کالم/بلاگ

پاک فوج کا بھارت کو انتباہ

 

ظہیر احمد سمرا

پاکستان دشمنی بھارتی سیاسی و عسکری لیڈر شپ کی سرشت میں شامل ہے۔ اس کیلئے پاکستان کا وجود ناقابل برداشت اور اسے مٹانے کیلئے وہ ہر حد تک جا چکا ہے اور جارہا ہے۔ مستقبل میں بھی اس سے خیر کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔ پاکستان دشمنی میں یہ اس قدر بائولے ہوکر الزام تراشی کرتے ہیں جو نہ صرف عموماً لغو اور بے بنیاد ہوتے ہیں بلکہ کئی بار تو ایسے الزامات لگائے جاتے ہیں جو مضحکہ اور استہزا میں بھی اپنی مثال آپ ہوتے ہیں جس سے الزام لگانے والوں کی بوکھلاہٹ مترشح ہونے کے ساتھ انکی عقل و دانش کا بھی پول کھل جاتا ہے۔ کبوتر کو آئی ایس آئی کا جاسوس قرار دیا گیا‘ ٹڈی دل کے بارے میں کہا گیا کہ پاکستان کی طرف سے بھارت میں تباہی کیلئے داخل کیا گیا‘ اس سے زیادہ گھٹیا ذہنیت کیا ہو سکتی ہے کہ پاکستان پر کرونا متاثرہ دہشت گردوں کو ایل او سی پار کرانے کا الزام لگایا گیا۔ بعید نہیں کہ پاکستان سے جانیوالی ہوا کو بھی بھارت درانداز قرار دے ڈالے۔ اسکی طرف سے لانچنگ پیڈ کا واویلا کیا گیا مگر ثبوت کوئی نہیں ہے۔ یہ لوگ کس دنیا میں بستے ہیں۔پاکستان دشمنی بھارتی سیاسی و عسکری لیڈر شپ کی سرشت میں شامل ہے۔ اس کیلئے پاکستان کا وجود ناقابل برداشت اور اسے مٹانے کیلئے وہ ہر حد تک جا چکا ہے اور جارہا ہے۔ مستقبل میں بھی اس سے خیر کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔پاکستان نے درست طور پر بھارت کی نریندر مودی سرکار کو متنبہ کیا ہےکہ وہ آگ سے نہ کھیلے کیونکہ نئی دہلی کی مہم جوئی کے سنگین نتائج برآمد ہونگے جن پر قابو پانا ممکن نہیں ہو گا۔ یہ انتباہ بھارت کے متعدد اقدامات، بیانات اور طرزعمل کے منظر نامے میں ایک لحاظ سے وقت کی ضرورت ہے۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ بھارت کے ان اقدامات اور خود ساختہ ڈراموں کی تفصیل بھی بیان کی جنہیں دیکھتے ہوئے یہ یقین کرنے کے سوا چارہ نہیں کہ بھارت پاکستان کے خلاف مہم جوئی پر تلا ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ نئی دہلی کے حکمرانوں کو جب بھی داخلی طور پر مشکل صورتحال کا سامنا ہوا یا 5اگست 2019کو مقبوضہ کشمیر میں کئے گئے اقدامات جیسی پالیسیوں پر عالمی برادری کا سخت ردعمل ظاہر ہوا تو وہ پاکستان کی سرحدوں پر فوجیں جمع کرنے یا کسی اور مہم جوئی کے ذریعے اصل مسئلہ سے بھارتی رائے عامہ اور عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کا طریقہ اختیار کرتے رہے ہیں۔ 1970میں اپنے ہی طیارے ’’گنگا‘‘ کو بھارتی انٹیلی جینس ایجنٹوں کے ہاتھوں اغوا اور تباہ کرنے کے ڈرامے سے لیکر حالیہ ’’پلوامہ ٹو‘‘ تک خود ساختہ ڈرامے رچانے اور المیے تخلیق کرنے کا ایک طویل ریکارڈ ہے جس کا اعتراف بھارتی عدالتوں میں بعض دیگر امور پر مقدمات کے دوران بھارت ہی کے اعلیٰ افسران کی زبانی ہوتا رہاہے۔ ’’پلوامہ ٹو‘‘ میں تو دن کی روشنی میں مشتبہ قرار دی گئی گاڑی کو تباہ کر کے شواہد مٹائے گئے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 5اگست 2019سے جاری لاک ڈائون اور وحشیانہ مظالم کے علاوہ خود بھارت میں مختلف حیلوں سے مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات اور شہریت کے متنازع قانون کے سنگین اثرات پر دنیا بھر سے مذمت کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں، یہاں تک کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی طرف سے بھارتی سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا جا چکا ہے۔ سلامتی کونسل کے بھی کئی اجلاس منعقد ہو چکے ہیں اور امریکی کانگریس برطانوی پارلیمان اور یورپی یونین کے ارکان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے حق میں بیانات کے علاوہ ضروری کارروائیوں کے لئے اپنے اپنے اداروں کے سربراہوں کو خطوط بھی لکھے جاتے رہے ہیں۔ بدھ کے روز ہی اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس کے ترجمان کی طرف سے یہ موقف بھی سامنے آ چکا ہے کہ پاکستان اور بھارت کشیدگی کا باعث بننے والے اقدامات سے گریز کریں۔ وزیراعظم عمران خان بار بار بھارتی وزیراعظم مودی کو پاک بھارت تنازعات مذاکرات کے ذریعے پرامن طور پر طے کرنے کی دعوت دیتے ہوئے فرانس اور جرمنی کی مثال بیان کرتے رہے ہیں جنہوں نے صدیوں طویل دشمنی کو بات چیت کے ذریعے بہترین دوستی میں تبدیل کر لیا۔ بھارتی قیادت کو اس بات پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے کہ جنگ اپنی مرضی سے شروع تو کی جا سکتی ہے مگر اس کے بعد کے معاملات کسی کے اختیار میں نہیں رہتے۔ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر معاونین کے ساتھ انٹر سروسز انٹیلی جینس ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر زکے دورے میں آئی ایس آئی کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے یہ بات دہرائی کہ ملکی سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ اس وقت، کہ بھارت کو چین، نیپال، معیشت اور کورونا سمیت کئی محاذوں پر ہزیمت کا سامنا ہے، پچھلے سال بالا کوٹ اور آزاد کشمیر پر حملے کیلئے بھیجے گئے جنگی جہازوں کی تباہی کے زخم ہرے ہیں اور بھارتی قیادت فالس فلیگ آپریشن کے نام پر مہم جوئی پر تلی نظر آ رہی ہے اقوامِ متحدہ کو امنِ عالم کے مفاد میں فوری طور پر حرکت میں آنا اور موثر کردار ادا کرنا چاہئے۔بھارت سے اٹھنے والی اسلامو فوبیا کی لہر کو پوری دنیا میں محسوس کیا جارہا ہے۔ متنازعہ اور مسلمانوں سے نفرت کا حامل شہریت قانون بھارتی اکثریت کو بھی قبول نہیں ہے اور پھر جس طرح کرونا وائرس کے پھیلائو میں مسلمانوں کو موردِالزام ٹھہرایا جارہا ہے اس سے بھی مودی شرپسند سرکار پر دنیا بھر میں تھوتھو ہورہی ہے۔ بھارت کو ایک نہیں دو نہیں‘ کئی محاذوں پر اپنی حماقتوں کے باعث سبکی کا سامنا ہے۔ اسکے توسیع پسندانہ عزائم کی زد میں چین بھی آیا‘ اسکے ساتھ متنازعہ علاقوں میں تعمیرات شروع کردیں جس کا چین نے منہ توڑ جواب دیا۔ چینی فوج نے بھارتی فوجیوں کی ٹھکائی کرکے کئی کو زخمی کیا اور کئی دھرلئے گئے جن کو بعدازاں چائے پلا کر گیلی پتلونوں کے ساتھ واپس بھجوا دیا گیا۔ اس پر بھی بھارت بے مزہ نہیں ہوا۔ نیپال جسے بھارت تین اور تیرہ میں نہیں سمجھتا‘ وہ بھی بھارت کے کرتوتوں کے باعث اسے آنکھیں دکھاتے ہوئے اپنے مقبوضات خالی کرنے کو کہہ رہا ہے۔ بھارت کیلئے یہ منظرنامہ بھیانک بن چکا ہے جس سے حقائق کا ادراک کرتے ہوئے بھارت محفوظ راستہ نکال سکتا ہے مگر اسے ہر اقدام کے پیچھے پاکستان نظر آتا ہے۔ وہ پاکستان کیخلاف مہم جوئی کے جواز تلاش کررہا ہے جس سے خطے کا امن مزید بگڑ سکتا ہے اور اسکے اثرات عالمی امن پر بھی یقیناً مرتب ہونگے۔ اس کا عالمی برادری کو ادراک ہونا چاہیے۔ وہ بھارت کو پابندیوں کی نکیل ڈال سکتی ہے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے وہ ہمہ وقت بھارت کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کیلئے تیار ہے۔ یہ صرف زبانی جمع خرچ نہیں‘ اسکے مختلف اوقات میں درجن بھر جاسوس ڈرون گرا کر پاکستان نے اپنی طاقت اور تیاری ثابت بھی کی ہے جبکہ 27 فروری 2019ء کا واقعہ بھی زیادہ دور نہیں جب اسکے دو جہاز گرا کر اسکے پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کرلیا گیا تھا‘ بعدازاں خیرسگالی کے جذبے کے تحت اسے بھارت کے حوالے کردیا گیا ۔ بھارت اگر اپنی جنونیت سے باز نہ آیا تو 27 فروری سے بھی بڑا معرکہ مار کر پاک افواج ایک اور سرپرائز دیکر ایک نئی داستان رقم کرنے کو تیار بیٹھی ہیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Check Also

Close
Back to top button