواجہ عمران کا پہاڑی سلسلہ کہا جاتا ہے اس پہاڑی سلسلے میں شانزلہ اور شیلا باغ کے درمیان اس وقت کی دنیا کی سب سے بڑی ریلوے ٹنل ہے جسے کھوجک ٹنل کہتے ہیں۔خوجک سرنگ ( Khojak Tunnel) جسے شیلا باغ سرنگ بھی کہا جاتا ہے،91.3 کلو میٹر (43.2میل) طویل ایک ریل سرنگ ہے جو قلعہ عبداللہ، بلوچستان، پاکستان میں واقع ہے۔ سطح سمندر سے اس کی بلندی1945میٹر(6381فٹ) ہے۔


کھوجک ٹنل کی تصویر 1976ء سے 2005ء تک پاکستانی پانچ روپے کے نوٹ پر چھپی ہوتی تھی،جس کے بعد یہ نوٹ بند کر دیا گیا ۔

یہ ٹنل 14 اپریل 1888ء کو تعمیر ہونا شروع ہوئی اور اس کی تعمیر میں لگ بھگ آٹھ سو مزدور ہلاک ہوئے اور ان میں سے اکثر وہیں آس پاس دفن ہو گئے اس ٹنل میں ایک کروڑ ستانوے لاکھ چوبیس ہزار چار سو چھبیس اینٹیں لگی ہیں مزدوروں کی اول صف کھدائی کرتی جاتی جبکہ پچھلی اینٹیں لگاتی اور ان سے پیچھلی صف پٹڑی بچھاتی جاتی، بھاری مشینری کا وجود نہ ہونے کی وجہ سے کھدائی کا سارا کام انسانی ہاتھوں سے ہوتا۔

مشین کے بغیر انسانی ہاتھوں سے تعمیر ہونے والی منفرد ٹنل ہے، اس کی ایک اور منفرد بات یہ ہے کہ انجینئر نے اس کو دونوں طرف سے کھدوانے کا سوچا اورایسا ہی کیا۔
اب آئیے اس دلچسپ و عجیب ٹنل کے سب سے مزیدار پہلو کی طرف، اس ٹنل کےانجینئر جس نے اس کا سروے کیا تھا، اس کے مطابق اگر پہاڑ کے دونوں طرف سے اس ٹنل کی کھدائی کی جائے تو 3 سال 4 ماہ اور 21 روز بعد دونوں طرف سے کھدائی کرنے والے مزدور ایک دوسرے سے آن ملیں گے۔
اس ٹنل کی تعمیر کے لیے 80 ٹن پانی روزانہ کی بنیاد پہ صرف ہوتا، دن رات کام کرنے کے لیے چھ ہزار پانچ سو چورانوے چراغ جلتے جو پوری ٹنل کو اندر سے روشن رکھتے، مزدوروں کی ریفریشمنٹ کے لیے آج کے انڈیا کے علاقے سے مشہور زمانہ رقاصہ شیلا منگوائی گئی جو رات کو رقص کرتی اور دن کے تھکے ماندے مزدوروں کی تفریح کا کچھ سامان پیدا کیا جاتا۔
5 ستمبر 1891ء کو انجینئرکے لگائے اور بتائے گئے تخمینے کے مطابق اس ٹنل نے مکمل ہوناتھا، مقررہ تاریخ نزدیک سے نزدیک آتی جا رہی تھی اور سرا نہیں مل رہا تھا، چند لوگوں نے افواہیں اڑانا شروع کر دیں کہ مزدور راستہ بھول کر راستے سے ہٹ گئے ہیں، انجینئرنے غلط سروے کیا، ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے کروڑوں ڈوب جائیں گے، مگرانجینئر پر امید تھا۔
مقررہ تاریخ کو دونوں طرف آنے والی اور بچھائی جانے والی پٹڑی کے آخری بولٹ لگنے تھے، دن بارہ بجے تک ٹنل کے اندر سے کوئی خبر نہ آئی، ساری رات بے چینی سے ٹہلتا انجینئر اب بھی ٹہل رہا تھا، اسے لگا کہ آج اس کا علم اسے دھوکا دے گیا، آج اس کا سب سے بڑا خواب پورا ہونے کی بجائے ریزہ ریزہ ہو رہا تھا،انجینئر چپکے سے اٹھا اور پہاڑی کے اوپر اس مقام پر جا پہنچا جہاں پر رات کو شیلا رقص کرتی تھی،وہاں پہنچ کے رکا چند لمحے ٹنل کے دھانے پر نظر ڈالی اور پہاڑی کی چوٹی سے گہری کھائی میں چھلانگ لگا دی، اور تقریبا‘‘ عین اسی وقت دونوں طرف سے کھدائی کرتے ایک دوسرے کی طرف بڑھتے مزوروں کے درمیان ریت کی آخری دیوار بھی گر گئی۔دنیا کی سب سے بڑی خوجک ٹنل مکمل ہو گئی، دونوں طرف کے مزدوروں نے ایک دوسرے سے گلے ملنے کے بعد اپنی اپنی مخالف سمت میں دوڑ لگا دی اور نعرے لگاتے چیختے چلاتےدوسری طرف فاصلہ طے کر کے ٹنل سے باہر نکلے دونوں طرف جشن کا سماں برپا ہو گیا، معاً کسی کوانجینئر کا خیال آیا اور جب تلاش کی گئی تو انجینئر غائب، کافی دیر بعد کسی نے کھائی میں کسی انسانی نعش کی نشاندہی کی اور جب دیکھا گیا تو وہ وہی انجینئر انجنیئر تھا جس نے دنیا کی سب سے بڑی ٹنل کا سروے کیا اور اس کی فزیبلٹی تیار کی اور مقررہ مدت تک اپنی کمٹمنٹ پوری نہ ہونے کی صورت میں ندامت سے بچنے کے لیے پہاڑ کی چوٹی پر سے چھلانگ لگا دی۔

اس ٹنل کے کو کراس کرنے کے بعد شیلا باغ نامی ریلوے اسٹیشن تعمیر کیا گیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button